×

بلوچ سالویشن فرنٹ کے کال پر یوم شہداء بلوچ کے حوالہ سے بلوچستان بھر میں ہڑتال دکانیں بینک دفاتر تعلیمی ادارے بند اور کوئٹہ پریس کلب کے سامنے مظاہرہ شہداء نے آزادی کی جدوجہد کو اپنانصب العین بناکرجدوجہد کی ۔ بلوچ سالویشن فرنٹ

بلوچ سالویشن فرنٹ کے کال پر یوم شہداء بلوچ کے حوالہ سے بلوچستان بھر میں ہڑتال دکانیں بینک دفاتر تعلیمی ادارے بند اور کوئٹہ پریس کلب کے سامنے مظاہرہ شہداء نے آزادی کی جدوجہد کو اپنانصب العین بناکرجدوجہد کی ۔ بلوچ سالویشن فرنٹ

14.11.2013
بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری بیان میں کہا ہے کہ بلوچ سالویشن فرنٹ کے کال پر یوم شہدائے آزاد ی کے حوالہ سے بلوچستان بھر میں شٹرڈاؤن ہڑتال ہوئی بلوچستان بھر میں دکانیں دفاتر بینک اور تعلیمی ادارے بھی بند رہے مختلف علاقوں سے آمدہ اطلاعات کے مطابق تربت ہوشاب خاران قلات زہری سوراب مستونگ منگچرکوئٹہ خاران نوشکی مند زعمران ناصر آباد جیونی پسنی گوادرحب چوکی خضدار پیشکان سربندن دالبندیں بلیدہ پنجگور مچھ اور نوشکی میں مکمل ہڑتال رہی تاریخی ہڑتال کی کامیابی پر بلوچ قوم دوست رہنما میر حیر بیار مری بلوچ آذادی خواہ جماعتیں بلوچ نیشنل وائس بلوچ نیشنل موومنٹ شہید غلام محمد گروپ بلوچ ورنا موومنٹ بلوچ حریت کونسل بگٹی محبان وطن اوربلوچ علما فورم کی حمایت اور بھرپور تعاون کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ قوم دوست رہنماء اور بلوچ آزادی کے لئے جدوجہد کرنی والی تنظیموں نے یکجہتی کا اعلی مثال قائم کرتے ہوئے بلوچ سالویشن فرنٹ کی کال کی حمایت کی جس پر ہم ان کے مشکور ہیں اس کے ساتھ ہی بلوچ اور بلوچستان کی عوام اور تاجر برادری اور تمام طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے آزادی پسند عوام کا ممنوں ہیں کہ جنہوں نے بلوچ سالویشن فرنٹ کی کال پر لبیک کی اور بلوچ سالویشن فرنٹ کے زیر اہتما م شہداء کی یادمیں منعقدہ مظاہرہ میں اپنی شرکت کو یقینی بنا کر بلوچ دوستی اور وطن دوستی کا ثبوت دیا ہم پرنٹ میڈیا اور بلوچ نیوز چینل وش کا بھی شکریہ اداکرتے ہیں کہ جو کہ یوم شہداء بلوچستان کے حوالہ سے اپنی صحافتی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے ہماری اپیل اور خبروں کو مناسب کوریج دے کر ہڑتال کو کامیاب بنانے میں اپنی کوششیں بھی شامل کی ترجمان نے کہاکہ شہداء کے قومی دن کے مناسبت سے بلوچ قوم نے بلوچ وطن کی آزادی کے تاریخی مطالبہ اور جدوجہد کے دوران شہید کئے گئے ان تمام معلوم و نامعلوم جملہ شہداء جو قومی غلامی سامراج اور اس کے کالونیل ایجنٹوں کے خلاف جدوجہد کی اور آزادی کے عوض میں اپنی جان کے پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنی آخری سانسوں کو بھی بلوچ قوم کی آزادی اور خود مختاری کے لئے خاک وطن کے سپرد کرکے بلوچ آزادی تاریخ کو شاندار بنادیاان کو بھر پور انداز میں خراج عقیدت پیش کیا گیا ترجمان نے کہاکہ ہم شہدائے آذادی کے قومی دن کی موقع پوری دنیا کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ بلوچ وطن پاکستان اور ایران کا فطری حصہ نہیں ہماری اپنی تاریخ شناخت زبان ادب اور الگ جغرافیہ وحدت ہیں ہم پنجابی اور فارسی کی غلامی قبول نہیں کرسکتے بلوچستان پاکستان کا اٹوٹ انگ نہیں بلکہ بلوچستان ایک وسیع جغرافیہ پر مبنی ہزروں سال سے دنیا کے نقشہ پر وجود رکھتا ہے ہمارے تاریخی پاکستان جیسے نومولود غیر فطری اور غیر نظریاتی ریاست سے بہت قدیم ہیںآج پاکستان اور ایران ہماری شناخت زبان اور ثقافت کو مٹارہے ہیں ہمارے وسائل لوٹا جارہاہے اگر ہمیں آزادی مل جائے تو ہم ایک ہی سال میں دنیا کے ترقی یافتوں اور معاشی طور پر مستحکم ملکوں میں شامل ہوں گے ہمارے بچے تعلیم اور سا ئنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں کسے سے پیچھے نہیں رہیں گے آج پاکستان ہمارے وسائل لوٹ کر ہمیں پسماندیہ اور غیر تعلیم یافتہ بنارہے ہیں ہے ہمیں سائنس اور تکنیک سے نابلد کرنے کی سازش کی جارہی ہے ہماری آزاد ی عالمی دنیا پر قرض ہے ہمارے آزادی ناگزیر ہے ہم آج کے دن کے مناسبت سے پاکستانی اور ایرانی قبضہ گیرریاستوں کو تاکید کرتے ہیں کہ وہ فوری طورپر بلوچستان سے دستبردار ہوجائیں

