×

13نومبر یوم شہدائے آزادی بلوچ انتہائی عقیدت احترام اور قومی جوش و جذبہ کے ساتھ منایا جائیگا بلوچ اور بلوچستان کے عوام 13 نومبرکو یوم شہدائے آزادی بلوچ کے مناسبت سے بلوچ سالویشن فرنٹ کے کال پر شٹر داؤن ہڑتال کو کامیاب بنائیں بلوچ وطن موومنٹ

13نومبر یوم شہدائے آزادی بلوچ انتہائی عقیدت احترام اور قومی جوش و جذبہ کے ساتھ منایا جائیگا بلوچ اور بلوچستان کے عوام 13 نومبرکو یوم شہدائے آزادی بلوچ کے مناسبت سے بلوچ سالویشن فرنٹ کے کال پر شٹر داؤن ہڑتال کو کامیاب بنائیں بلوچ وطن موومنٹ

25.10.2013
بلوچ وطن موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہاہے13نومبر یوم شہدائے آزادی بلوچ انتہائی عقیدت احترام اور قومی جوش و جذبہ کے ساتھ منایا جائیگا بلوچ اور بلوچستان کے عوام 13 نومبرکو یوم شہدائے آزادی بلوچ کے مناسبت سے بلوچ سالویشن فرنٹ کے کال پر شٹر داؤن ہڑتال کو کامیاب بنائیں تاجر برادری رضاکارانہ طور پر اپنے کاروباری و مالیاتی سرگرمیوں کو معطل کرکے13نومبر کو شہداء کی عقیدت و احترام میں اپنی دکانیں اور کاروباری اداروں کو بند کریں ترجمان نے کہا کہ13نومبرایک تاریخی پس منظر کا حامل دن ہے ڈیڈھ صدی پر مشتمل آزادی کے راہ میں شہید ہونے والے بلوچ سپوتوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے 13نومبر کے دن کا انتخاب نہ صرف ملی یکجہتی کا ثبوت ہیں بلکہ یہ دن 1839 سے قبل کی بلوچ قوم سیاسی و قومی خودمختاری اور آزاد بلوچ مملکت و ریاست کے تاریخ کو دہراتی ہے کہ بلوچ وطن پاکستان کے زیر انتظام مقبوضہ بلوچستان نہیں بلکہ بلوچستان ایک وسیع رقبہ پر مشتمل ہے مغربی بلوچستان سمیت نمروز ہلمند ڈیرہ غازی خان جیکب آباد بھی بلوچ جغرافیائی حدوود کا حصہ ہے اور اسے انگریز نے انتہائی بے رحمی کے ساتھ تقسیم کرکے اپنے توسیع پسندانہ عزائم کو دوام دینے کے لئے بلوچ زمین اور آبادی کو تقسیم کرنے کے ساتھ ساتھ بلوچ فطری حد بندی کی تاریخ کو مسخ کرکے بلوچ سماج میں مختلف ثقافتوں کو مدغم کرکے غیر فطری اقدامات کے زریعہ بلوچ خطے میں ترقی کی نشود نما کو بدتریں انداز میں روک کر یہاں کے خام مال کو بڑے پیمانے پر لوٹااور اپنے کالونیئل مفادات کے پیش نظر بلوچ وحدت کو مختلف ٹکڑوں میں تقسیم کیا ترجمان نے کہا کہ شہید محراب خان اور ان کے ساتھی انگریز ی حملہ آوروں کے خلاف بھرپور انداز میں مزاحمت کرکے اسی دن کو جام شہادت نوش کئے گوکہ انگریز طویل عرصہ تک بلوچستان کو اپنے زیر نگیں رکھ کر بلوچ قوم کو غلامی در غلامی میں دحکیل دیالیکن شہدا کی قربانیوں اور آزادی کے راہ میں گرنے والے مقدس لہو نے آزادی کی فکر و فلسفہ کو توانائی عطاکی ہمیں 13نومبر یوم شہداء بلوچ کو اس تجدید عہد کے ساتھ منانا چاہیے کہ ہم شہداء کے ادھورے مشن کی تکمیل کے لئے آذادی و وت واجہی کے حصول تک آرام سے نہیں بھیٹیں گے انہی شہدائے کی جدوجہد اوربیش بہا قربانیوں کی بدولت آج بلوچ قومی مسئلہ سرد خانہ سے نکل کر عالمی سطح پر اجاگر ہوا ہے اقوام عالم کو بلوچ مسئلہ کے حوالہ سے اپنی زمہ داریوں کو پورا کرکے اقوام متحدہ کے قراردادوں کے مطابق بلوچ قوم کی مسلمہ آذاد حیثیت کوتسلیم کرنا چاہیے

Previous post

بلوچ گہار موومنٹ شال کا یونٹ سازی کے سلسلہ میں اجلاس اجلاس میں تنظیمی امور علاقائی و عالمی سیاسی صورتحال سمیت بلوچ تحریک آزادی میں خواتین کاکردار اورشمولیت پر سیر حاصل بحث کی گئی زمور آزاد بلوچ

Next post

174 سال سے بلوچ قوم کے بہادر فرزند انگریز اور پاکستانی ریاست کے غاصبانہ قبضہ کے خلاف جو لازوال قربانیوں اور انمٹ داستانوں کی تاریخ رقم کی ہیں وہ بلوچ قومی تاریخ کا انمول سرمایہ ہیں13نومبرکو ’’یوم شہدائے آزادی بلوچ ‘‘کی مناسبت سے منایا جائیگا بلوچ سالویشن