×

پشتونخوامیپ کی جانب سے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے رہنماء ماماقدید بلوچ کو بلوچ اسیران رہائی کیمپ سمیت جلانے کی دھمکی اور کیمپ کے خاتمہ کے لئے دباؤ ڈالنے کی شدید الفاظ میں مذمت

پشتونخوامیپ کی جانب سے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے رہنماء ماماقدید بلوچ کو بلوچ اسیران رہائی کیمپ سمیت جلانے کی دھمکی اور کیمپ کے خاتمہ کے لئے دباؤ ڈالنے کی شدید الفاظ میں مذمت

12.6.2013
بلوچ سالویشن فرنٹ مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں پشتونخوامیپ کی جانب سے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے رہنماء ماماقدید بلوچ کو بلوچ اسیران رہائی کیمپ سمیت جلانے کی دھمکی اور کیمپ کے خاتمہ کے لئے دباؤ ڈالنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ پشتون و پنجابی اشتراک سے بلوچ قوم کی نسل کشی کی جارہی ہے اور پشتون و پنجابی کی باہم تعاون سے بلوچ آزادی پسند سپوتوں کو اغواء کرکے ان کی مسخ لاشیں پھینکی جارہی ہے تاکہ اس کے زریعہ سے بلوچ آزادی کے حلقوں کو کمزور کرکے قابض اور گماشتہ دونوں شیر و شکربلوچ وطن پر ابدی حکومت کرسکے لیکن بلوچ قوم کو نہ تو لاشین کمزور کرسکتی ہے اور نہ ہی دھونس دھمکیان کارگرثابت کرسکتی ہے بلوچ قوم نے ان کے خلاف جدوجہد کا وہ اعلی مثال قائم کی ہے کہ وہ کئی پھیڑیوں تک اپنے زخم چاٹتے رہیں گے جب کہ پشتونخوامیپ جیسے ریاستی گماشتہ اور لسانی پارٹی کی جانب سے مسنگ پرسنز کے رہنماء کو دھمکی نے اس پارٹی کے بارے میں بلوچ قوم کے تحفظات و خدشات کو درست ثابت کیا ہے کہ یہ جماعت قبضہ گیر کے پراکسی اور ایجنٹ جماعت ہے اور بلوچ نوجوانوں کو شہید کرنے میں قبضہ گیر کے ساتھ برابر کے شریک ہے ترجمان نے کہا کہ پشتونخوامیپ ریاست کی کٹھ پتلی اقتدار اور گورنری کی کرسی پر نازان بلوچ جہد کاروں کو اسی کرسی کے نام پر دھمکی دینے جیسے گھناؤنے اورمجرمانہ حرکتوں کا ارتکاب کررہا ہے جو ان کی پست زہنیت اور کم ضرفی کو ظاہر کرتی ہے اگر وہ ریاست کی داد ا گیری اور قدم بوسی کو اپنے لئے اتنی فخر سمجھتی ہے تو وہ یہ دادا گیری قلعہ عبداللہ میں جا کر کریں بلوچ وطن میں ان کی بد معاشی اور دادا گیری کے لئے کوئی جگہ نہیں بلوچ جغرافیہ میں بیٹھ کرانہیں ہوش سے کام لینا چاہیے کہ کوئٹہ شال بلوچ قومی جغرافیہ اور زمیں کا حصہ ہے اور اس کے حوالہ سے بلوچ کسی بھی سمجھوتہ کا حصہ نہیں بنے گی پشتونخواء کوئٹہ سمیت بلوچ علاقوں پر اپنی جھوٹی اور مجرمانہ دعویداری بند کریں بلوچ قوم جب ان کے آقا پنجابی قبضہ گیر کے ناک میں دم کردیا ہے تو ان کے مقامی ایجنٹ پشتون سے بھی مقابلہ کرنے کی سکت رکھتے ہیں