قومی آزادی کے حالیہ دہائی اور مرحلے میں شہدائے قلات نے آزادی کی وہ مشعل روشن کی جس سے بلوچ قومی آزادی کے متوالے جہد کار ہمیشہ رہنمائی و روشنائی حاصل کریں گے
11.2.2013
بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی چیرمین اور بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ کے چیئر میں سعید یوسف بلوچ نے اپنے جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ بلوچ قوم اپنی جدوجہد کا تاریخی مرحلہ طے کررہی ہے بلوچ سپوتون اور قومی جہد کاروں کی قربانی جفاکشی شہادتیں اور بے لوث جدوجہد نے آزادی کی منزل کو قریب تر کرکے پاکستانی ریاست کو اعصاب شکن دباؤ اور اضطراب میں ڈال دیا ہے قومی بیداری ،جدوجہد کی شدت اور بین الاقومی حمایت نے آزادی کے حصول کو ممکن بنادیا ہے پنجابی ریاست تادیر بلوچ وطن پر اپنا قبضہ برقرا نہیں رکھ سکتے انہوں نے کہا کہ پارلیمانی باج گزار پارٹیاں الیکشن کے لئے ہاتھ مروڑ رہے ہیں جوآزادی کے دشمن کا کردار ادا کررہے ہیں انہیں بلوچ عوام اپنا دوست اور خیر خواہ نہ سمجھیں جو بلوچ قوم کی تقدیر کے ساتھ کھیل رہے ہیں ان کی منافقت مصلحت موقع پرستی اور دغابازی کی وجہ سے بلوچ آج تک غلامی کی زندگی گزارر ہے ہیں بلوچ عوام ان کی الیکشن مہم مین ان کا ساتھ نہ دیں بلکہ ان کا راستہ روکیں اور اور ان کے خلاف گھیرا تنگ کرکے اپنی تمام تر صلاحتیں اور توانائیاں قومی آزادی کی جدوجہد کے لئے بروئے کار لائیں انہوں نے کہا کہ جب ہم اس ریاست کا حصہ نہیں تو اس کے الیکشن میں حصہ لینے کا سوال پیدا نہیں ہوتا بلوچ وطن پاکستان کا یونین یا قانونی صوبہ نہیں ہے بلکہ مقبوضہ علاقہ ہے ہم اپنی مرضی اور رضامندی سے اس میں شامل نہیں ہوئے بلکہ جبری الحاق کے زریعہ ہماری وطن پر قبضہ کیا گیاانہوں نے کہا کہ پارلیمانی جماعتیں بکاؤ مال ہے اگر انہیں زرہ بھر بلوچ قوم و وطن سے ہمدردی ہوتی تو یہ بلوچ قوم کو معمولی مراعات نلکہ نالی پانی بجلی گیس اورغلاموں جیسے حقیرنوکریوں کے آسرے میں غلامی کا درس نہ دیتے انہوں نے کہا کہ بلوچ قوم کو غلام رکھنے میں مرکزی کردار انہی پارلیمانی جماعتون کا ہے وہ ریاست کے لئے ڈھول سپاہی کا کردار ادا کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ وہ بلوچ جن کا بلوچ سرزمین کے وسائل پر پورا پورا حق بنتا ہے کیا ان کی زندگی کی قیمت ایک معمولی نوکری یا ایک وقت کی روٹی ہے بلوچ قوم کو آذادی دشمن پارلیمانی جماعتون کی کردار سے چشم پوشی کرنے کے بجائے ان کی دھوکہ اور فریب کا ادراک کرکے آنے والے قابض ریاستی الیکشن کے خلاف کھلے عام قومی نفرت کا اظہار کرتے ہوئے ان سے بائیکاٹ کرکے عالمی دنیا کو واضح پیغام دین کہ بلوچ قوم کا مقصد اور منزل صرف اور صرف آزادی ہے اوریہ حق ہمیں جنیوا کنونشن سمیت اقوام متحدہ کے چارٹر انسانی اور بین الاقومی قوانین بھی دیتے ہیں کہ ہم اس وحشیانہ اور غیر منصفانہ نظام سے چھٹکارا حاصل کر کے آزادی سے زندگی بسر کرسکیں


