پاکستانی زرائع ابلاغ الیکٹرانک میڈیا کی جانب سے تحریک آزادی کو انتہاپسندی سے جوڑ کر بلوچ قومی جدوجہد کے خلاف غلیظ اور بے بنیاد پروپیگنڈوں کا تشہیر کرنا قابل مزمت اور صحافیانہ زمہ داریوں کی منافی ہے
16.6.2013
بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے بیان میں کہا ہے کہ پاکستانی زرائع ابلاغ الیکٹرانک میڈیا کی جانب سے تحریک آزادی کو انتہاپسندی سے جوڑ کر بلوچ قومی جدوجہد کے خلاف غلیظ اور بے بنیاد پروپیگنڈوں کا تشہیر کرنا قابل مزمت اور صحافیانہ زمہ داریوں کی منافی ہے پاکستانی الیکٹرانک میڈیااور بشمول نام نہاد دانشور اور اینکر پرسنز جو بلوچ آزادی کے حقیقی موقف کا سنجیدگی وسائنسی ا ور زمینی بنیادوں پر تجزیہ کرنے کے بجائے جدوجہد کو انتہاء پسندی اور دہشت گردی سے نتھی کرکے کھل کر تحریک آزادی کے خلاف ڈس انفارمیشن پھیلارہے ہیں جو ان کی منافقانہ اور زرد صحافت کو آشکار کرنے کیلئے سلطانی ثبوت کی مترادف ہے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی میڈیا قبضہ گیر کی حقیقی چہرہ کو جو اب عالمی دنیا پر آشکار ہوچکاہے اس کو چھپانے کی ہر ممکن کوشش سے دنیا کو اندھیرے میں نہیں رکھا جاسکتا عالمی دنیا کے لئے نہ صرف قبضہ گیر بلکہ ان کے دستوں میں شامل گماشتہ میڈیا درباری دانشور اور پیٹ پرست ملا ء اور انسان وحریت دشمن سیاسی رہزن ناقابل بھروسہ بن چکے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ عالمی دنیا قبضہ گیر کی کارپوریٹ ٹی وی چینلز کی حقیقی کردار سے آگاہ ہے کہ ان اشتہار باز ٹی وی چینلز کس حد تک انتہا پسندی کے فروغ کے لئے کام کررہے ہیں اور انسان دوست خیالات کو پھیلانے کے بجائے قبضہ گیر کی خونریزی اور دہشت گردی کے لئے ٹروجن ہارس میڈیا کا کردار ادا کررہے ہیں جب کہ قبضہ گیر کی میڈیا کی جانب سے بلوچ تحریک آزادی کے خلاف پروپیگنڈوں میں شدت لانے والے اینکر پرسنز اوران سے وابسطہ ٹیم ورک کے رزق میں اضافہ کرنے کے لئے یہ کارپوریٹ طریقہ میں عافیت ڈھونڈھ کر ان سکرینز کے پس پردہ اخراجات اور اور اپنی چینلز کی معاشی بندوبست کو ریاستی گماشتگی سے وابسطہ سمجھتے ہیں لیکن ان کا یہ پراکسی رول بین الاقوامی طور پر ان کا مورال گرادیا ہے ترجمان نے کہا کہ قبضہ گیر کی گود میں کھیلنے اور پلنے والی مڈل کلاس کٹھ پتلی حکومت قبضہ گیر کی زبان بن کر بلوچ تحریک کے خلاف زہر اگل کر بلوچ قوم کو نام نہاد امن مزاکرات کے بکواس کے زریعہ آزادی کی جدوجہد چھوڑنے کے لئے جس تکبر کے ساتھ مشورہ دے رہے ہیں ان کا یہ کردار اور قبضہ گیر کے لئے خیر سگالی کے جذبات کا اگر اندازہ کیا جائے تو موجودہ کٹھ پتلی حکومت سابقہ گماشتہ حکومتوں کے کاسہ لیسی کے تمام ریکارڈ توڑکر بلوچ قومی آزادی کے مدمقابل میں کھڑا ہے ان گماشتوں کی جانب سے بلوچ جہد آزادی کی حقیقی موقف پر پردہ ڈالنے کے لئے مذاکرات کا شوشا رچاکر بلوچ گلزمین کے دلالی کے عوض قبضہ گیر کے فیاضیوں کے بدلے ریاستی دہشت گردی پر مہربان ہوجانابلوچ قوم کو مسند اقتدار سنھالتے ہی لاشوں کا تحفہ دینے سمیت بلوچ تحریک آزادی کے خلاف کاروائیوں کو تیز کرنے اور اس میں شدت پیداکرنے کے لئے قبضہ گیر کی مشاورتی عمل کا حصہ بننا اوردوسری جانب لاپتہ افراد کے کیمپ پر حاضری دے کر اپنی گناہوں کو