174 سال سے بلوچ قوم کے بہادر فرزند انگریز اور پاکستانی ریاست کے غاصبانہ قبضہ کے خلاف جو لازوال قربانیوں اور انمٹ داستانوں کی تاریخ رقم کی ہیں وہ بلوچ قومی تاریخ کا انمول سرمایہ ہیں13نومبرکو ’’یوم شہدائے آزادی بلوچ ‘‘کی مناسبت سے منایا جائیگا بلوچ سالویشن
22.10.2013
بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ کے مشترکہ اتحاد بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری بیان میں کہاہے کہ بلوچ قومی قیادت اداروں تنظیموں اور پارٹیوں کی متفقہ و مشترکہ فیصلہ کی رو سے بلوچ سالویشن فرنٹ کی جانب سے 13نومبرکو ’’یوم شہدائے آزادی بلوچ ‘‘کی مناسبت سے منایا جائیگا اور اس دن کی مناسبت سے 13نومبر کو پورے بلوچ وطن میں شٹر ڈاون ہڑتال اور پہیہ جام ہوگا بلوچ سالویشن فرنٹ کے زیر اہتمام اس دن کے تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالنے کے لئے بلوچ سالویشن فرنٹ میں شامل اتحادی تنظیموں کے زیر اہتمام مشترکہ اور الگ الگ پروگرامز کا انعقاد کیا جائیگاٹرانسپورٹ برادری اور تاجر حضرات تعاون کریں اور شہیدوں کی آذادی کے دن کی مناسبت اور احترام میں اپنی دکانیں بند کریں اور اپنی گاڑیوں کو سڑکوں پر نہ لائیں ترجمان نے کہا ہے کہ 13نومبر ایک طویل تاریخ پس منظر رکھتاہے اور اس دن کو شہداء کا مشترکہ دن منانے کا مقصد اس دن کی اہمیت اور قومی آزادی کی طویل جدوجہدکو نہ صرف اجاگر کرنا ہے بلکہ واضح اور دوٹوک موقف کے ساتھ عالمی برادری کے توجہ بھی مبذول کرانا ہے کہ بلوچ ریاست کو 13نومبر1839سے قبل کی پوزیشن پر بحال کی جائے 13نومبر1839کو پہلی بار انگریز سامراج نے بلوچ وطن پر قبضہ کرکے بلوچ قومی آزادی کو سلب کرکے دنیا کے نقشہ میں موجود آزاد بلوچ مملکت وحکومت پر نہ صرف غاصبانہ قبضہ قائم کی بلکہ انتہائی بے رحمی کے ساتھ بلوچ قومی وحدت کو پارہ پارہ کرکے اپنے توسیع پسندانہ عزائم کے ساتھ بلوچ زمین اور آبادی کو تقسیم کیا اس وقت بلوچ ریاستی امور کے سربراہ میر محراب خان تھیں جنہوں نے انگریز غاصبوں کے خلاف علم آزادی بلند کرکے بلوچ قومی لشکر کے ساتھ بلوچ وطن کی آزادی اور دفاع کے لئے غیر ملکی حملہ آوروں کے خلاف بڑے پیمانے جنگ کا آغاز کیا اور اس قومی جنگ کے دوران شہید محراب خان اور ان کے ساتھی جام شہادت نوش کرکے آنے والے نسلوں کو جدوجہد کے لئے اپنی خون سے روشنی اور راہ دکھاتے ہوئے عظیم تاریخ رقم کرکے انگریز سامراج پر واضح کیا کہ بلوچ قوم اپنی مال و جان قربان کرسکتے ہیں لیکن کسی کی جی حضوری اور تابعداری نہیں کرسکتے اور یہی فکر و فلسفہ بلوچ تاریخ کو قابل فخر بنادیا ہے کہ بلوچ تاریخ میں کسی غیر ملکی حملہ آور کے میزبانی کے روایت کی کوئی گنجائش نہیں اور یہی وجہ ہے کہ174سالہ بلوچ قومی آزادی کی جدوجہد اسی ابال تیاگ اور قربانیوں کے ساتھ جاری ہے محراب خان اور ان کے ساتھیوں کی آزادی کامشن جاری ہے 174سال سے بلوچ قوم کے بہادر فرزند انگریز اور پاکستانی ریاست کے غاصبانہ قبضہ کے خلاف جو لازوال قربانیوں اور انمٹ داستانوں کی تاریخ رقم کی ہیں وہ بلوچ قومی تاریخ کا انمول سرمایہ ہیں مقبوضہ بلوچستان پر ریاستی قبضہ کو 65سال ہوچکے ہیں بلوچ قوم ریاست سے نجات اور آزادی کے لئے بے شمار کوششیں کی ہیں 1948 1958 1973سے لے کر اب تک ہزارون بلوچ فرزند آزادی کے روشن کل کے لئے اپنا آج قربان کرکے اپنے لہو سے آزادی کے چراغ کو ایندھن دے کر روشن کیا ہے1839 سے لے کر اب تک آذادی کے لئے