×

27مارچ بلوچ تاریخ کے سیاہ ترین دنوں میں سے ایک اہم دن ہے جس دن پاکستان نے بلوچستان میں اپنی فوجیں اتار کرایک آزاد و پرامن؂ اور جمہوریت پسند بلوچ قوم کی آزادی و خود مختیاری کوسلب کی بلوچ سالویشن فرنٹ

27مارچ بلوچ تاریخ کے سیاہ ترین دنوں میں سے ایک اہم دن ہے جس دن پاکستان نے بلوچستان میں اپنی فوجیں اتار کرایک آزاد و پرامن؂ اور جمہوریت پسند بلوچ قوم کی آزادی و خود مختیاری کوسلب کی بلوچ سالویشن فرنٹ

؂24.3.2013

بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپنڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ پر مشتمل الائنس بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری بیان میں کہاہے کہ 27مارچ کو غیر فطری ریاستی قبضہ کے خلاف بلوچستان بھر میں یوم سیاہ اور شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوگی بلوچ اور بلوچستان کے عوام سے درخواست ہے کہ تاریخی ہڑتال کو کامیاب بناکر ریاستی قبضہ کے خلاف بھر پور انداز میں یوم سیاہ منائیں اور اپنی دکانیں تجارتی کاروباری مالیاتی مراکز سمیت تعلیمی ادارے بند رکھیں یاد رہے کہ 27مارچ ( یوم غلامی) کے موقع پر کسی نے بھی معمول سے کاروباری سرگرمیان جاری رکھیں تو اپنے نقصان کا زمہ دارخود ہوگا ترجمان نے کہاکہ ہڑتال اور یوم سیاہ کا مقصد عالمی برادری کا توجہ مبذول کراناہے کہ بلوچ قوم پاکستان کے غیر قانونی قبضہ کو مستر دکرتے ہوئے مکمل آزادی چاہتے ہیں اور 27مارچ بلوچ تاریخ کے سیاہ ترین دنوں میں سے ایک اہم دن ہے جس دن پاکستان نے بلوچستان میں اپنی فوجیں اتار کرایک آزاد و پرامن؂ اور جمہوریت پسند بلوچ قوم کی آزادی و خود مختیاری کوسلب کرتے ہوئے بلوچ قوم کو بلجبر غلامی میں مبتلاء کردیا جس سے غلامی کی طویل دور کا آغاز ہوابلوچ قوم نے اپنے غیر معمولی جدوجہد اور بے پناہ قربانیوں کے زریعہ ریاست کے بلجبر تسلط کو کھبی تسلیم نہیں کیا اور اب بھی پناہ مظالم اور ہزاروں قیمتی جانوں کے قربانی اور دیگر تکالیف کے باوجود بھی بلوچ قوم ریاست کے ناجائز قبضہ کو سرے سے تسلیم نہیں کرتا ترجمان نے کہاکہ پاکستانی باج گزاروں کی جانب سے بلوچ آزادی پسندوں کے لئے ناراض بلوچ کا استعمال ریاست کی بھوکلاہٹ ہے بلوچ ناراض نہیں بلکہ اپنی آزادی چاہتے ہیں بلوچ مسئلہ کا حل پاکستانی آئین کے دائرے میں نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے بین الاقوامی قرار دادوں کی روشنی میں حل ہوگی بلوچستا ن پاکستان کا حصہ نہیں بلکہ 27 مارچ کو فوجی جارحیت کے زریعہ آزاد بلوچ ریاست پر پاکستانی آئین نافذ کرکے جبر اقبضہ کرلیا گیا عالمی برادری اور اقوام متحدہ بلوچ قوم جدوجہد کی تاریخی پس منظرمسلمہ تاریخی موقف اور بلجبر قبضہ کو مد نظر رکھتے ہوئے قابض ریاست کی جانب سے بلوچ نسل کشی اور انسانی حقوق کی بدتریں پائمالیوں پر یو گو سلاویہ اور روانڈا کی طرز پر اقوام متحدہ کی زیر نگرانی کریمنل ٹریبونل تشکیل دیکر قبضہ گیر ریاست کو تحقیقات کے دائرہ میں لاکر انہیں عالمی عدالت میں بلائی جائے اور بلوچستان میں ان کی جنگی جرائم پر مبنی کاروائیوں پربین الاقوامی قوانیں کے مطابق مقدمات چلاکر بلوچستان کی آزاد و خود مختار حیثیت تسلیم کیا جائے ترجمان نے جیئے متحدہ محاز کے راہنماء اور سندھی قوم دوست رہنماء شہید بشیر قریشی کی بھائی شہید مقصود قریشی اور ان کے ساتھی شہید سلیمان ودھیوکی بہیمانہ قتل کی شدید الفاظ میں مزمت کرتے ہوئے کہاہے کہ ریاست سندھی آزادی کو تحریک کو کچلنے کے لئے سندھی جہد کاروں کی قتل عام کے سلسلہ میں تیزی لارہی ہے اس سے قبل شہید بشیر قریشی کی پر اسرار قتل سمیت جسقم کے آزادی کے متوالوں کی قتل شہادت ایک ہی سلسلہ کی کڑی ہے تاکہ سندھی عوام آزادی کی تحریک سے دستبرادار ہوجائین ترجمان نے آزادی پسند سندھی عوام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سندھو دیش کی آزادی کے لئے جسقم اور دیگر آزادی خواہ جماعتوں کے ہاتھ مضبوط کرکے ریاستی خیمہ بردار پارٹی پیپلز پارٹی کی سندھ دشمنیوں کو سمجھے اور حریت پسند شہید رہنماؤن کی فکر و فلسفہ کو اپناتے ہوئے سندھو دیش کی آزادی کو ممکن بنائیں جس طرح بنگلہ دیشی عوام نے اپنے بے پناہ کوششوں اور قربانیوں کے زریعہ ریاستی قبضہ سے نجات حاصل کرلی بلوچ اور سندھی اقوام بھی حصول آزادی کے لئے باہمی یکجہتی کے ساتھ ریاست کو اپنے اپنے سرزمینوں سے بے دخل کرنے کے لئے آزادی کے صفوں میں رہیں سندھی اور بلوچ شہداء کی لازوال قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گے

Previous post

27 مارچ کو بلوچ قوم یوم سیاہ کے طور پر منارہی ہے نہ صرف بلوچ وحدت میں اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر منائی جارہی ہے بلکہ بیرونی ممالک تشریف فرما بلوچ کمیونٹی بھی اس دن کو یوم سیاہ کررہے ہیں بلوچ وطن موومنٹ

Next post

کیچ کے علاقہ پیدارک میں شہید نصیر کمالان کے گھر پرحملہ ریاستی فورسز کی جانب سے فضائی اور زمینی کاروائیاں چادر و چاردیواری کی پائمالی بلوچ فرزندوں کی شہادت اور اغواء نماء گرفتاریان بلوچ کش پالیسیوں کا تسلسل ہے بلوچ سالویشن فرنٹ