کیچ کے علاقہ پیدارک میں شہید نصیر کمالان کے گھر پرحملہ ریاستی فورسز کی جانب سے فضائی اور زمینی کاروائیاں چادر و چاردیواری کی پائمالی بلوچ فرزندوں کی شہادت اور اغواء نماء گرفتاریان بلوچ کش پالیسیوں کا تسلسل ہے بلوچ سالویشن فرنٹ
25.3.2014
بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری بیان میں کہاہے کہ کیچ کے علاقہ پیدارک میں شہید نصیر کمالان کے گھر پرحملہ ریاستی فورسز کی جانب سے فضائی اور زمینی کاروائیاں چادر و چاردیواری کی پائمالی بلوچ فرزندوں کی شہادت اور اغواء نماء گرفتاریان ریاستی بلوچ کش پالیسیوں کا تسلسل ہے گزشتہ دنوں پیدارک میں وحشیانہ کاروائیوں میں ریاستی فورسز نے 5 بلوچ فرزندوں کو شہید کرکے نہتے اور پر امن شہری آبادی کو ہراسان کرکے چادر چار دیواری کی پائمالی کر کے کئی گھروں کو آگ لگادی جو کہ ریاست کی سفاکانہ اور وحشیانہ مظالم کی انتہاء ہے ترجمان نے شہدائے پیدارک کو سرخ و سلام پیش کرتے ہوئے کہاکہ ریاست تحریک کی طاقت توڑنے اور وسیع تر عوامی حمایت کو کمزور کرنے کے لئے سول آبادیوں کو نشانہ بناکراپناغصہ عام شہری آبادی اور خالی ہاتھ عوام کی خونریزی سے پورا کرکے اندھادھند مجرمانہ کاروائیوں کا سلسلہ تیز کردیا ہے ترجمان نے کہاہے کہ بلوچ جدوجہد قبضہ گیر کے لئے چیلنج بن چکی ہے جس سے ریاست تشدد اور کاروائیوں میں اپنی عافیت ڈھونڈرہی ہے لیکن اس کے باوجود بلوچ عوام آزادی کی تحریک سے والہانہ ہمدردی رکھتے ہوئے ثابت قدمی اور مضبوطی سے جدوجہد کے صفوں میں ڈٹے ہوئے ہیں ترجمان نے کہاکہ بلوچ فرزندوں کی قومی جہد آزادی میں شمولیت جذبہ اور قربانیاں اور عوام کی جانب سے سرگرم حمایت بے مثال ہے ان کی حریت پسندی اور بلند حوصلے ہمارے مشعل راہ ہیں ہمیں شہدائے پیدارک شہید سمیر بلوچ شہید اسلام بلوچ شہیدحاجی کمال بلوچ شہید مراد بلوچ شہید حاصل بلوچ سمیت جہد آزادی کے شہداء کے مشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے ان کے فکر وفلسفہ اور تجربات سے استفادہ کرنا چاہیے ترجمان نے کہاکہ بلوچ ہمدردی کے چیمپیئن بننے والے ریاستی گماشتوں کا یہ کہنا کہ بلوچستان میں ریاستی کاروائیوں کا سلسلہ رک گیا ہے یہ ایک سفید جھوٹ ہے پورے بلوچستان میں ریاستی فورسز بلوچ عوام کا بے رحمی کے ساتھ خون بہارہے ہیں کوئی دن ایسا نہیں جو ریاستی کاروائیوں اور مظالم کے بغیر طلوع ہو اور مڈل کلاس سیاست جس کا کھبی بھی آزادانہ سیاسی کردار نہیں رہا ہے بلکہ ان کی پوری تاریخ ریاست کی پیروی اور کاسہ لیسی کی تاریخ پر مبنی ہے وہ بلوچوں کے خون بہا نے کی عوض میں پارلیمانی نشستوں تک رسائی حاصل کرتے ہیں انہی مشروط گماشتگیوں کے ساتھ وہ مادروطن سے غداری کرکے ریاستی مراسم حاصل کرتے ہیں ان میں اتنی سکت اور اہلیت نہیں کہ وہ ریاستی دہشت گردی کو روک سکیں جب کہ وہ اپنی اوقات سے اچھی طرح واقف ہے ان کی جانب سے مگر مچھ کے آنسو بہانے اور ہمدردی کے تمام ترجھوٹے دعوے بلوچ عوام کو مزید غلام رکھنے اور ان کے معصوم اور پاک جذبوں کو مجروح کرنے کی کوشش ہے ترجمان نے کہاکہ بلوچستان میں خون کی ندیان بہانے والوں کو تاریخ کے مکافات عمل کا سامنا ضرور ہوگا انہیں بنگلہ دیش کے واقعات سے سبق سیکھنا چاہیے کہ بنگالیوں کا انہوں نے جس طرح قتل عام کیاآج وہی لوگ آزاد بنگلہ دیش کی عدالتوں میں مجرم کے طور پر سزا پارہے ہیں کل بلوچستان میں ان کا یہی انجام ہوگا ترجمان نے کہاکہ بلوچ اپنی آزادی بقاء اور سلامتی باعزت زندگی گزارنے کے لئے آزادی کی قیمت اپنی جان و مال اور ورقربانیوں سے ادا کررہی ہے ایسے ناقابل تسخیر قوت کو کوئی بھی ریاستی طاقت شکست نہیں دے سکتا آزادی سے زندگی گزارنا بلوچ قوم کی وراثت اور حق ہے


