×

شہدائے قلات نے اپنے قربانی اور عمل سے ثابت کردیا کہ بلوچ تحریک آزادی کی جنگ کسی بین الاقوامی قوت کی پراکسی وار یا ایجنڈا کا حصہ نہیں بلکہ یہ بلوچ قوم کی آزاد تاریخی ریاست کی بحالی، قومی شناخت و تشخص وحدت اور سا لمیت کی جنگ ہیں بلوچ سالویشن فرنٹ

شہدائے قلات نے اپنے قربانی اور عمل سے ثابت کردیا کہ بلوچ تحریک آزادی کی جنگ کسی بین الاقوامی قوت کی پراکسی وار یا ایجنڈا کا حصہ نہیں بلکہ یہ بلوچ قوم کی آزاد تاریخی ریاست کی بحالی، قومی شناخت و تشخص وحدت اور سا لمیت کی جنگ ہیں بلوچ سالویشن فرنٹ

6.1.2014
بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ پر مشتمل الائنس بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے کہا کہا ہے کہ شہدائے قلات نے اپنے قربانی اور عمل سے ثابت کردیا کہ بلوچ تحریک آزادی کی جنگ کسی بین الاقوامی قوت کی پراکسی وار یا ایجنڈا کا حصہ نہیں بلکہ یہ بلوچ قوم کی آزاد تاریخی ریاست کی بحالی، قومی شناخت و تشخص وحدت اور سا لمیت کی جنگ ہیں قومی آزادی کے حالیہ دہائی میں شہدائے قلات نے آزادی کا علم بلند کرتے ہوئے بلوچ قوم کو حصول آزادی کے لئے نہ صرف راستہ اورتنظیم سے روشناس کیا بلکہ قومی آزادی کی جدوجہد کے تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے بلوچ وطن کی آزادی کو یقینی بنانے کے لئے بے شمار قربانیان دیکر آزادی کے شمع کوروشن کئے تر جمان نے کہاکہ شہدائے قلات شہید گل بہار بلوچ شہید واحد بلوچ اور شہید صوب دار بلوچ کوان کی غیر معمولی اور بے لوث قربانیوں پر خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ان کی قربانیان اور فکر وآدرش وطن کی آزادی تک ہمارے لئے راہنمائی اور روشنی بن کر ابھرے ہیں تاریخ ان کی کردار کو ہمیشہ سنہرے حروف کے ساتھ دہرائی گی آج ان کے راہ عمل پر چلنے والے ہزاروں نظریاتی سنگت جہد آزادی کے کھٹن و تکلیف دہ مراحل کو بخوشی طے کرکے آزادی کے عظیم مقصد سے منسلک ہے ترجمان نے کہاکہ ریاست اور ان کے خیمہ بردار اور ضمیر فروشوں نے دشمن کے پروپیگنڈوں کا حصہ بن کر شہدائے قلات کو راہ کا ایجنٹ قرار دینے اوررائے عامہ کو آلودہ کرنے کے بھر پور کوشش کی لیکن ان کی ساری مکروہ کوششیں ناکام ہوئے اور ان کے تمام تر پروپیگنڈہ خاک میں مل گئے شہدائے قلات نے ثابت کردیا کہ یہ غیرت مند بلوچ قوم کی روایت نہیں کہ وہ کسی بیرونی قوت کی جنگ کا حصہ بن کر لڑیں بلکہ یہ قابض کی اپنی فطرت اور زہنیت ہے کہ وہ بین لاقوامی قوتوں کی پراکسی وار کا حصہ بن چکے ہیں ترجمان نے کہا کہ شہدائے قلات نے بلوچ قوم کو آزادی حاصل کرنے کا جوڈھنگ اور تدبیر سکھایا آج بلوچ قوم انہی طریقہ پر عمل پیر ا ہوکر دشمن کو سیاسی اقتصادی اور معاشی طور پر مفلوج کردیا ہے ترجمان نے کہاہے کہ بلوچ قومی مسئلہ کا حل آزادی ہے یہ بلوچ قوم کی سیاسی سفارتی اصولی اور بین الاقوامی موقف ہے بلوچ قوم عالمی برادری پر واضح کردیا ہے آزادی کے بغیر بلوچ قوم کسی بھی غیر فطری حل یا نقطہ کو قبول نہیں کریگی چاہے اس کی کوئی بھی قیمت دینی پڑے ہمیں غلامی قبول نہیں پاکستانی ریاست آج جس نقطہ پر آکر مزاکرات و مصالحت کی بات کرکے بلوچ قوم کے ساتھ جس نمائشی ہمدردی کا اظہار کررہاہے وہ نام نہادروڈمییپ بلوچ قومی مسئلہ کا قطعا حل نہیں بلکہ غلامی کو مضبوط کرنے کے حربہ اور ہنر ہے ریاست نوشتہ دیوار پڑھ لیں جس ڈاکٹرائن کے ساتھ ریاست بلوچ قوم کو جدوجہد آزادی سے دستبرداری کی بھونڈی مطالبہ کررہی ہے یہ اس کی نفسیاتی اور زہنی شکست خوردگی کی علامت ہیں ہم نہ ریاست کی جبری قبضہ کو قبول کریں گے اور نہ ہی بلوچ وطن پر پاکستانی ریاست کا استحقاق کا تسلیم کریں گے بلوچ وطن کی آزادی قومی تاریخی اور قانونی فریضہ ہیں عالمی برادری اور بین الاقوامی کو ہماری اصولی موقف کا ساتھ دینی چاہیے اور ان کی جانب سے بلوچ تحریک آزادی کو سفارتی سیاسی اور اخلاقی سطح پر معاونت ملنی چاہیے

Previous post

بلوچ قومی آزادی کا حصول نیشنلزم میں مضمر ہے دنیا کے تمام مظلوم اور مقبوضہ اقوام اپنی دفاع اور جدوجہد کے لئے نیشنلزم کی بنیاد پر لڑی ہے میر قادر بلوچ

Next post

قلات میں بلوچ بچیوں کی بے رحمی کے ساتھ قتل اور ان کی لاشیں پھینکنے کا عمل قابل مذمت اور انسانی وقا ر کی منافی عمل ہے ایسے گھناؤنے واقعات کا ابھار بلوچ قومی و قبائلی روایات کے منافی ہے بلوچ سالویشن فرنٹ