×

27مارچ( یوم غلامی ) کو غاصبانہ قبضہ کے خلاف یوم سیاہ کے طور پر مناکر بلوچستان بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کیا جائیگا یوم سیاہ کے موقع پر تمام کاروباری ادارے دفاتر اور بینک سمیت تما م نجی و سرکاری تعلیمی ادارے بھی بند رہیں گے۔بلوچ سالویشن فرنٹ

27مارچ( یوم غلامی ) کو غاصبانہ قبضہ کے خلاف یوم سیاہ کے طور پر مناکر بلوچستان بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کیا جائیگا یوم سیاہ کے موقع پر تمام کاروباری ادارے دفاتر اور بینک سمیت تما م نجی و سرکاری تعلیمی ادارے بھی بند رہیں گے۔بلوچ سالویشن فرنٹ

26.3.2014
بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے بیان میں کہاہے کہ بلوچ سالویشن فرنٹ کی مجوزہ کال پر 27مارچ( یوم غلامی ) کو غاصبانہ قبضہ کے خلاف یوم سیاہ کے طور پر مناکر بلوچستان بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کیا جائیگا یوم سیاہ کے موقع پر تمام کاروباری ادارے دفاتر اور بینک سمیت تما م نجی و سرکاری تعلیمی ادارے بھی بند رہیں گے تاجر برادری رضاکارانہ طور پر اپنی دکانیں بند کرکے ہڑتال میں تعاون کریں یوم سیاہ کے موقع پر اگر کسی نے بھی ہڑتال کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کاروباری سرگر میاں جاری رکھیں تو اپنے نقصان کے زمہ دار خود ہونگے کیونکہ 27 مارچ بلوچ قوم کی تاریخ میں ایک سیاہ دن کی حیثیت رکھتی ہے اور اسی دن کو بلوچستان کی آزاد وخود مختار حیثیت کو سلب کرکے پاکستانی نے ریاست بلوچ وطن پر غیر قانونی طور پر قبضہ کیا بلوچ قوم 1948 سے لے کرتسلسل کے ساتھ اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر مناکر ریاستی قبضہ کے خلاف آزادی کا مطالبہ دہراتے ہوئے علامتی احتجاج ریکارڈ کرکے عالمی دنیا سے اپیل کرتی ہے کہ وہ بلوچ وطن سے ریاستی فوج کا فوری انخلاء کرکے بلوچستان کی آزادی کو تسلیم کریں ترجمان نے کہاکہ بلوچ وطن پاکستانی کا حصہ نہیں اور نہ ہی بلوچ ریاستی غلامی پر رضامند ہے بلوچستان کو پاکستان کا حصہ قرار دینے والے بلوچستان کی تاریخ کو جھٹلا نہیں سکتے جو بلوچستان کو پاکستان کااکائی قرار دے کر بلوچ مال و مڈی اور وسائل کی چوری میں ریاست کے ہاتھ بھٹار ہے ہیں وہ مادروطن سے غدار ی کے مرتکب ہورہے ہیں انہیں بلوچ دوست نہیں کہا جاسکتا ترجمان نے کہاکہ ہزارون سالون سے دنیا کے نقشہ پر موجود بلوچ وحدت کو ایک غیر فطری ریاست کا اٹوٹ انگ یا اکائی کہنے والے احمقوں کی دنیا میں رہتے ہوئے یوٹوپیائی خواب دیکھ رہے ہیں اگر بلوچستان پاکستان کا حصہ ہوتا تو1948سے لے کر بلوچ اب تک ریاست کے خلاف کیوں لڑائی اور جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں اور ہزاروں جانثار اور انقلابی باسک آزادی کی قربان گاہ پر کیوں اپنی جانیں نذر کرچکی ہیں ہزارون بہن اپنے بھائیوں اور مائیں اپنی لخت جگر وں کی شہادت کو کیوں قابل فخر تصور کرتی ہے کیا کوئی ایک عظیم مقصد کے بغیر اپنی جان کی قیمت دینے پر راضی ہوتی ہے ریاست اور ان کے کاسہ لیسوں کی مجرمانہ غلط بیانی کی کوئی حقیقت نہیں ریاست اپنی فوجی طاقت اور کاسہ لیسوں کے زریعہ بلوچستان کی آزادی کی حقیقت سے انکار کرکے بلوچ تاریخ کو مسخ کررہی ہے لیکن تاریخ کو مسخ کرکے عالمی دنیا کو گمراہ نہیں کیا جاسکتا امریکہ برطانیہ یورپی یونیں اقوام متحدہ اور انسان دوست بین الاقوامی ادارے بلوچستان کی مقبوضہ حیثیت سے آگاہ ہیں کہ بلوچ وطن پر پاکستان نے غیر قانونی اور غیر انسانی قبضہ جمایا ہے ریاست کی گھڑی گئی جھوٹی کہانیان بلوچستان کی آزاد و خود مختیار حیثیت کو متاثر نہیں کرتے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری اپنی مصلحتوں کوبالائے طاق رکھتے ہوئے بلوچستان کی آزادی کی غیر مشروط حمایت کرکے بلوچ قوم کو ریاست کی دائمی غلامی سے نجات دینے کے لئے اپنی کوششوں کو بروئے کار لائیں ترجمان نے کہاکہ 27مارچ کو یوم سیاہ مناتے ہوئے ہم اپنے پر امن احتجاج شٹر ڈاؤن ہڑتال کے زریعہ عالمی دنیا کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ خطے میں امن و استحکام اور انتہاء پسندی کے خاتمہ کے لئے آزاد وسیکولر و جمہوری بلوچستان کے قیام کو ناگزیر سمجھتے ہوئے بلوچ قوم کو ریاست کی ظالمانہ ہتھکنڈون اور غلامی سے نجات دلانے کے لئے کردار اداکریں بلوچ قوم امن اور آزادی کےعلمبردار کی حیثیت سے پوری دنیا کے اقوام کی آزاد ی استحکام ترقی اور امن کے لئے نیک خواہشات رکھتے ہیں

Previous post

کیچ کے علاقہ پیدارک میں شہید نصیر کمالان کے گھر پرحملہ ریاستی فورسز کی جانب سے فضائی اور زمینی کاروائیاں چادر و چاردیواری کی پائمالی بلوچ فرزندوں کی شہادت اور اغواء نماء گرفتاریان بلوچ کش پالیسیوں کا تسلسل ہے بلوچ سالویشن فرنٹ

Next post

جبری الحاق کو بھر پور انداز میں مسترد کرکے آزادی کے روشن صبح کے لئے 27 مارچ کو یوم سیاہ کے طور پر مناکر آزادی کے صفوں کو منظم اور مضبوط کریں ۔بلوچ سالویشن فرنٹ