قابض ایرانی ریاست بلوچ فرزندوں کے اجتماعی پھانسیوں کے متعدد واقعات میں گزشتہ پانچ مہینو ں میں50سے زائد بلوچون کو پھانسی دیکر بدترین جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیون میں ملوث ہے بلوچ سالویشن فرنٹ
13.2.2014
بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ پر مشتمل الائنس بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان کہاہے کہ قابض ایرانی ریاست کی جانب سے پندرہ بلوچ فرزندوں کی پھانسی اور کوہستان مری کے علاقوں میں پاکستانی فورسز کی جانب سے بلوچ سول آبادیوں پرشیلنگ اور فائرنگ اور گھر گھر تلاشی کو بلوچ نسل کشی کا تسلسل قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ دونوں قابض ریاست انسانی حقوق کی سنگیں پائمالیوں کے ساتھ بڑے پیمانے پر بلوچ فرزندوں کے قتل عام کا سلسلہ شروع کیا ہے ایرانی قابض ریاست اسی مہینہ کے اوائل میں 5فروری کو مغربی بلوچستان کے شہر چاہبار میں پندرہ بلوچ فرزندوں کو تختہ دار پر لٹکاکر شہید کردیا قابض ایرانی ریاست بلوچ فرزندوں کے اجتماعی پھانسیوں کے متعدد واقعات میں گزشتہ پانچ مہینو ں میں50سے زائد بلوچون کو پھانسی دیکر بدترین جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیون میں ملوث ہے ترجمان نے کہاکہ مغربی بلوچستان کے مقامی زرائع سے ایسی اطلاعات بھی سامنے آرہے ہیں کہ قابض ایرانی ریاست اب بلوچ فرزندوں کو پھانسی دیکر ان کی جسد خاکیوں کولواحقین کے حوالہ کرنے کے بجائے نامعلوم اجتماعی قبروں میں دفن کررہی ہے اور خدشہ ظاہر کیا جارہاہے کہ حالیہ دنوں پھانسی دیکر شہید کئے گئے بلوچ فرزندون کوخفیہ طریقوں سے اجتماعی قبروں میں دفن کیا گیا ہے ترجمان نے کہاکہ ایران اور پاکستان دونوں قابض ممالک بلوچ فرزندوں کے حراستی قتل عام کے واقعات کے ساتھ اب انہیں شہید کرکے ان کی اجتماعی قبریں بنارہی ہیں توتک میں اجتماعی قبروں کی دریافت پاکستانی ریاست کے گھنانے اور وحشیانہ جرائم کی زندہ مثال ہے دونوں قابض ممالک بلوچ قوم کو غلام اور زیر نگیں رکھنے کے لئے طاقت کا وحشیانہ استعمال کررہی ہے دونوں ممالک میں انسانی حقوق کی پائمالی بلند سطح پر پہنچ چکی ہے لیکن اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی مسلسل اور غیر معمولی خاموشی ان کی جرائم کی حوصلہ افزائی کا باعث بن رہی ہے اتنے بڑے انسانی بحران اور ریاستی دہشت گردی کے باوجود تادم وقت اقوام متحدہ کی خاموشی نہ صرف تشویش ناک ہے بلکہ بلوچ مسئلہ سے پہلو تہی کرنے اور سنگینی کے اعتبار سے خطے کے اہم مسئلہ کو پس و پشت ڈالنے کی روش سے انسانی علمبرداراور عالمی اداروں پر بلوچ قوم کا اعتبار اٹھ رہاہے ترجمان نے کہاکہ یہ عالمی برادری اور بلخصوص اقوام متحدہ کی زمہ داری ہے کہ وہ ایران و پاکستان کی بلجبرقبضہ اور سنگین نوعیت کا پائمالیوں کا سنجیدگی کے ساتھ نوٹس لیں اور ان ریاستوں کو عالمی قانوں کے دائرے میں لانے کی عملی اقدامات کرکے ان پر جنگی جرائم کے مقدمات قائم کئے جائے بلوچ قوم بلوچ وطن میں بلوچ قومی مسئلہ برائے آزادی کے حوالہ سے اقوام متحدہ کے فوری مداخلت کا خواہاں ہیں بلکہ ان کا بھر پور خیر مقدم کریں گے اگر عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی جانب سے لاتعلقی اورغفلت برقرار رہی اور بلوچ مسئلہ کو بین الاقوامی معاملہ کے بجائے محض ایک انتظامی مسئلہ کی سمجھنے کی دانستہ غلطی کی گئی توریاستی دہشت گردی کو شہ ملنے کے ساتھ ساتھ یہ خطے کے لئے ہیرو شیما اور ناگاساکی کے ایٹم بموں سے زیادہ مہلک اور خطرناک ثابت ہوگا


