بلوچستان لبریشن چارٹر کو بلوچ قومی اقدار ثقافت، رسم، و رواج کا خاص خیال رکھتے ہوئے دنیا میں اقوام کو ترقی اور آزادی کی راہ میں پیش آنے والے مشکلات اور ان کے حل کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیا گیا۔۔ میر حیر بیار مری
27.2.2014
بلوچ قوم دوست رہنما حیربیار مری نے اپنے بیان میں کہا کہ بلوچستان لبریشن چارٹر کو بلوچ قومی اقدار ثقافت، رسم، و رواج کا خاص خیال رکھتے ہوئے دنیا میں اقوام کو ترقی اور آزادی کی راہ میں پیش آنے والے مشکلات اور ان کے حل کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیا گیا بلوچستان لبریشن چار ٹر میں بلوچ قومی روایات اور جدیدجمہوری ریاستوں کے سماجی اور فلاحی نظام سے ہم آہنگ قومی برابری اور ترقی کے لیے تمام لوگوں کو بغیر کسی نسلی علاقائی اور لسانیت کے یکساں مواقع فراہم کرنے کا اعادہ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کی بلوچستان پر قبضہ کے بعد بلوچ قومی جدوجہد آزادی میں جامع روڈمیپ کی فقدان کی وجہ سے بلوچ قوم کو گزشتہ 65 سالوں کی جد و جہد کے مختلف ادوار میں موثر کامیابی نہ مل سکی اگر ہمارے پاس پہلے سے کوئی روڈ میپ یا لائحہ عمل ہوتا تو ہم پولینڈ کی طرح متحد ہو کر غلامی سے بہت پہلے چھٹکارا پانے میں کامیاب ہوسکتے تھے ……پولش قوم کی آزادی کاسبب ان کی وہ آئینی دستاویز بنے ۔جس کے ذریعے پولش قوم کو اپنی آزادی اور قبضہ گیر قوتوں کو شکست دینے میں واضع اور نمایاں طور پر کامیابی ملی۔ پولینڈ کو بھی بلوچستان کی طرح سامراجی قوتوں نے قبضہ کر کے تقسیم کیا تھا لیکن ان کے موثر لائحہ عمل اور ان کے آئینی دستاویز ہی پولش قوم کی قبضہ گیر قوتوں کے خلاف اورپولینڈ کی آزادی کیلئے ترغیب کا باعث بناحیربیار مری نے کہا کہ بلوچ قوم نے اپنی آزادی کے لیے گزشتہ چھ دہاہیوں سے بے بہا جانی و مالی قربانیاں دی ہیں اور طرح طرح کے تکالیف مشکلات و مصائب برداشت کیے بلوچستان لبریشن چارٹر کا مقصد بلوچ قوم کو آزادی کے لیے روڈمیپ اور بعد از آزادی ان کے فلاح و بہبود اور خوشحالی کے لیے پہلے سے منصوبہ بندی اور بلوچ قوم کو اپنے جمہوری حقوق کے لیے شعور دینا ہے ۔ حیربیار مری نے مزید کہا کہ بلوچستان لبریشن چارٹر کو کمیٹی نے یکم مارچ کو قوم کے سامنے لانے کا اعلان کیا ہے اس چارٹر کو ترتیب دینے میں بلوچ قوم دوست رہنماؤں، ساتھیوں اور آزادی پسند بلوچ پارٹیوں کی محنت اور لگن شامل ہے جنہوں نے چارٹر کی اہمیت و افادیت کو سمجھتے ہوئے پارٹی، شخصی اور گروہی مفادات سے بالاتر ہوکر ہمیں اپنی تجاویز اور آرا ئ دیئے ، اسے مکمل کرنے میں دوستوں نے کافی محنت کی اور ہم اس وقت خوشی محسوس کر رہے ہیں کہ دوستوں نے قوم کے ساتھ اپنے کمٹمنٹ کو پورا کیا اور یکم مارچ کو اس دستاویز کو بلوچ قوم کی تجاویز کے لیے ان کے سامنے لایا جارہا ہے تاکہ اس میں بلوچ قوم کی تجاویز اور آرا شامل کر کے اسے مکمل قومی دستاویز کی شکل دی جا سکے .


