فدا بلوچ اپنی ذات میں ایک انسٹیوٹ تھے وہ ایک فرد نہیں بلکہ ایک فکر کا نام ہے انہیں شہید کرنے والے ریاست کے زرخرید ایجنٹ جان لیں کہ اس کی فکر و فلسفہ اور نظریات کو شہید نہیں کیا جاسکتا بلوچ سالویشن فرنٹ
بلوچ سالویشن فرنٹ
1.5.2014
بلوچ سالویشن فرنٹ نے اپنے جاری کئے گئے مرکزی ترجمان میں کہا ہے کہ شہید وطن فدا احمد بلوچ اورشہید نصیب اللہ بلوچ کوجہد آجوئی میں لازوال اور بے لوث قربانیوں پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ فدا بلوچ اپنی ذات میں ایک انسٹیوٹ تھے وہ ایک فرد نہیں بلکہ ایک فکر کا نام ہے انہیں شہید کرنے والے ریاست کے زرخرید ایجنٹ جان لیں کہ ایک انقلابی سپوت کو جسمانی طور پر اگر چہ علیحدہ کیا جاسکتاہے لیکن اس کی فکر و فلسفہ اور نظریات کو شہید نہیں کیا جاسکتا فدااحمد بلوچ اور دیگر بلوچ شہداء اگرچہ جسمانی طور پر ہم میں نہیں رہے لیکن وہ فکری طور پر ہمارے درمیان موجود ہے ہزاروں لاکھوں انسانوں کے قبرستانوں میں شہداء کے قبریں زمانے کی دھول سے ہموار نہیں ہوتے ان کی منفرد اور انقلابی کردار سماج کے لئے مثال بن جاتا ہے ترجمان نے کہا کہ شہید فدا بلوچ قومی آذادی کے جدوجہد کا اہم کردار ہے جسے آزادی کی موقف اور پاکستانی پارلیمنٹ کی اعلانیہ مخالفت کی پاداش میں راستہ سے ہٹایا گیا تاکہ قومی جدوجہد آذادی میں تعطل پید اکرکے کرپٹ پارلیمانی کلچر کی جانب عوام کو راغب کیا جاسکے لیکن فدا کو شہید کرنے والے پارلیمانی باج گزار یہ ثابت کردیں کہ کیا وہ فدا کے نظریات اور اس کی عظیم مشن کو قتل کرنے میں بھی کامیاب ہوگئے یا فدا بلوچ اور شہداء کے عظیم مشن نظریہ اور حوصلوں نے انہیں عبرتناک شکست سے دو چار کرکے تاریخ اور عوام کے سامنے ان کی وطن اور آزادی دشمنی سے پردہ اٹھایا ہے ترجمان نے کہا کہ آج بھی آزادی کی جدوجہد کو کچلنے کے لئے ریاست اپنے تمام تر وسائل کے استعمال کے ساتھ ساتھ چند گماشتہ لوگوں پر مشتمل آجوئی دشمن پارلیمانی مہروں کے زریعہ اپنی قبضہ اور بیش قیمتی وسائل کو لوٹنے کے عمل کو جواز بخشنے کے لئے بلوچ سرزمین کو پاکستانی ریاست کی اکائی اور حصہ قرار دینے کی گمراہ کنکام کوششیں کرکے بلوچ قومی آزادی کے لئے صف بندی کرنے والے بلوچ جہد کاروں کو شہید کررہے ہیں تاکہ بے رحم قتل عام کے زریعہ آزادی کے صفوں میں انتشار اور خوف پیدا کرکے بلوچ تحریک کو کاؤنٹر کرسکے لیکن آزادی کی جدوجہد میں بے پناہ شدت اور بلوچ نوجوانوں بزرگوں اور خواتین کی صف در صف شمولیت نے ریاست کے بے چینی اور بھوکھلاہٹ میں اضافہ کردیا ہے بلوچ وطن کے ہر کوچہ گاؤں خلق اور دمگ میں آزادی کی جدوجہد پہنچ چکی ہے ترجمان نے کہاکہ آزادی کے راستہ کا چناؤ اور اس میں مضمر مشکلات تکالیف اور قربانیوں کے لئے زہنی طور پر مستعد بلوچ فرزند وں کو ریاست اور ان کے باج گزاروں کے لئے شکست دینا نا ممکن ہے بلوچ قوم کسی خوش فہمی سے بالاتر ہوکر آزادی کی تسلسل کو برقرار رکھنے کو ہی آخری فتح سمجھ کر ریاست کی نام نہاد جمہوریت اور پارلیمنٹ کو ڈھونگ سمجھتے ہوئے بلوچ مسئلہ کے حل کو آزادی کے ون پوائنٹ ایجنڈا سے مشروط سمجھتی ہے


