1948میں اعلان آزادی کے بعد بلوچ وطن پر بلجبر قبضہ کے خلاف آغا عبدالکریم خان نے تحریک آزادی شروع کی آزادی کے اس کوہ گران میں ہزاروں حریت پسند بلوچ فرزندریاستی قبضہ کے خلاف برسرپیکار رہے بلوچ سالویشن فرنٹ
بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ پرمشتمل الائنس بلوچ سالویشن فرنٹ کے ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے بیان میں کہاہے کہ بلوچ جہد آزادی کی تحریک میں آغا عبدالکریم خان کا کلیدی کردار رہاہے 1948میں اعلان آزادی کے بعد بلوچ وطن پر بلجبر پنجابی قبضہ کے خلاف جدوجہد کا علم بلند کرتے ہوئے آغا عبدالکریم خان نے تحریک آزادی کو نئی جہت سے روشناس کراتے ہوئے جدوجہد آزادی کی تاریخی تسلسل کو برقرار رکھ کر پاکستانی ریاست کی خلاف دفاعی جدوجہد پر زور دیا انہوں نے اس سلسلے میں براہ راست بلوچ قوم کی قیادت اور رہنمائی کی زمہ داری اپنے سر لیتے ہوئے ریاستی قبضہ کے خلاف بلوچ عوام میں شعور اور بیداری کے سلسلہ کو تیز کردیا
اور اس کے ساتھ ساتھ بلوچ عوام اور اپنے باسک ساتھیوں کی باقائدگی کے ساتھ تعلیم و تربیت کا سلسلہ شروع کرکے انہیں انقلابی لٹریچر بہم پہنچاتے رہے وہ ایک طویل المیعاد جدوجہد کے لئے حقیقی معنوں میں پختہ نظریاتی اور انقلابی ساتھیوں کا ایک کھیپ تیار کرنے کی کوشش کی آزادی کے اس کوہ گران میں ہزاروں حریت پسند ان کے ہمرراہ داری کرتے ہوئے جدوجہد میں ان کا ساتھ دیا جبکہ ریاست اور ان کے مقامی گماشتہ ان کے خلاف نہ صرف اپنے عسکری وسائل کو بروئے کار لائے بلکہ ان کے خلاف ان ہی کی خاندان سے کئی قسم کی دشمنیوں کو پیدا کیا تاکہ انہیں مکمل گرفت میں لینے کے لئے آسان راستوں کا استعمال کرتے ہوئے ان کی نیٹ ورک کو توڑا جائے آغا عبدالکریم خان نے جس تحریک کی بنیاد ڈالی وہ حادثاتی قسم کی شورش یا بغاوت نہیں تھی بلکہ وہ مکمل آزادی کا ایک نصب العین رکھتے ہوئے اس کے لئے منصوبہ بندی حکمت عملی سائنسی وتنظیموں بنیادوں پر منحصر تھی ترجمان نے کہاکہ انہوں نے ریاست قلات کے وکیل محمد علی جناح اور خان آف قلات کے درمیان خود ساختہ معائدوں اور الحاق کے مجرمانہ ریاستی سوچ کو بلوچ مرضی و منشاء کے بر خلاف قرار دیتے ہوئے کہاکہ غلامی چاہے مسلمانیت کے نام پر یا ہو یا غیر مسلمانیت کے نام پر قابل قبول نہیں ترجمان نے کہاکہ بی ایس ایف بلوچ قومی رہنماء آغا عبدالکریم خان کوریاستی قبضہ کے ہر اول تاریخی جدوجہد خدمات قربانیوں اور رہنمائیوں پر بھر پور انداز میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کرتا ہے غلامی کے اختتام تک آزادی کی جدوجہد اپنی تاریخی سچائی کے ساتھ جاری رہیگی ترجمان نے کہاکہ آغا عبدالکریم خان بابو نوروز خان اور شہید سفر خان کے بعد میر حیر بیار حقیقی معنوں میں ان کے فکر و سوچ پر گامزن ہوکر اس تاریخی تسلسل کو ایمانداری اور قومی جذبہ کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہے میر حیر بیار نے حالیہ ادوار میں قومی جدوجہد کو مربوط و منظم شکل عطاکرنے کے لئے ٹھوس آہنی و نظریاتی و سائنسی بنیادوں پر کام کرتے ہوئے ماضی کے تمام تجربات کو مدنظر رکھ کر طریقہ کار اور حکمت عملی کے نئی جہت کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے قومی رہنمائی میں پیش پیش رہے اسی وجہ سے آج ریاست اور چند دیگر کی جانب سے میر حیر بیار کے خلاف مختلف محازوں کے زریعہ پروپیگنڈہ کیا جارہاہے تاکہ گروہیت اور علاقائی سیاست کو طرہ امتیاز بناکرہیروازم اور خودنمائی کے ساتھ تحریک کو علاقون اور ایریاز میں تقسیم کیا جائے


