ریاست بلوچ وطن کو آرمی کیمپ میں تبدیل کردیا ہے خضدار خاران نال گریشہ پنجگور مشکے آواران ڈیرہ بگٹی صحبت پورسمیت بلوچستان بھر میں ریاستی دہشت گردانہ کاروائیوں کا سلسلہ جاری ہے بلوچستان انڈیپینڈس موومنٹ
3.12.2013
بلوچستان انڈیپینڈس موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری بیان میں کہا ہے کہ ریاست بلوچ وطن کو آرمی کیمپ میں تبدیل کردیا ہے خضدار خاران نال گریشہ پنجگور مشکے آواران ڈیرہ بگٹی صحبت پورسمیت بلوچستان بھر میں ریاستی دہشت گردانہ کاروائیوں کا سلسلہ جاری ہے گزشتہ ایک مہینہ کے دوراں سینکڑوں بلوچوں کو اغواء کرکے لاپتہ کردیا گیا ہے جبکہ بلوچ فرزندوں کے حراستی قتل عام میں بھی تیزی لائی جارہی ہے اور تواتر کے ساتھ لاپتہ بلوچوں کے مسخ لاشیں پھینکی جارہی ہے مسلم بلوچ اور جاوید بلوچ کی حراستی قتل و شہادت اس بات کا بین ثبوت ہے کہ ریاست اپنی دہشت گردانہ کاروائیوں میں کمی کے بجائے شدت لاکر صورتحال کو مزید خونریز کردیا ہے تازہ تریں واقعات میں کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر سے اغواء نماء گرفتاریوں کے تحت مہراب بلوچ اسلم بلوچ منگل بلوچ لطیف بلوچ سمیت کئی بلوچوں کو حراست میں لیا گیا ہے ترجمان نے کہا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی بدترین پائمالی کے ساتھ ساتھ جاری بلوچ قوم کی جمہوری و سیاسی احتجاج کو بھی ڈھٹائی کے ساتھ کچلا جارہاہے لاپتہ افراد کے حوالہ سے احتجاج کے تمام زرائع استعمال کرنے کے باوجود ریاست اپنی دہشت گردانہ پالیسیوں کو لمحہ بھر تبدیل کئے بغیر انتہائی بے رحمی کے ساتھ بلوچ آبادیوں پر حملہ آور ہوکر اپنی قبضہ کودوام دینے کے لئے بلوچ قوم کے خلاف نفسیاتی و اعصابی جنگ میں شدت لارہی ہے ترجمان نے کہاکہ انسانی اقدار کی قدر و منزلت کی دعوی کرنے والے عالمی ادارے بلوچستان میں جاری بلوچ نسل کشی اور سنگیں انسانی بحران پر مکمل سکوت اختیار کرکے خاموشی اور بے حسی کا مظاہر ہ کررہے ہیں اقوام متحدہ کے اپنے چارٹر اور منشور کی خلاف ورزی ہورہی ہے لیکن فی الحقیقت وہ قابض کے خلاف انسانی حقوق کی دفاع سمیت اپنی بنیادی اغراض میں ناکام نظر آتا ہے بلوچ قوم نے اپنے جدوجہد کے زریعہ عالمی دنیا کو اپنی دہائی پہنچاچکی ہے لیکن اس کے باوجود قابض ریاست کے گھناؤنے پالیسیوں اور جارحیت پر عالمی اداروں کی زبان بندی ہمارے لئے انتہائی افسو س ناک لمحہ ہے اقوام متحدہ اور دیگر تنظیمیں صرف خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے عالمی دباؤ نہ ہونے کی وجہ سے ریاست کی عدلیہ اور پارلیمنٹ کی من مانی جارہی ہے مجرم خود منصف اور گواہ کی مصداق بن چکی ہے جہاں لاپتہ افراد کی تعداد کو نہ صرف 35 ظاہر کی جارہی ہے جبکہ ہزاروں کی تعداد میں حراستی قتل عام کے واقعات کو صرف دوران حراست دو بلوچوں کی طبعی موت سے منسوب کرکے ریاستی دہشت گردی پر پردہ ڈالا جارہا ہے جبکہ روزانہ کے بنیادوں پر اغواء اور شہید ہونے والوں کا کہیں دور تک ذکر نہیں جیسے لاپتہ افراد کا معاملہ ایک پرانی داستان یا کہانی ہے یا موجود ہ واقعات سے لاپتہ افراد معاملہ کا کوئی ر بط اور تعلق نہیں عدلیہ کی گیدڑ بھبکیاں بھی صرف اور صرف عالمی دنیا کو جھوٹی انصاف کا نمونہ پیش کرکے ریاست کی مکروہ چہرہ کو چھپانے کی کوشش ہے اس کے علاوہ عدلیہ کو بلوچ قوم کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں یہ محض دکھاوے ہیں عدلیہ انتہائی شاطرانہ انداز میں بلوچ قوم کی سادھ لوحی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرکے ریاست کو تحفظ دینے کی کوشش کررہی ہے ترجمان نے کہا کہ بلوچ لاپتہ افراد کا معاملہ بلوچ قومی مسئلہ کے حل سے جڑے ہوئے ہیں جو بلوچ قوم کی آزادی ہے لاپتہ افراد کا معاملہ کوئی الگ مسئلہ نہیں اسے قومی آزادی کے مسئلہ سے دانستہ الگ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور ریاست اسے اپنے خیمہ بردار جماعتوں کے زریعہ اس پروپیگنڈہ کو ہوا دینے میں خود بھی شامل ہیں بلوچ قوم کو آج جس صورتحال کا سامنا ہے وہ تاریخ کے بدتریں حالات ہیں عالمی دنیا کو بلوچ قومی آزادی کی موقف کی حمایت کرنی چاہے تاکہ بلوچ ایک آزاد ریاست کے طور پراپنی کردار کرسکیں


