ٰیوم قبضہ کے موقع پر مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال اور قبضہ کے خلاف ایک دن کے لئے تعلیمی اور دیگر اداروں کی سرگرمیوں کی معطلی اور یوم سیاہ بلوچ اور بلوچستان کے عوام کے بے مثال اور تاریخی یکجہتی کو ظاہر کرتی ہے بلوچ سالویشن فرنٹ
28.3.2014
بلوچ سالویشن فرنٹ کے میڈیا سیل کے جاری کردہ بیان کے مطابق27 یوم غلامی کے مناسبت بلوچستان پر پاکستان کے جبری قبضہ کے خلاف بلوچستان بھر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق تمام چھوٹے بڑے شہروں اور قصبہ جات میں بلوچ سالویشن فرنٹ کے اپیل پرمکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال اور یوم سیاہ رہا دکانیں نجی و سرکاری کاروباری مراکزتعلیمی ادارے بینک اور دفاتر پر تالے پڑگئے ملنے والے اطلاعات کے مطابق کوئٹہ ،قلات، سوراب مچھ، نوشکی، منگچر ،زہری ،خضدار، وڈھ، نال، بسیمہ ،خاران، دالبندیں ،حب ،پنجگورا زعمران بلیدہ تمپ تسپ مند پسنی گوادر اور کیچ بھر میں مکمل شٹرڈاؤں رہا اور تمام سرکاری و نجی تعلیمی و مالیاتی ادارے سمیت دفاتر بھی بند رہے
بی ایس ایف کے دفتر اطلاعات نے اپنے جاری کئے گئے بیان میں ہڑتال کی کامیابی پر بلوچستان بھر کے تاجر برادری کی تنظیموں کی حمایت و تعاون سمیت پرنٹ میڈیا کا بھی شکریہ اداکرتے ہوئے کہاہے کہ کامیاب ہڑتال نے ثابت کردیا ہے کہ بلوچ عوام قبضہ گیریت سے شدید نفرت کرتے ہوئے پاکستان کے جبری بندوبست کو مسترد کرچکاہے جب کہ یوم قبضہ کے موقع پر مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال اور قبضہ کے خلاف ایک دن کے لئے تعلیمی اور دیگر اداروں کی سرگرمیوں کی معطلی اور یوم سیاہ بلوچ اور بلوچستان کے عوام کے بے مثال اور تاریخی یکجہتی کو ظاہر کرتے ہوئی اس بات کی سب سے بڑی اور کھلی دلیل ہے کہ بلوچ عوام غلامی سے شدت کے ساتھ نفرت کرتے ہوئے بلوچستان کی آزادی کی جدوجہد کے ساتھ ہے بی ایس ایف کے میڈیا سیل نے کہاہے کہ بلوچ اپنی شناخت آزادی اور حیثیت کو بحال کرنے کے لئے آزادی کے ون پوائنٹ ایجنڈا پر یکجاء ہے اگر بلوچ اپنی کھوئے آزادی اور شناخت کو واپس بحال کریں تو سائل و سائل براہ راست بلوچ قوم کے دسترس میں ہوں گے ایک آزاد ملک کے بغیر محض سائل وسائل پر دسترس کی سیاست قعطا آزادی کا نعم البدل نہیں ہے بلوچ قوم کو سب سے زیادہ ان کی شناخت اور آزادی عزیز ہے اور بلوچ قوم کاسب سے بڑا مسئلہ اور درد سر اس وقت غلامی ہے بلوچ عوام ریاست کے مکرو فریب کے نمائشی سیاست کا ایندھن بننے کے بجائے اسی طرح یکجہتی کے اعلی مثال قائم کرتے ہوئے آزادی کے تحریک کے لئے طاقت بن جائیں تاکہ بلوچ جلد ہی آزادی کے عظیم منزل سے ہمکنار ہو میڈیا سیل نے کہاکہ1948سے قبل بلوچستان کی آزاد و خود مختا ر ریاست تھی لیکن دنیا کے نقشہ میں غیر فطری طور پر شہہ پانے والی پاکستانی ریاست نے تمام تر انسانی ضوابط قوانیں کو روندھ کر 27مارچ 1948کو بلوچستان پر جبرا قبضہ کیااور آج تک فوجی جارحیت کے زریعہ کے بلوچستان پر نہ صرف قبضہ کیا ہواہے بلکہ عالمی وعلاقائی سرحدی و جغرافیائی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کے قرار دادوں کو بھی جوتے کی نوک پر رکھ کر بلوچستان کو اپنے اکائی کہنے پر بضد ہے لیکن افسوس ناک امر یہ ہے کہ اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی فورم خاموش تماشائی بن کرریاست کی جارحیت کو بلواسطہ شہہ دے رہے ہیں اقوام متحدہ اور عالمی برادری کو چاہے کو وہ بلوچ آزادی کے مسئلہ پر خاموشی کا روزہ توڑ کرسوڈان اور ڈار فور کی طرز پر بلوچستان کی غیر مشروط آزادی کی حمایت کریں


