27 مارچ کو بلوچ قوم یوم سیاہ کے طور پر منارہی ہے نہ صرف بلوچ وحدت میں اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر منائی جارہی ہے بلکہ بیرونی ممالک تشریف فرما بلوچ کمیونٹی بھی اس دن کو یوم سیاہ کررہے ہیں بلوچ وطن موومنٹ
23.3.2014
بلوچ وطن موومنٹ نے اپنے جاری کردہ مرکزی ترجمان میں کہاہے کہ 27 مارچ کو بلوچ قوم یوم سیاہ کے طور پر منارہی ہے نہ صرف بلوچ وحدت میں اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر منائی جارہی ہے بلکہ بیرونی ممالک تشریف فرما بلوچ کمیونٹی بھی اس دن کو یوم سیاہ کررہے ہیں تمام بلوچ قوم کی جانب سے یوم سیاہ اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ بلوچ غلامی سے شدید نفرت کرتی ہے اور آزادی کے لئے کسی بھی قسم کی قربانی دریغ نہیں کریگی ترجمان نے کہاکہ27 مارچ یوم سیاہ عالمی برادری اور اقوام متحدہ کو ایک موثر پیغام ہے کہ بلوچستان کی آزادی ناگزیر ہے بلوچ آزادی پر سمجھوتہ کرنے کے بجائے آزادی کے قربان گاہ پر ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے تیا ر ہیں عالمی برادری بلوچ قومی مسئلہ کی حساسیت کو سمجھتے ہوئے خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لئے غیر مشروط پر بلوچستان کی آزادی کو تسلیم کریں ترجمان نے بلوچ اور بلوچستان کے عوام سے درخواست کی ہے کہ بلوچ سالویشن فرنٹ کے اپیل پر 27مارچ کو مجوزہ شٹر ڈاؤں ہڑتال کی پاسداری کرتے ہوئے اسے بھر پور انداز میں کامیاب بناکر اپنی دکانیں اور کاروباری مراکز مکمل بند رکھیں اور اس اہم موقع پر پوری دنیا کو پیغام دیں کہ ہماری پسماندگی ترقی تعلیم اور آزادی میں سب سے بڑی رکاوٹ قبضہ گیر ریاست ہے اوربلوچ قوم پاکستان کی شہری اور اس کارعا یا نہیں اور نہ ہم پاکستانی شناخت کو قبول کریں گے بلکہ بلوچ قوم کی الگ پہچان ہے ہم ریاست کے غیر فطری دو قومی نظریہ کے اصطلاح اور بھونڈے نعرے سے قبل ایک الگ اور آزاد ریاست کے مالک تھیں ہماری ایک جداگانہ ملک تاریخ اور تشخص ہے انہوں نے کہا کہ بلوچ قو م کاواحد مسئلہ آزادی ہے بلوچ قوم کسی صوبائی برابری یا شہری حقوق کی جدوجہد نہیں کررہی ہے بلکہ آذادی کے لئے جدوجہد کررہی ہے اور اس کا مسئلہ 27مارچ کے ریاستی قبضہ سے جڑی ہو ئی ہے جو ناجائز غیر قانونی اور عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ترجمان کہا کہ27مارچ یوم غلامی کے دن کی مناسبت سے ہڑتال کو کامیاب بنانے کئے لئے بلوچ قوم اور بلوچستان میں مقیم دیگر اقوام و تمام طبقہ فکر تعاون کریں تاکہ عالمی دنیا کو ایک موثر پیغام دیا جاسکے کہ بلوچ قوم ریاستی قبضہ کو نہ پہلے تسلیم کیا ہے نہ آئندہ تسلیم کریں گے


