بلوچ گہار موومنٹ کے زیر اہتمام بلوچستان کے علاقہ توتک میں اجتماعی قبروں کی دریافت کے خلاف مظاہرہ صورتحال سے مکمل جانکاری کے باوجود اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں خاموش تماشائی بنے ہوئےہیں ۔ بلوچ گہار موومنٹ
1.2.2014
ہفتہ یکم فروری کوبلوچستان کے علاقہ توتک میں اجتماعی قبروں کی دریافت کے خلاف کوئٹہ پریس کلب کے سامنے مظاہرہ مظاہرہ کا اہتمام بلوچ گہار موومنٹ نے کیا تھا مظاہرہ میں بلوچ گہار موومنٹ اوربلوچ آزادی خواہ تنظیم بلوچ نیشنل وائس کی خواتین اور بچوں نے بڑی تعدادمیں شرکت کی مظاہریں کے ہاتھوں میں پلے کارڈ تھے جن پر توتک واقعہ کے خلاف مختلف نعرے درج تھے مظاہریں نے توتک میں گمنام اجتماعی قبروں کی موجودگی پر ریاستی جارحیت اور انسانیت سوز کاروائیوں کے خلاف شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ بلوچ وطن میں جاری ریاستی دہشت گردانہ کاروائیوں اور انسانی حقوق کی بدتریں خلاف ورزیوں کے سلسلہ وار واقعات کو روکنے اور آذاد بلوچ ریاست کے قیام کے لئے اپنی اثر و رسوخ استعمال کرکے اجتماعی قبروں کی بر آمدگی پر پاکستانی ریاست کو جنگی جرائم کی عدالت میں طلب کرکے اجتماعی قبروں سے ملنے والے گمنام بلوچ شہداء کا عالمی سطح پر ڈی این اے ٹیسٹ کراکے کسی بین الاقوامی ادارے کی زیر نگرانی منصفانہ تحقیقات کی جائے مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے بلوچ گہار موومنٹ کے مرکزی وائس چیئر مین زمور آزاد بلوچ اور ہمشیرہ میر عبدالودود رہیسانی نے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ توتک میں اجتماعی قبروں کی دریافت سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ پاکستان بلوچ وطن میں بڑے پیمانے پر جنگی جرائم نسل کشی اور انسانی حقوق کی پائمالیوں میں ملوث ہے ہم نے بارہا عالمی برادری اور اقوام متحدہ کو بلوچستان میں مداخلت اور بلوچستان کی سنگین صورتحال کا نوٹس لینے کے لئے متوجہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ریاست بڑے پیمانے پر بلوچ نسل کشی کرکے خطے میں خونریزی کا سلسلہ تیز کرچکاہے جب کہ بلوچ آزادی پسند اور معصوم بلوچ فرزندوں کا اغواء جبری گمشدگی روز کا معمول بن چکاہے جب کہ ہزاروں کی تعداد میں ریاستی ادارے اور ملیٹنٹ گروپس بلوچ فرزندوں کی جبری گمشدگی کی زمہ دار ہے لیکن اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی دیگر تنظیمیں خاموشی کی ساتھ صورتحال کو دیکھ رہے تھے جب کہ ان دانستہ سکوت سے آج صورتحال جس نہج پہ پہنچ چکی ہے یہ ان کی انسان اور انسانیت کے تقدس کی برائے نام دعووں پر زبردست طمانچہ ہے کل تک لاپتہ بلوچ فرزندوں کی لاشیں سڑکوں پر پھینکی جاتی تھی اور اب انہیں شہید کرکے ان کی اجتماعی قبریں بنائی جارہی ہے جو لمحہ فکریہ ہے گزشتہ دنوں مقبوضہ بلوچستان خضدار کے علاقہ توتک میں متعدد اجتماعی قبروں کی موجوگی کا انکشاف اور 150سے زائد لاشوں کی برآمدگی ریاستی دہشت گردی متعلق بلوچ موقف کی کھلی تصدیق ہے جس کی بعض ریاستی اداروں نے بھی اعتراف کیا ہے جہان انتہائی بے رحمی کے ساتھ لاپتہ افراد کو دوران حراست شہید کرکے ان کی شناخت کو مٹانے کے لئے انکی چہروں اورجسم پر مختلف قسم کا کیمیکل استعمال کیا گیا ہے جبکہ ان میں سے تین افراد کی جیب سے ملنے والے شناختی کارڈ ایک مستند ثبوت کہ طور پر موجود ہے کہ ان اجتماعی قبروں میں مدفوں لاشین مغوی بلوچ حریت پسند فرزندوں کی ہے جنہیں ریاستی فورسز نے شہید کرکے اجتماعی قبروں میں بے گور و کفن دفن کئے ہیں مقررین نے مزید کہاہے کہ اجتماعی قبروں کی دریافت بارے اقوام متحدہ کی خاموشی افسوسناک ہے حالانکہ بلوچ لاپتہ افراد کے بارے میں انسانی حقوق کی تنظیمیں اورعالمی دنیا بلوچ زمینی صورتحال سے آگاہ ہے اور اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ نے اپنے پریس کانفرنس میں 14000ہزار جبری گمشدہ بلوچ فرزندوں کی تصدیق کی ہے لیکن صورتحال سے مکمل جانکاری کے باوجود اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس اہم اور عالمی سانحہ کو اپنے چند مفادات کا بھینٹ چڑھاکر لب سی لئے ہیں ہم ان سے پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ کیا وہ بلوچوں کو انسان ہی نہیں سمجھتے یا پھر انسانی حقوق کی بات کرکے دنیا بھر کے مظلوم و مقبوضہ قوموں کومحض فریب دینے کے لئے یہ حربہ استعمال کرکے دہشت گرد ریاستوں کی بلواسطہ پشت پنائی کررہے ہیں انہون نے کہا کہ اب بھی وقت ہے کہ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بلاتاخیر بلوچستان میں اپنے تحقیقاتی مشن بھیج کر بلوچ ریجن میں سنگیں نوعیت کے پائمالیوں اور اجتماعی قبروں کے دریافت کے سلسلوں کی براہ راست نگرانی کرے تاکہ دریافت ہونے والی جتماعی قبروں کی حقیقت دنیا کے سامنے لایا جائے انہوں نے کہاکہ بلوچ قوم جاننا چاہتاہے کہ ہزاروں کی تعداد میں بلوچ لاپتہ افراد کہان گئے کیا انہیں اسی طرح بے نام گمنام اجتماعی قبروں کے حوالہ کرکے شہید تو نہیں کیا گیا —


