×

پنجگور میں قابض فورسز کی جانب سے سرچ آپریشن گھروں پر چھاپے اور 6بلوچ فرزندوں کے اغواء ریاستی جارحیت اور دہشت گردی کا تسلسل ہے بانک حانی بلوچ زمور آزاد بلوچ

پنجگور میں قابض فورسز کی جانب سے سرچ آپریشن گھروں پر چھاپے اور 6بلوچ فرزندوں کے اغواء ریاستی جارحیت اور دہشت گردی کا تسلسل ہے بانک حانی بلوچ زمور آزاد بلوچ

27.2.2013
بلوچ گہار موومنٹ کے چیئر پرسن حانی بلوچ وائس چیئر پرسن زمور آزاد بلوچ اورجوائنٹ سیکریٹری زیمل بلوچ نے اپنے جاری کردہ مشترکہ تنظیمی بیان میں کہا ہے کہ پنجگور میں قابض فورسز کی جانب سے سرچ آپریشن گھروں پر چھاپے اور 6بلوچ فرزندوں کے اغواء ریاستی جارحیت اور دہشت گردی کا تسلسل ہے جس کا سامنا بلوچ قوم گزشتہ 10سال سے نہیں بلکہ آدھی صدی زائدبیت گئے بلوچ قوم پاکستانی دہشت گردی کا شکار ہے قابض ریاست زبردستی بلوچ قوم کو اپنی نو آبادی بنا کر بلوچ وطن پر قبضہ کرکے بلوچ قوم کا معاشی سیاسی ثقافتی نظریاتی اور مادی استحصال کررہاہے جب کہ بلوچ قوم خالصتا اپنی وطن کی دفاعی جنگ لڑرہی ہے جو کہ فطری ا ور تاریخی اعتبار سے ہرقوم بیرونی حملہ آور ون کے خلاف اپنی دفاع کرتا ہے انہوں نے کہا کہ نہ صرف پنجگور بلکہ بلوچ وطن کے کونے کونے میں ریاستی دہشت گردی جاری ہے آئے روز بلوچ فرزندوں کو اغواء اور شہید کیا جارہائے جس روح سوز حراستی قتل عام کا سلسلہ قابض ریاست نے شروع کیا ہے وہ انسانی تاریخ کی بدترین سفاکیت ہے جب کہ گزشتہ دنوں قلات کے علاقہ پارود شور میں میں بھی اس طرح کی کاروائیاں کی گئی ان کاروائیوں کے پیچھے ریاست کہ جو پست زہنیت ہے کہ بلوچ قوم خاموش رہ کر پنجاب کی غلامی اور قبضہ کو قبول کرے لیکن ایک بات ہم قابض ریاست پر واضح کرنا چاہتے ہین کہ ہماری ماؤں نے اپنی لوریوں میں ہمیں غلامی قبول کرنے کا درس نہیں دیابلکہ ہماری کانوں میں لوریوں کی وہ بازگشت آج بھی ہمیں وطن کے شہداء کے راستہ پر گامزن اور فکر آزادی پر کاربند رہنے کی تلقین کررہے ہیں اور ہماری تاریخ اور اسلاف نے بھی ہمیں غلامی کے خلاف جدوجہد در جدوجہد کی تعلیم دیتی ہے اور آج بلوچ قوم کی جتنی بھی نسل کشی کی جارہی ہے اس کا مقصد بھی یہی ہے کہ بلوچ قوم غلامی جیسے حیوانیت کو قبول کرلے انہون نے کیا ہم حکم بجالانے کے لئے پیدا ہوئے ہیں کہ آج ہمیں پنجابی اور زر خرید ڈیتھ سکواڈ اسلام کے نام پر پاکستان کے ساتھ اور اس کی قبضہ کرنے کئے لئے آمادہ کررہے ہیں کیا پاکستان کا نام اسلام ہے انہوں نے کہا کہ اسلام اور پاکستان دو الگ اور دومتضاد سوچ اور نظریہ کے حامل ہے ان کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑنا اسلام کو دھوکہ دینے کی مترادف ہے انہوں نے کہا کہ اسی طرح پاکستان اور بلوچستان دو الگ الگ خطہ ہے ہماری ہزار سالہ تاریخ اورجداگانہ تہذیب و ثقافت موجوہے پاکستان اور بلوچ وطن کو لازم اور ملزوم کہنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں ہم نہ کھبی ایک تھے نہ کھبی ایک رہیں گے آج بلوچ قوم باشعور ہے وہ زمانہ گزر گیا جب بلوچ قوم کو روڈ نلکہ نالی اور نوکری کی معمولی لالچ کے نام پر غلام بناکر ان کی جذبات مجروح کئے گئے تھے اور ریاست اپنی تمام مشینری قومی آزادی کی آواز کو بانے کے لئے استعمال میں لارہے تھے ووٹ اور الیکشن سے منسلک ضمیر فروش رہبری کے نام پر ردر حقیقت رہزن بن کر بلوچ قومی استحصال میں قبضہ گیر کے معاون بنے ہوئے تھے جو آج بھی ایسے ضمیر فروش اور باج گزارموجود ہے جو کھبی پارلیمنٹ اور کھبی اسلام کو بلوچ قومی آزادی کو روکنے کے لے استعمال کررہے ہیں انہون نے کہا کہ غلامی کے ان تمام زلتوں اور رسوائیوں کا خاتمہ آزادی کی جنگ میں مضمر ہے پاکستانی ریاست کے غلامی اور دہشت گردی سے ہمیشہ ہمیشہ چھٹکارا پانے کئے لئے بلوچ ماں بہن اور بھائیوں کو چاہیے کہ بلوچ قومی نجات کی جنگ میں شامل ہوکر شہداء کے متعین کردہ راستہ پر چلیں اور یہی ایک راستہ ہے جو ہماری آزادی اور بقاء کا راستہ ہے

Previous post

سعیدیوسف بلوچ بحیثیت وائس چیئرمیں بلوچ نیشنل موومنٹ کے بنیادی رکنیت سے استعفی دیدیا

Next post

کوئٹہ میں قابض ریاستی فورسز کی جانب سے بلوچ علاقوں اور آبادیوں میں آپریشن اور قتل عام کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچ علماء کے خلاف کاروائی ایران اور پاکستان کا مشترکہ ایجنڈا ہے میر قادر بلوچ