دھونے کا ڈرامہ کرنا بلوچ شہداء کی جدوجہد قربانیوں اور مقصدکی توہین کرکے بلوچ آزادی پسندوں کو پاکستان کے بارے میں سوچنے کا مشورہ دیکر خود کو بلوچ دوست ظاہر کرنا انتہائی درجہ کی منافقانہ حربہ ہیں جو کاؤنٹر انسر جنسی کے علاوہ ہمارے لئے کوئی اور معنی نہیں رکھتے جو زہر کے بوتل پر شہد کے سٹیکر چسپان کرنے کی مترادف ہے ترجما ن نے کہا ہے کہ بلوچ تحریک آزادی ان تمام جھوٹے بتوں اور گماشتوں کو اعصاب شکن شکست سے دوچار کرکے آزادی کے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکاہے جب کہ بلوچ قوم کے لئے آزادی کے ون پوائنٹ ایجنڈا سے ہٹ کرقبضہ گیرکے امن مزاکرات کے نام نہاد اور منافقانہ ایجنڈا قابل قبول نہیں اب مزاکرات کے نام پر یہ طبقہ تحریک آزادی کے خلاف باقائدہ ٹاسک لے کراپنی پوزیشن اور نام نہاد سیاسی بصیرت کا نمائشی کردار ادا کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن ایک چیز واضح ہے کہ بلوچ قومی مسئلہ عالمی ثالثی سمیت اپنی حقیقی آزادی کے موقف اور زمینی حقائق کے بغیر مڈل کلاس کے ان افسانوی اور مصنوعی طریقوں سے حل نہیں ہوگا ور نہ ہی ان ریاستی باجگزار وں کی مسند اقتدارسے بلوچ قوم کا معیار زندگی تبدیل ہوگاجب کہ قبضہ گیر کی جانب سے اب تک غیر سنجیدگی کا مطلب بلوچ نسل کشی اور ریاستی دہشت گردی کو بڑھاوا دینے کی مزموم کوشش ہے اور ہم اس مزاکراتی پیش کش کو اسی دہشت گردی کا ایک جز گردانتے ہیں جو 1948 سے اب تک جاری ہے جس کے زریعہ ہمیں ایک دفعہ پھر پاکستانیت کو قبول کرنے کا پیغام دیا جارہا ہے بلکل اسی طرح قبضہ گیر کی جانب سے 1948 اور1958کے مزاکرات کا تلخ تجربہ ہمارے زہنوں میں ابھی تک تازہ اور گہرے ہیں کہ ان مزاکرات نے ہمیں پاکستانی غلامی کے سوا کچھ نہیں دیا نام نہاد امن مزاکرات کے لئے یہاں ہم ڈاکٹر سبھاش چندربوس کے تاریخی الفاظ دہرانا ضروری سمجھتے ہیں جو فرنگیوں کے ساتھ گاندھی سمجھوتہ کی مزمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ ہمارے اور برطانیوں کے درمیان خون کا ایک دریا اور لاشوں کا ایک پہاڑ ہے ‘‘ یہی الفاظ ہم قبضہ گیر کے لئے مستعار کے طور پر لے کر واضح کرتے ہیں کہ ہم کسی ایسی مزاکرات کا حصہ نہیں بنیں گیں جو مزاکرات کی نام پر خودکشی ہو اور ہماری تاریخ پہچان شناخت اور میراث کو مسخ کرنے کی ایک اور ریاستی حربہ ہو ترجمان نے کہا کہ بلوچ قومی آزادی کی بین الاقوامی حمایت نے بلوچ قوم کی سیاسی اور نظریاتی فتح کے امکانات کو روشن کردی ہے عالمی دنیا کی کھل کر ہماری آزادی کی حمایت بلوچ قومی موقف کو تسلیم کرنے کی مترادف ہے اور قبضہ گیر کی بے بنیاد دعوی اور دہشت گردی پر کاری ضرب ہیں دنیا کے زمہ دار ممالک کو اس بات کا احساس ہوچکاہے کہ قبضہ گیر کا وجود عالمی امن کی لئے خطرہے اور اس کی حوصلہ افزائی اور تعاون سے امن نہیں دہشت گردی کو بنیاد مل رہی ہے اور دہشت گردی اور انتہا پسندی کا موجد قبضہ گیر کو جتنا توانا کیا گیا ہے اس سے انسانیت اور حریتی فکرکمزوراوردہشتگردی کی جنونی خیالات میں وسعت آئی آج قبضہ گیر کے بارے میں عالمی رائے عامہ میں اس قسم کی تجزیہ اور بحث و مباحثہ وسعت اختیار کی ہے جس کو بنیاد بناکر عالمی دنیا قبضہ گیر کی درکار خیراتی ضروریات پورا کرنے سے ہاتھ کھینچ لیا ہے