کام آنے وہ تما م سپوت ہمارے قومی ہیرو ہیں جن میں شہید محراب خان شہید خان محمد زرکزئی شہید نورار مینگل شہید بابو نوروز خان اور ان کے ساتھی شہیدمیر سفر خان زہری آغاعبدالکریم خان شہید میر بالاچ خان شہید اکبر خان بگٹی شہید سردار خیر بخش مری شہید میر دلمردا خان شہید علی محمد مینگل شہید لونگ خان مینگل شہید گل بہار بلوچ شہید امیر بخش شہید غلام محمد بلوچ شہید علی شیر کرد شہید کریم بلوچ شہید رحمت بلوچ شہید سہراب بلوچ شہید غلام اللہ شہید واحد بالاچ شہید آغا محمود خان احمد زئی اور ہزاروں معلوم و نامعلوم شہدا ء جنہوں نے آزادی کی صبح کواگر چہ اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا لیکن انہوں نے غلامی کے خلاف بیش بہا قربانیاں دیکر آزادی کی جدوجہد کے وجود کو زندہ رکھاہے ان کی تقلید اور پیروی کرتے ہوئے بلوچ قومی آذادی کا خواب اور شہداء کے ارمانو ں تکمیل آذاد بلوچ مملکت کے شکل میں ابھر کر ضرور سامنے آئے گا ترجمان نے کہا ہے کہ بلوچ شہداء نے کسی قابض کے سامنے سرنگوں ہونے کو قومی توہین سمجھتے ہوئے جوانمردی اور پامردی سے جدوجہد کی آج بلوچ بے پناہ کھٹن مرحلوں سے گزر کر آزادی کی جدوجہد میں مصروف ہیں ہزاروں افراد لاپتہ کئے گئے ہیں سرچ اینڈ ڈسٹرائے پالیسی کے تحت بلوچ قوم کو غلام رکھنے اور آزادی کی جدوجہد کو کریش کرنے کے لئے بلوچ قوم کی بدترین نسل کشی کی جارہی ہیں لیکن ریاست کے ننگی اور بے رحم جارحیت کے باوجود بلوچ قوم کے بہادر اور غیور اور وطن دوست فرزند اٹوٹ طور پر بلوچ کاز سے منسلک ہوکر ریاستی تسلط کے خلاف آذادی کے مشن سے وابسطہ ہیں لیکن پاکستانی ریاست بلوچ قومی آزادی کو اخلاقی طور پر تسلیم کرنے کے بجائے اپنے مکروہ فریبوں اور مسخ شدہ روایتی ہتھکنڈوں سے کام لیتے ہوئے جنگ آذادی کو امن امان اور بلوچ قوم کی محرومی اور پسماندگیوں سے نتھی کرکے جس جھوٹ کا سہارالے کر ڈس انفارمیشن پھیلانے اور غلیظ پروپیگنڈوں کے ز ریعہ اپنے ہچکولے کھاتے وجود کو برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے بلکہ دوسری جانب بلوچ جہد آزادی کو کاؤنٹر کرنے کے لئے اسے دہشت گردی کاٹائٹل دے کر بڑے پیمانے پر بلوچ قوم کا خون بہارہاہے تاکہ بلوچ قوم دباؤ میں آکر نام نہاد پارلیمانی جماعتوں کے مسخ شدہ عمرانی معائدوں اور صوبائی خود مختیاری پر فریب نعروں اور تیسری درجہ کے بے بنیاد اصطلاحوں کو قبول کرکے خاموشی سے ریاست کی غلامی قبول کرے اور دوسری طرف عالمی برادری بھی زچ ہوکرپارلیمانی جماعتوں اور ریاست کی مشترکہ مراسم سے بننے والے فارمولوں کو قبول کرکے بلوچ اور پنجابی تضاد سے غافل ہو ترجمان نے کہا ہے کہ حالیہ جدجہد آزادی اور ہزاروں شہداکے گرتے خون کے قطروں نے عالمی ضمیروں کو جھنجوڑا ہے ریاست کے غلیظ پراپیگنڈے مہذب دنیا کے آنکھوں میں دھول نہیں جھونک سکتے اقوام متحدہ عالمی طاقتیں یورپی یونین اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بلوچ شہداء کے لازوال قربانیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے خطے میں امن بحال کرنے کے لئے آذاد بلوچ ریاست کے قیام کے حوالہ سے بلوچ قومی کوششوں کو تسلیم کرتے ہوئے بلوچ قوم کے طویل المیعاد اور دیرینہ مطالبہ اور بلوچ قومی مسئلہ کے قومی حل آزادی کے موقف کو خطے کے امن کے لئے ناگزیراور واحد حل سمجھتے ہوئے اپنا مثبت کردار ادا کریں عالمی ثالثی و ضمانت کے بغیر دو ط مزاکرات کی ریاستی موقف دیوانہ کا خواب ہوگا


