بلوچ عوام بلوچ گہار موومنٹ کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے ہونے والے مظاہرہ میں اپنی بھرپور شرکت یقینی بناکرتوتک اجتماعی قبروں کی دریافت و بر آمدگی ا ور بلوچستان میں انسانی حقوق کی س پائمالیوں کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرائیں۔ بلوچ گہار موومنٹ
30.1.2014
بلوچ خواتین کی تنظیم بلوچ گہار موومنٹ کے جاری کردہ ایک مرکزی اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ بلوچستان توتک کے علاقہ میں اجتماعی قبروں کی دریافت ریاستی بدمعاشی اور بلوچ نسل کشی کے خلاف ہفتہ یکم فروی سہ پہرتین بجے کو کوئٹہ (شال) پریس کلب کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرہ کا اہتمام کیا گیاہے تمام قوم دوست و وطن دوست عوام سمیت بلوچ تنظیموں اور جماعتوں سے مظاہرہ میں بھر پور شرکت کی اپیل کی جاتی ہے اعلامیہ میں مزید کہاگیا ہے کہ توتک میں اجتماعی قبروں کی دریافت انسانی المیہ ہے جو ریاستی بدمعاشی کو پوری طرح بے نقاب کرتی ہے ریاستی خفیہ ادارے بلوچ فرزندوں کو اغواء کرکے انہیں شدید زہنی اور جسمانی ازیت دیکر دوران حراست شہید کرکے انہیں اسی طرح نامعلوم اجتماعی قبروں میں دفن کیا ہے یہ اجتماعی قبروں کی انکشاف کا اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے اگر چہ سینکڑون کی تعداد میں لاپتہ افراد کو شہید کر نے اور بے گور کفن دفن کرنے کا یہ واقعہ پہلی دفعہ سامنے آیا لیکن اگر بلوچستان کے مختلف علاقوں میں اس طرح کے دیگر بیابانوں اور ویرانوں کی بین الاقوامی نگرانی میں تلاشی کا سلسلہ شروع کرکے تحقیقات کی جائے تو خدشہ ہے کہ اس طرح کے اجتماعی قبروں کے وسیع سلسلے بر آمد ہونگے جو اب تک نظروں سے اوجھل رہی ہے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ بلوچ قوم آزادی کی جدوجہد کو کچلنے کے لئے قبضہ گیر اپنی تمام تر فوجی اور عسکری طاقت کا بے دریغ استعمال کررہی پوری دنیا کو معلوم ہے کہ دریافت ہونے والے ان گمنام قبروں میں مدفوں لوگ کون ہے لیکن ریاست حقائق سے منہ موڑرہی ہے حالانکہ2010کے بعد سے اب تک ہزاروں کی تعداد میں بلوچ فرزندوں کو جبری طور پر اغواء کرکے نامعلوم اور زیر زمین ٹارچر سیلوں میں مقید رکھنے کے بعد شہید کیا گیا ہے اعلامیہ میں ایک دفعہ پھر بلوچ عوام اور دیگر وطن دوست اقوام سے سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ یکم فروری کے توتک سانحہ کے حوالہ سے احتجاجی مظاہرہ میں اپنی بھر پور شرکت کو یقینی بناکر قوم دوستی انسان دوستی اور وطن دوستی کا ثبوت دیں


