×

کوئٹہ میں قابض ریاستی فورسز کی جانب سے بلوچ علاقوں اور آبادیوں میں آپریشن اور قتل عام کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچ علماء کے خلاف کاروائی ایران اور پاکستان کا مشترکہ ایجنڈا ہے میر قادر بلوچ

کوئٹہ میں قابض ریاستی فورسز کی جانب سے بلوچ علاقوں اور آبادیوں میں آپریشن اور قتل عام کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچ علماء کے خلاف کاروائی ایران اور پاکستان کا مشترکہ ایجنڈا ہے میر قادر بلوچ

21.2.2013
بلوچ وطن موومنٹ کے سربراہ اور بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی سیکریٹری جنرل میر قادر بلوچ نے اپنے جاری کردہ ایک بیان میں کوئٹہ میں قابض ریاستی فورسز کی جانب سے بلوچ علاقوں اور آبادیوں میں آپریشن اور قتل عام کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچ علماء کے خلاف کاروائی ایران اور پاکستان کا مشترکہ ایجنڈا ہے اور طے شدہ منصوبہ کے تحت گزشتہ خونی واقعات میں بلوچ قوم کو ملوث کرنے کی مکروہ پالیسی پر گامزن دونوں قابض ریاست عالمی رائے عامہ کو باور کرانے کی کوشش کرکے تاثر یہ دے رہے ہیں کہ ان واقعات میں بلوچ قوم ملوث ہے انہوں نے کہا کہ بلوچ قوم اور تحریک آزادی کے خلاف یہ ایک سوچھا سمجھا ریاستی منصوبہ ہے جو ایران اور پاکستان دونوں کی باہم اشتراک سے بلوچ قوم کے خلاف بنائی گئی ہے انہوں نے کہا کہ اس سے قبل قاری عبدالجلیل جمالدینی مولوی عبدالکریم مینگل مولوی عبد الکبیر قمبرانی اور مولوی زبیر مشوانی سمیت 15سے زائد بلوچ علمائے دین اور مکاتب فکر کو شہید کیا گیا ان کی قتل و شہادت میں مہدی ملیشیا ملوث ہے جسے ایران کی مکمل پشت پنائی حاصل ہے لیکن ان کے قتل عام کے خلاف نہ تو قابض ریاست کی جانب سے اتنی تیزی دکھائی گئی اور نہ ہی مہدی ملیشیا کے مقامی ایجنٹوں اور قاتل دستوں کے خلاف اس پیمانے کی آپریشن یا کاروائی کی گئی بلکہ مہدی ملیشیا پر مکمل طور پر قابض ریاست کی دست شفقت رہی اور انہیں مکمل اور کھلی چھوٹ دی گئی کہ بلوچ علمائے دیں کا قتل عام کریں جب کہ علمائے دین کے قتل کے خلاف نہ تو سید آباد اور نہ ہی قائد آباد یا مری آباد اور ہزارہ ٹاؤں میں آپریشن کیا گیااور نہ ہی ان علاقوں میں سریاب جیسے کاروائی کی گئی جب کہ گزشتہ واقعات کے رد عمل میں قابض فورسز بڑے پیمانے پر اندھا دھند کاروائیاں کرکے انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ نہتے بلوچوں کے گھروں میں گھس کر انہیں شہید کررہے ہیں ریاست کے فوج سمیت تمام ادارے ان کاروائیوں کو حوصلہ افزاء قرار دے کر ان کا دائرہ کار بڑھانے اور ان میں تیزی لانے کی پالیسیوں کو مثبت قرار دے رہے ہیں جب کہ حالیہ ریاستی کاروائیوں میں نواں کلی اور کلی قمبرانی میں فورسز نے کئی بلوچ علماء اور نہتے بلوچوں کو فائرنگ سکواڈ کے زریعہ شہید کیا اور اب بھی پورے بلوچ آبادی کو قابض ریاست نے گھیر ے میں لے کر بڑے پیمانے کی کاروائیاں کررہی ہے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے سامنے واضح کرنا چاہتے ہیں کہ بلوچستان میں بلوچ علماء کو مہدی ملیشیا شہید کررہے ہیں اور مہدی ملیشیا کو ایران کی پشت پنائی اور تعاون حاصل ہے ا نہوں نے کہا کہ کیا بلوچ قوم انسان نہیں کیا بلوچ قوم کے شریانوں میں انسانی لہو نہیں کہ ان کااس پیمانہ پر قتل عام کیا جا رہا ہے ہم عالمی دنیا کے سامنے واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ایران اور پاکستان دونوں مل کر بلوچ نسل کشی میں ملوث ہے اقوام متحدہ اور انٹر نیشنل کمیونٹی بلوچستان میں ریاست کی جانب سے یک طرفہ بلوچوں کے خلاف کاروائی کا نوٹس لے کرقابض ریاست کے خلاف فوری کاروائی کے احکامات جاری کریں انہوں نے کہا کہ ایران نے اب تک سینکڑوں بلوچ علماء کو پھانسی کے گھاٹ اتار کر شہید کیا ہے اور بلوچستان میں بھی اپنی ایجنٹوں کو بلوچ علماء کو ٹارگٹ کلنگ کے لئے متحرک کیا ہے ایرانی ایجنٹوں کی گھناؤنے عمل سے چشم پوشی کرکے قابض ریاست عالمی برادری کے آنکھوں میں دھول جھونک بلوچ قوم سمیت عالمی رائے عامہ کے برعکس ایران کی مکروہ پالیسیون میں ان کا ہاتھ بھٹا رہے ہیں جب کہ عالمی دنیا ایران کے پالیسیون سے پہلے بھی تشویش کا اظہار کرچکاہے جب کہ پاکستان بھی ایران کے انسانیت دشمن پالیسیوں کو سپورٹ کرکے نہ صرف بلوچ دشمنی کررہی ہے بلکہ وہ انسانیت کے لئے بھی مہلک عزائم رکھتے ہیں

Previous post

پنجگور میں قابض فورسز کی جانب سے سرچ آپریشن گھروں پر چھاپے اور 6بلوچ فرزندوں کے اغواء ریاستی جارحیت اور دہشت گردی کا تسلسل ہے بانک حانی بلوچ زمور آزاد بلوچ

Next post

فروری کے مہینے میں شہید ہونے والے سپوتوں شہید اسد بلوچ شہید احمد شاہ بلوچ شہیدحاجی جان محمد مری شہید سہراب مری شہید ثناء سنگت بلوچ اور شہید محبوب واڈیلہ کو ان کی قومی شہادت پر سرخ سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جدوجہد اور زندگی ہمارے لئے کھلی کتاب کی مان