کردستان کے آزادی کے بغیر مشرق وسطی میں پائیدار امن کا قیام مشکل ہے ترکی کا کردوں کے خلاف وحشیانہ کاروائیاں قابل مذمت ہے۔میر قادر بلوچ
بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی سیکریٹری جنرل اور بلوچ وطن موومنٹ کے سربراہ نے اپنے جاری کئے گئے ایک بیان میں ترکی کی جانب سے کردون پر حالیہ کاروائیوں کی کی سختی سے مزمت کرتے ہوئے کہاہے کہ ترکی کاکردوں پر حملہ کھلی جارحیت ہے ترکی عالمی قوانیں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کردون کے خلاف جارحانہ اقدامات میں تیزی لارہاہے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارون کی جانب سے ترکی کو سختی سے منع کرنے کے بعد ترکی بین الاقوامی قوانین کا لحاظ رکھنے کے بجائے جنگی جرائم پر مبنی کاروائیوں مین اضافہ کررہاہے انہوں نے کہاکہ کردستان کے آزادی کے بغیر مشرق وسطی میں پائیدار امن کا قیام مشکل ہے ترکی سمیت کسی بھی ملک کو یہ حق حاصل نہیں کہ اپنی آزادی کے لئے لڑنے والے قوموں کے خلاف اس طرح کے جارحانہ اقدامات اور خونی کریک ڈاؤن کرکے ان کی آبائی و قومی وطن پر قبضہ کرے کرد عوام بیک وقت کئی نوآبادیاتی طاقتون کے خلاف جنگ لڑرہے ہیں سترھویں صدی سے اپنی آزادی اور الگ مملکت کے لئے جدوجہد کرنے والے کرد عوام آج زیادہ منظم اور مضبوط ہوچکے ہیں انہوں نے اس طویل جنگ میں جس جرائت کے ساتھ قابض قوتوں کے خلاف برسر پیکار رہیں ہیں تاریخ قربانیوں سے بھری ان کی جدوجہد کا اعتراف کرتا ہے بلکہ آزادی کے لئے جدوجہد کرنے والے قوموں کے لئے ان کی کوششیں مثالی اور سرمایہ ہے
جنہوں نے ایران ترکی اور عراقی قبضہ گیروں کے خلاف اپنی جدوجہد کو جاری رکھتے ہوئے آج ایک فیصلہ کن عہد میں داخل ہوچکے ہیں 1991 اور1988میں صدام حسین کردستان کی آزادی کی تحریک کو کچلنے کے لئے وحشیانہ اور جنگی جرائم پر مبنی کاروائیاں کی ان کے خلاف زہریلی گیس کا ستعمال کرکے ہزارون کرد فرزندوں کو شہید کیا لیکن کردون نے جس جرائت مندی کے ساتھ ان طاقتوں کے خلاف جدوجہد کی وہ نوشتہ دیوار ہے آج عراقی مقبوضہ کردستان میں کردوں کی منظم تحریک یقینا آزاد کردستان کی صورت میں ابھر کر سامنے آئے گا تر جمان نے کہاکہ صدام حسین سمیت ترکی اور ایران کی بے تحاشاہ کاروائیاں کردون کی تحریک کو کمزور نہ کرسکے دنیا کی ان طاقتین جو کل تک کرد آزادی پسندوں کو دہشت گردکہتے تھے آج وہی قوتین کردوں کی آزادی کی تحریک کوتسلیم کررہے ہیں جو کردتحریک آزادی کی بہت بڑی کامیابی ہے مغربی ممالک کی کردستان کی آزادی کی تائید ایک بہت بڑی پیش رفت ہے انہوں نے کہاکہ عالمی برادری کرد وطن پر ترکی کے بلجبر قبضہ اور جارحیت کے خلاف کرد تحریک کے کے سیاسی و سفارتی حمایت کرتے ہوئے آزاد کردستان کی موقف کی دفاع و تائید کرے اگر کردستان کی آزادی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی گئی تو مشرق وسطی میں پائیدار امن کا قیام ناممکن ہوگاانہوں نے کہاکہ صدیون پر محیط کرد تاریخی جدوجہد نسل انسانی اور آزادی کے لے جدوجہد کرنے والے قوموں کے مشعل راہ ہے ترکی طاقت اور عسکری بلبوتے پر کردستان کی آزادی کو نہیں روک سکتایہ ترکی کی خام خیالی ہوگا کہ وہ منظم قتل عام اور جنگی جرائم پر مبنی کاروائیوں کے زریعہ کردستان کی آزادی کے ابھار کو روک سکے