دریں اثنا ءبلوچ سالویشن فرنٹ کے زیر اہتما م یوم شہدائے آزادی کے مناسبت سے بلوچ خواتین نے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرہ کیااحتجاجی مظاہرہ میں سینکڑوں کی تعداد میں خواتین نوجوان بچے اور بزرگ شریک تھیں مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور اور بینر اٹھائے ہوئے تھے جن پر شہدائے بلوچستان کے حوالہ سے مختلف نعرے درج تھیں مظاہرین نے مظاہرین ہاتھوں میں کتبہ اور شہداء کے تصاویر اٹھائے ہوئے تھے مظاہریں شہدائے آزادی اور بلوچ قومی آزادی کے حوالہ سے مختلف نعرے لگائے مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی جوائنٹ سیکریٹری اورگہار موومنٹ کے مرکزی چیئر پرسن بانک حانی بلوچ اور مرکزی وائس چیئر پرسن زمور آزاد نے خطاب کرتے ہوئے بلوچ وطن پر جان نچاور کرنے والے جملہ شہداء کو سرخ سلام پیش کرتے ہوئی کہاکہ شہداء نے آزادی کی جدوجہد کو اپنانصب العین بناکرپوری زندگی قومی آزادی کے مقدس جدوجہد کی وکالت کی انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کا بہتریں طریقہ یہی ہے کہ ان کے چنے ہوئے راستہ میں اپنی جان و مال اور اپنی تما م حیثیت کو لگالیں اور ان کے عظیم راستہ اور مشن سے تجدید عہد کریں آج ہم سب ایک آواز ہوکر شہداء بلوچستان کو خراج عقیدت پیش کررہے ہیں اور پورے دنیا میں بلوچ اپنی شہداء کے مشترکہ برسی منارہے ہیں انہوں نے مظاہرہ سے خطاب کرتی ہوئے کہی کہ پاکستانی قبضہ گیر ریاست پر واضح کرتے ہیں کہ یہ تحریک شہیدوں کی خون کی پیداوار ہے بلوچستان ہمیں کسی نے پلیٹ میں نہیں دیا اور نہ ہی ہم پنجاب کے کسی حصہ کا مطالبہ کررہے ہیں کہ اسے ہم کاٹ کر دیا جائے بلکہ ہم تو اپنی سرزمیں کی آزادی اور خود مختاری کی بات کررہے ہیں جو کہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ہم قطعا پاکستان کا حصہ نہیں اور نہ ہی پنجابی ریاست سے ہماری کوئی تاریخی زمینی سرحدی اور موسمی رشتہ ہے ہماری اور ان کے تاریخ ثقافت زبان ادب رہن سہن بلکل الگ ہیں ہم کسی بھی طور ایک نہیں اور نہ ہی ہم نام نہاد دوقومی نظریہ یا پاکستانی جعلی شناخت کو اپنی ہزاروں سالہ قومی شناخت پر ترجیح دیں گے بلوچ قوم 174سال سے آزادی کے جدوجہد کررہی ہے انگریز قابضین نے 1839میں بلوچستان پر قبضہ کیا اور بلوچستان