ڈیورنڈ بین الاقوامی تسلیم شدہ سرحد ہے پوری دنیا کو معلوم ہے کہ یہ انگریز سامراج کی جانب سے اپنے قبضہ کو وسعت دینے اورانگریز مفادات پر مشتمل کھنچی گئی جبری لکیر ہے جس کو نہ بلوچ قوم تسلیم کرتا ہے اور نہ افغانستان میر قادر بلوچ
6.5.2013
بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی سیکریٹری جنرل میر قادر بلوچ نے اپنے جاری کردہ بیان میں بلوچ اور افغان سرحد پر بے بنیاد پاکستانی دعوی کو مستر د کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان زمینی حقائق کے برعکس ڈیورنڈ لائن کے حوالہ سے دعوی کررہاہے کہ یہ ان کا بین الاقوامی تسلیم شدہ سرحد ہے جب کہ افغانستان کی جانب سے ڈیورڈ لائن کو قبول نہ کرنے کی افغان دعوی حقائق کے مطابق ہے جس کی ہم تائید کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ یہ بلکل غلط اور حقائق کی منافی ہے کہ ڈیورنڈ بین الاقوامی تسلیم شدہ سرحد ہے پوری دنیا کو معلوم ہے کہ یہ انگریز سامراج کی جانب سے اپنے قبضہ کو وسعت دینے اورانگریز مفادات پر مشتمل کھنچی گئی جبری لکیر ہے جس کو نہ بلوچ قوم تسلیم کرتا ہے اور نہ افغانستان اس جبری جغرافیائی تقسیم کو تسلیم کرنے پر راضی ہے دونوں اقوام کی جانب سے اس غیر فطری سرحدی تقسیم کو مسترد کیا گیا ہے اور یہ معاملہ پاکستان اور افغانستان کا مسئلہ نہیں بلکہ بلوچستان اور افغانستان کے بیچ معاملہ ہے یہ تاریخی حقیقت ہے کہ انگریز سامراج نے جغرافیائی طور پر بلوچ وطن کو تقسیم کرکے گولڈ سمتھ لائن اور میکموئن لائن جیسے سرحدی معائدوں کے نام پربلوچستان کا ایک بڑا حصہ ایران اور ایک حصہ افغانستان کے حوالہ کیا انہوں نے کہا کہ افغانستان کے بلوچ علاقہ بلوچ جغرافیائی کا حصہ ہے جس کے حوالہ سے بلوچ موقف واضح ہے جس میں نمروز سمیت ہلمند کے کچھ علاقے اور قندھار کا ریگستانی علاقہ بلوچ جغرافیہ پر مشتمل ہے جب کہ قلعہ سیف اللہ ژوب اور قلعہ عبداللہ یہ افغانستان کے علاقہ ہے جس پر بلوچ قوم کو کوئی دعوی نہیں اور اس معاملہ پر پاکستانی کی جانب سے افغانستان کے ساتھ دعوی کو نہ صرف مسترد کرتے ہیں بلکہ کھلے الفاظ میں اس تاریخی حقائق کو دنیا کے سامنے واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ڈیورڈ لائن کوئی حقیقت نہیں بلکہ انگریز قابضین کی جانب سے کھینچی گئی لکیر ہے اور سب سے بڑھ کر یہ مسئلہ بلوچ اور افغان کا ہے پاکستان کا نہیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے آذادی کے بعد بلوچ اپنے علاقوں کے حوالہ سے افغانستان کے ساتھ یہ معاملہ طے کرنے کیلئے بات چیت کرے گی اور افغان علاقوں پر بھی بلوچ قوم کی کسی قسم کی دخل دعوی نہیں ہوگی انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی اپنی الگ تاریخ اور شناخت ہے بلوچ وطن ایک وسیع رقبہ مشتمل دس کروڑ بلوچ قوم کا وطن اور پہچان ہے انگریز وں نے ہمارے جغرافیہ اورقومی سرحدوں کوتقسیم کیاانہوں نے کہا کہ پاکستان کے زیر قبضہ بلوچستان کل بلوچ جغرافیہ نہیں بلکہ ایرانی بلوچستان افغانستان کے علاقے اور پنجاب اور سندھ میں شامل بعض علاقہ بلوچ جغرافیہ کا حصہ ہے اور ہم اپنے جغرافیہ کے حوالہ سے کسی قسم کی سمجھوتہ نہیں کریں گے


