کوئٹہ ( پ ر) بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری بیان میں شہید رسول بخش مینگل شہید کمبر قاضی شہید کلیم بلوچ شہید بانک شہناز بلوچ شہید ظفر سمالانی شہید عبدالخالق بلوچ شہید شریف مری شہید بہار مرید بگٹی اور دیگر بلوچ شہداء کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاہے قومی جہد کو طاقت اور جبر سے نہیں روکا جاسکتا بنگال میں جو بے رحمانہ تجربہ کیا گیا ان کی نسل کشی کی گئی لیکن بنگالی قوم کو ان کی مقصد سے دور نہیں کیا جاسکا. آج بلوچ قوم کی جہان نسل کشی جاری ہے وہاں بلوچ قوم کو نفسیاتی طریقہ سے مارنے کی کوشش کی جارہی ہے حقائق کو تسلیم نہیں کیا جارہاہے بلوچ قوم کی تاریخ کو مسخ کیا جارہاہےایسے موقع پر بلوچ شہداء خراج تحسین کے لائق ہے ان کی بہادری اور جرائت کو سلام کیا جاتاہے کہ جنہوں نے نفسیاتی اور جان سے مارنے کی ان پالیسیوں کے خلاف بلوچ قوم کی رہنمائی کی ان میں بیداری لائی ان میں آزادی کے جذبہ اور مطالبہ کو پیش کیا جنہوں نے اپنی زندگیوں کو آنے والے آزاد وخوشحال بلوچ مستقبل کے لئے قربان کیا جو نہ کسی لالچ میں آئے اور نہ کسی جبر و تشدد کے آگے سر جھکائے وہ سختیوں اور تکالیف کے باوجود اپنے لہو سے بلوچ قوم کے آنے والے نسلوں کے مستقبل کو روشن دیکھنے میں سرفروشی کے مثالیں قائم کئے آج بلوچ تاریخ کا سر فخر سے بلند ہے کہ بلوچ تاریخ شہداء کے ایسے فہرست سے بھری پڑی ہے جن کا کردار وعمل نہ صرف بلوچ قوم کے لئے بلکہ دنیا کے دیگر آزادی کے جہد کار اقوام کے لئے مشعل راہ ہے ایک وقت تھا کہ ہم دوسری اقوام کی جہد کار قومی رہنماہوں کی تاریخ و کردار کا مطالعہ کرتے اور ان کی روشنی میں جدوجہد کرتے لیکن آج بلوچ شہداء نے جو وراثت چھوڑی وہ دوسرے قوموں کے لئے نشان راہ ہے تاریخ میں انہوں نے جو جگہ اور مقام بنالیا ہے وہ لائق فخر ہے ترجمان نے کہاکہ نوآبادیاتی طاقتوں نے دنیا مین جہان بھی تسلط قائم کی جبر و تشدد کے زریعہ اپنی حکمرانی اور اجارہ داری قائم کرنے کی کوشش کی طاقت کا بے رحمانہ اور اندھا دھند استعمال کیا گیا حق اور آزادی کے لئے اٹھنے والے ہر آواز کو خاموش کیا گیا لوگوں کی جد وجہد آزادی میں شعوری طور پر شرکت سے روکنے کے لے جبر کا راستہ اختیار کیا گیاآج بھی بلوچ قوم کو ایک نوآبادیاتی وار کا سامنا ہے بلوچ قوم اپنی علم عمل اور فکری صلاحیتوں کے ساتھ نوآبادیاتی نظریات کے خلاف سائنسی انداز میں جدوجہد کررہی ہے