کی خود مختاری اور آزادی کو سلب کرکے بلوچ ریاستی امور کے سربراہ خان محراب خان اور ان کے ساتھیوں کو ایک فوجی حملہ کے صورت میں شہید کرکے بلوچستان کی ہزاروں سالہ آزادی اور خود د مختاری کو سلب کی گئی بلوچستان کو تقسیم کیا گیا گولڈسمتھ اور ڈیورڈ لائن جیسے مصنوعئی لکیرون کو کھینچ کر بلوچ آبادی اور زمیں کو تقسیم کیا گیا گورے تو بلوچستان کی آزادی کا اعلان کرتے ہوئے چلے گئے لیکن ان کے حاشیہ بردار قابض ریاست بلوچ سرزمین پر جبری الحاق کے زریعہ قبضہ کرکے بلوچ قومی آزادی کو سلب کی اسی دن سے آج تک بلوچ قوم پر ریاست پاکستان جو ظلم اور جبر ڈھائی جارہی ہے وہ ہندوستان میں جنرل ڈائر اور ہٹلر کے ظلم اور جبر کو دہرانے کی مترادف ہے بلوچ فرزندوں کو اٹھاکر غائب کیا جارہاہے سالوں ازیت کے بعد ان کی لاشیں مسخ کرکے پھینکی جاتی ہے جو ازیتیں پاکستانی ٹارچر سیلوں میں بلوچ آزادی پسندوں کو دی جاتی ہے وہ گوانتا ناموبے اور ابو غریب جیل میں بھی کسی کے ساتھ بھی ایسا سلوک نہیں کیا جاتا جو بلوچ بھائیوں اور بزرگوں سے کیا جاتا ہے ہمارے کئی لوگ پاکستانی خفیہ اداروں کے تفتیش و کرب سے دوچار ان کے حراست میں ہیں ہم کئی سالوں سے آواز اٹھارہے ہیں کہ ہمارے جتنے بھی قیدی ہیں وہ دہشت گرد نہیںآزادی پسند ہیں اگر ریاست میں اخلاقی جرائت ہے تووہ ہمارے بھائیوں کو اس طرح غائب نہ کرے بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں شہید نہ کرے ان کی آواز خاموش نہ کرے بلکہ ان کی موقف عالمی سطع پر کسی بھی بین الا قوامی عدالت میں ریکارڈ کیا جائے ان کا ٹرائل کیا جائے کہ وہ کیا چاہتے ہیں ان کی جدوجہد کا مقصد اور نصب العیں کیا
ہے لیکن ریاست ایسا کرنے سے خوف زدہ ہے

Previous post

کلیم اللہ موسیانی ایک قوم دوست اورعام شہری ہیں ان کے والد میر عبدالکریم موسیانی کا قومی جہد میں اہم کردار رہاہے قاتلانہ حملہ ریاستی جارحیت ہے بلوچ سالویشن فرنٹ

Next post

13 نومبر یوم شہدائے آزادی آج بلوچستان بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوگا تمام تجارتی کاروباری اور مالیاتی مراکز بند رہیں گے تاجر برادری اور بلوچ عوام سے تعاون کی اپیل کی جاتی ہے دوپہر 12بجے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے مظاہرہ بھی ہو ۔ بلوچ سالویشن فرنٹ