پنجگور کے علاقہ گرمیں ایرانی قابض فورسزکی جانب سے دراندازی کی مذمت کہ ایرانی قبضہ گیر بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں اس سے قبل بھی ایرانی فورسز کی جانب سے مشرقی بلوچستان میں دراندازی کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں بلوچ سالویشن فرنٹ
26.12.2013
بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی چیئرمین سعید یوسف بلوچ اور مرکزی سیکریٹری جنرل اور بلوچ وطن موومنٹ کے سربراہ میر قادر بلوچ نے اپنے جاری کردہ مشترکہ بیان میں پنجگور کے علاقہ گرمیں ایرانی قابض فورسزکی جانب سے دراندازی معصوم بلوچوں پر فائر کھولنے اور ایک بلوچ شہری کے شہادت سمیت بلوچ عالم دین کے پھانسی کے واقعہ کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق کی بدترین پائمالی اور جنگی جرائم پر مبنی کاروائی قرار دیتے ہوئے اس قسم کے واقعات کی ا قوام متحدہ کی’’ وارکرائم ٹریبونل ‘‘کے زریعہ تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی قبضہ گیر بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں اس سے قبل بھی ایرانی فورسز کی جانب سے مشرقی بلوچستان میں دراندازی کے متعدد واقعات میں بلوچ آبادیوں پر میزائل اور راکٹ داغے گئے ماشکیل تمپ مند اور اب پنجگور میں ایرانی فورسزکی وحشیانہ کاروائیاں ایران کے مکروہ چہرہ کو بے نقاب کرنے کے لئے کافی ہیں ایران میں بڑھتے ہوئے پھانسی کے واقعات کا سلسلہ ہنوز اور بلا روک ٹھوک جاری ہے عالمی ادارے انسانی حقوق اور انسانی قدروں کی تحفظ کے لئے جدوجہد کرنے والے عالمی تنظیمیں ایران کی جانب سے بڑھتے ہوئے انسانی حقوق کی سنگیں پائمالیوں اور جنگی جرائم کے حوالہ سے جانکاری کے لئے براہ راست اپنی ٹیمیں بلوچستان بھیج کر اصل صورتحال رپورٹ کرکے ایران کے گھناؤنے چہرے کو عالمی دنیا کے سامنے آشکار کریں بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران نہ صرف مغربی بلوچستان پرغاصبانہ طور پر قابض ہے بلکہ مسلسل بلوچ عوام پر جارحیت کرکے بلوچ قوم کی تہذیب و اقدار ثقافت شناخت اور تاریخ کو مسخ کرنے کی کوششوں سمیت بلوچ نسل کشی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور آج بھی بلوچ وطن کے طول وعرض مین ایرانی اورپاکستانی جارحیت اور قتل و غارتگری کا سلسلہ اسی شدت کے ساتھ جاری ہے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران اور پاکستان کی جانب سے جنگی جرائم پر مبنی کاروائیوں کا مقصد بلوچ قومی آزادی کی جائز قومی مطالبہ کو دبانے کی کوشش ہے اور جب کہ بلوچ قوم اپنی آزادی کے مطالبہ کے زریعہ بلوچستان کی آزادی کے علاوہ کسی قسم کی بھیک یا کوئی ناجائز مطالبہ نہیں کررہی بلکہ بلوچ قوم اپنی پیدائشی اور بنیادی حق لئے برسر پیکارہیں لیکن اقوام متحدہ اورعالمی اداروں کی جانب سے اب تک خطہ کے اس اہم مسئلہ پر خاموشی غیرسنجیدگی اور بے حسی دونوں قابض ممالک کی حوصلہ افزائی کا سبب بن رہی ہے اور وہ اس موقع سے بھر پور فائدہ اٹھاکر خونریزی کے سلسلہ کو تیز کردیا ہے جو کہ انتہائی تشویش ناک ہے انہوں نے کہاہے کہ اقوام متحدہ جیسے معتبر ادارے کو اپنے چارٹراور قرار دادوں کے پاس و لحاظ رکھتے ہوئے بلوچستان میں دونوں قابض ممالک کی جنگی جرائم کی روک تھام اور بلوچ قومی مسئلہ برائے آزادی کے حل کے لئے اقدامات کرنی چاہیے اب تک بلوچ قومی مسئلہ کا حل نہ ہونا اقوام متحدہ اور عالمی اداروں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہیں جب کہ پوری دنیا اس سے آگاہ ہے بلوچ قوم پچھلے ڈیڈھ سو سال سے آزادی کی نصب العین پر قائم ہرقسم کی قربانیوں سے گزرکر بلوچ قومی جدوجہد کی منطقی انجام کے لئے بے تاب ہیں بلوچ قومی تحریک جو ریاستی کی بدترین مظالم کا سامنا کرتے ہوئے اپنی ہزاروں فرزندوں کو راہ آزادی میں گنواء کر بھی زندہ ہیں اور پوری دنیا کو اپنی موجودگی کا احساس دلارہی ہے آزادی کی بین الاقوامی تحریکوں کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تو طاقت اور جبر کے بلبوتے پر کسی بھی قوم کو غلام نہیں بنایا جا سکتا ہر تحریک انہی مرحلوں سے گزر کر اپنی منزل حاصل کرلی ہیں ایران و پاکستان بھی نوشتہ دیوار پڑھ لیں کہ وہ دہشت گردانہ کاروائیوں کے زریعہ بلوچ قوم کو آزادی کے مطالبہ سے دستبردار نہیں کرسکتے


