بلوچستان توتک میں دریافت ہونے والے اجتماعی قبروں کی بین الاقوامی سطح پر آزادانہ تحقیقات کیا جائے ہزاروں کی تعداد میں بلوچ فرزندجبری طور پر لاپتہ ہے بلوچ سالویشن فرنٹ
27.1.2014
بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ پر مشتمل الائنس بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے بلوچستان میں دریافت ہونے والے اجتماعی قبروں کی بین الاقوامی سطح پر آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ ہزاروں کی تعداد میں بلوچ فرزندجبری طور پر لاپتہ ہے اور ان کے مکمل کوائف اور پروفائل اقوام متحدہ کے لاپتہ افراد بابت تحقیقاتی کمیٹی کے پاس موجود ہے اور انسانی حقوق کی عالمی اور علاقائی تنظیموں کی سالانہ رپوٹوں کی صورت میں ہزاروں کی تعداد میں بلوچ لاپتہ فرزندوں کا زکران کے ریکارڈ کاحصہ ہے ترجمان نے کہاکہ بلوچستان توتک کے علاقہ میں اجتماعی قبرکی دریافت اور بڑی تعداد میں مسخ لاشوں کی برآمدگی عظیم انسانی المیہ اورریاستی دہشت گردی کا منہ بولتا ثبوت ہے باور کیا جارہاہے کہ توتک میں اجتماعی قبروں کی موجودگی انہیں لاپتہ افراد کی ہے جنہیں جبری طور پر اغواء کر کے ازیت و تفتیش کے تکلیف دہ مرحلوں سے گزار کردوران حراست شہید کرکے بے گور وکفن اجتماعی قبروں میں دفنایا گیا ترجمان نے کہاکہ بلوچ آزادی کی تحریک کو کچلنے اور جبری قبضہ کو برقرار رکھنے کے لئے قابض ریاست لاشوں کے انبار لگارہے ہیں ہزاروں کی تعداد میں بلوچ فرزندوں کی جبری گمشدگی اور حراست کے دوران قتل عام کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بعداب گمنام اجتماعی قبروں کی موجودگی ریاستی دہشت گردی کو پوری طرح بے نقاب کرتی ہے انسانی حقوق کونسل ایمنسٹی انٹرنیشنل ہیومیں رائٹس واچ اور دیگر انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں بلوچستان میں گمنام اجتماعی قبروں کی لرزہ خیز انکشافات کا فوری نوٹس لے کر بلوچ نسل کشی اور قتل عام کے سنگین واقعات پرریاست کے خلاف جنگی جرائم کے عالمی عدالت میں مقدمات چلانے کے لئے اپنی کوششوں کوبروئے کار لانا چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ بلوچ نسل کشی اور جاری خونریزی کی روک تھام کے لئے آزاد بلوچ ریاست کے قیام کو ناگریز طور پربلوچ مسئلہ کا واحد حل سمجھتے ہوئے قبضہ گیر پر بلوچستان کے آزادی کے حوالہ سے بھرپور انداز میں دباؤ ڈالنا چاہیے ترجمان نے کہاکہ بلوچستان میں جاری ریاستی دہشت گردی اور اجتماعی قبروں کی دریافت کے واقعات پر اقوام متحدہ سلامتی کونسل اور دیگر عالمی اداروں کی خاموشی اور مصلحت پسندی کا مظاہرہ انتہائی افسوس ناک ہے ریاست کے گھناؤنے جرائم پر اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کو چشم پوشی کا مظاہرہ کسی صور ت نہیں بھی کرنا چاہیے بلکہ اس سلسلے میں منصفانہ طور پر تحقیقات کا دائرہ کار بڑھا کر اقوام متحدہ کو بلوچستان میں فی الفور مداخلت کرنی چاہیے جبکہ پاکستانی ریاست کی طرف سے انسانی حقو ق کی تمام تر خلاف ورزیاں تسلسل اور دیدہ دلیری کے ساتھ کیا جارہا ہے اس کے باوجود اقوام متحدہ کیوں خاموش ہے اگر یہ اجتماعی قبریں کسی اور ممالک میں دریافت ہوتی تواس وقت تک دنیا کے افق پراقوام متحدہ اور عالمی اداروں کی جانب سے کہرام مچ جاتاتھا اور معاملہ عالمی عدالت تک جا پہنچتالیکن بلوچستان میں ہونیوالے ان غیر انسانی واقعات پراقوام متحدہ سلامتی کونسل اور دیگر عالمی اداروں کی چشم دید خاموشی حیران کن ہے عالمی برادر ی کو چاہیے کہ وہ ریاست کے بہیمانہ قتل و غارت اور مکرو عزائم کے خلاف بلوچ قو م کے ساتھ بآواز بلند ہوکر احتجاج ریکاڑد کریں ترجمان کہاکہ ریاست کی جانب سے اجتماعی قبروں کی انکشاف کو دبانے کی کوشش سمیت عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کے لئے ان اجتماعی قبروں کو لاپتہ افراد کے بجائے قبائلی واقعات سے جوڑنے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے اس سلسلے میں ریاست کی نمائندون کی جانب سے عالمی میڈیا پر بیان سراسر غیر منطقی اور بے بنیاد ہے ریاستی سطح پر ان گمنام قبروں کی تصدیق ریاست کے اپنے ایوانوں میں بھی ہلچل مچادی ہے جسے دبانے کے لئے ایک منصوبہ بند سازش کے تحت واقعہ کو دوسری رخ دینے کی کوشش کی جارہی ہے تاہم بلوچ قوم ان سے پوچھنے پرحق ہے کہ اگر یہ اجتماعی قبریں بلوچ لاپتہ افراد کی نہیں تو ہزاروں کی تعداد میں اغواء ہونے وہ لاپتہ افراد کہاں گئے ا نہیں زمین نگل گئی یا آسمان اور ریاست ان کے بارے میں معلومات فرائم کرنے سے کیوں ہچکچاہٹ محسوس کررہی ہے ترجمان نے کہاکہ عالمی دنیا زمینی صوت حال سے آگاہ ہے بہیمانہ پروپگنڈوں سے عالمی رائے عامہ کو گمراہ نہیں کیا جاسکتا اقوام عالم اور عالمی برادری کے ریاست کے اس طرح بیانات کی کوئی ساکھ نہیں