جب وائس فارمسنگ پرسنز کے رہنما اور ایک شہید کے والد کماش ماما قدیر بلوچ کو پشتونوں کی جانب سے دھمکی دینے کی جرائت کی جاسکتی ہے تو پھر بلوچ قوم کے لئے محمود خان اچکزئی بھی کسی رعایت کی مستحق نہیں یہ الفاظ اس سے دو گناہ اسی انداز سے انہیں واپس کیا جاسکتا ہے ترجمان نے کہا کہ بلوچ جغرافیہ کسی کی باپ کی میراث نہیں یہ بلوچ قوم کی ملکیت ہے مہاجروں کی ووٹوں سے قبضہ گیر کی کٹھ پتلی اقتدار تک رسائی حاصل کرنے والے پشتونوں کے لئے ہم دوٹوک الفاظ میں واضح کرتے ہیں کہ وہ بلوچ قوم کے سامنے اپنی نام نہاد طاقت کا مظاہرہ نہ کریں اگر ان کے خلاف بلوچ قوم میں نفرت اور انتقام کا جذبہ شدت اختیار کرلیا توپھر انہیں ان کی حیثیت اندازہ ہوگی اب تک کی خاموشی اور پشتونوں سے تصادم اور محاز آرائی سے گریز کو بلوچ قوم کی بزدلی نہ سمجھی جاہے اگر مجموعی طور بلوچ قوم ان کے خلاف اپنا فیصلہ دے دیا تو پھر کوئٹہ سمیت بلوچوں کا کوئی بھی علاقہ ان کے لئے نوگو ایریا ہوگا ترجمان نے کہاہے کہ پشتوں قبضہ گیر کے قابل اعتماد ایجنٹ اور ان کی پراکسی وار کا حصہ ہے اور اسے پاکستانی ریاست اپنی آلہ کار بناکر اپنی سازشوں اور گٹھ جوڑ کے لئے بھرپور طریقہ سے بلوچ تحریک آزادی کے خلاف استعمال کررہاہے جب بلوچ قوم کے لئے دشمن کے کیمپ کا حصہ بننے والے اپنے خونی رشتہ ناقابل معافی ہوتی ہے اور جب بلوچ جہد کار قبضہ گیر کے آلہ کار بننے والے اپنے حقیقی بھائی باپ اور قریبی سگے رشتون کو دشمن تصور کرتی ہے تو پھر پشتونوں کوکس طرح استثنی اور چھوٹ حاصل ہوگی کہ وہ کھلے عام تحریک آزادی کی دشمنی کرتے پھریں یا بلوچ جہد کاروں کو دھمکی دینے کی جرائت کریں ترجمان نے کہاکہ قبضہ گیر اور ان کے پشتوں اشرافیہ کو کو انتخابات کی بائیکاٹ کی صورت میں بلوچ آزادی کو ملنے والی مینڈٹ سے سبق سیکھنا چاہیے کہ بلوچ وطن میں ان کے کٹھ پتلی اقتداروں کا سورج غروب ہونے والا ہے اور جس اقتدار پر یہ لوگ نازان دھمکی اور دہشت گردی پر اتر آئے ہیں اس پتلی تماشوں کی بلوچ قوم کے سامنے کوئی اہمیت نہیں یہ وہی پرانے ڈھکوسلے ہیں اور ان کے لئے بلوچ تحریک آزادی کا مکمل خاتمہ یو ٹو پیا ئی خواب ہوگا ۔۔

Previous post

پاکستانی زرائع ابلاغ الیکٹرانک میڈیا کی جانب سے تحریک آزادی کو انتہاپسندی سے جوڑ کر بلوچ قومی جدوجہد کے خلاف غلیظ اور بے بنیاد پروپیگنڈوں کا تشہیر کرنا قابل مزمت اور صحافیانہ زمہ داریوں کی منافی ہے

Next post

ریاستی دہشت گردی بلوچ قومی آزادی کے مطالبہ کو کمزور نہیں کرسکتے مڈل کلاس کے زریعہ بلوچستان میں ریاست کی ساکھ اور تسلط کو برقرار رکھنے کی قبضہ گیر کی مصنوعی اور غیر فطری حربے کارگر ثابت نہیں ہوں گے بلوچ سالویشن فرنٹ