شال نیوکاہان مری کیمپ پر چھاپہ اور درجن بھر نہتے بلوچ فرزندوں کی اغواء نماء گرفتاریاں اور مشکے کے علاقہ میہی اور گردنواح میں جاری ریاستی دہشت گردی کی شدید الفاظ میں مذمت بلوچ سالویشن فرنٹ
6.5.2014
بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ پر مشتمل الائنس بلوچ سالویشن فرنٹ کے ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے بیان میں شال نیوکاہان مری کیمپ پر چھاپہ اور درجن بھر نہتے بلوچ فرزندوں کی اغواء نماء گرفتاریاں اور مشکے کے علاقہ میہی اور گردنواح میں جاری ریاستی دہشت گردی سول آبادیوں پر شیلنگ خواتین اور بچوں کی شہید و زخمی کرنے کے واقعات اور بمباری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ بلوچستان ریاستی تشدداور دہشت گردی کی آماجگاہ بن چکاہے آئے روز بلوچ فرزندوں کا اغواء حراستی قتل اور شہری آبادیوں کو نشانہ بنانے اور فضائی کاروائیوں کے مجرمانہ واقعات معمول بن چکے ہیں گزشتہ دنوں مری کیمپ پر ریاستی فوجی و نیم فوجی دستوں نے دھاوا بول کر گھر گھر تلاشی کے ساتھ کئی بلوچ فرزندوں کو حراست میں لے کر جبری طور پر اغواء کرکے ساتھ لے گئے
ترجمان نے کہاکہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال انتہائی تشویش ناک ہے پورے بلوچ وطن میں جنگی جرائم پر مبنی ریاستی کاروائیان شدت اور تسلسل کے ساتھ بدستور جاری ہے بچوں اور خواتین کو شہید کرنے کے ساتھ ساتھ نہتے بلوچوں کے گھروں اور جگھیوں کو نشانہ بنایاجارہاہے ترجمان نے کہاکہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بلوچ نسل کشی کے حوالہ سے مختلف ممالک اور انسان دوست تنظیمیں اپنے خدشات اور تحفظات کا اظہار کیا ہے جبکہ اقوام متحدہ امریکہ اور یورپی یونین کے بعض ممالک بلوچستان میں ریاستی دہشت گردی پر متوجہ ہوئے ہیں لیکن جس طرح انسانی حقو ق کی پائمالی اور بلوچ نسل کشی کا سلسلہ جاری ہے اسی پیمانے پر اب تک انکا انسداد نہیں ہوا اور نہ ہی ریاست کے خلاف ان کاروائیوں اور گھناؤنے واقعات کو جواز بناکرکسی قسم کا دباؤ ڈالاگیا یا ان کے خلاف جنگی جرائم کے مقدمات قائم کئے گئے حالانکہ کئی ممالک میں اقوام متحدہ نے براہ راست مداخلت کرکے ان ریاستون کے خلاف کاروائی بھی کی گئی لیکن بلوچستان میں خونریز صورتحال اور عظیم انسانی بحران پر خاموشی حیران کن ہے ترجمان نے کہاکہ ریاستی دہشت گردی جبری اغواء اور مسخ شدہ لاشوں کے سلسلہ کے ساتھ بلوچ شہری آبادیون کے خلاف فضائی اور زمینی کاروائیان اسی معمول کے ساتھ جاری ہے جس کی ابتدا1948 میں بلوچستان پر جبری قبضہ سے رونماء ہو الیکن فی الوقت اقوام متحدہ اور دیگر انسان دوست ممالک ریاستی دہشت گردی کو روکنے میں مکمل ناکام ہوچکے ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی زمہ دار وہی عالمی ادارے ہیں جو ریاستی دہشت گردی کے خلاف زبان بندی کو ترجیح دے رہے ہیں اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ نے بلوچستان سے ہزاروں کی تعداد میں بلوچ فرزندوں کی اغواء نماء کی گرفتاری کی تصدیق کی تھی لیکن وہ ان رپورٹوں پر عمل درآمد کرنے سے اب تک قاصر ہے جبکہ ریاستی دہشت گردی پر تشویش کے بعدبھی معتبر عالمی ادارے اقوام متحدہ ریاست کے جارحانہ پالیسیوں کے خلاف عالمی سطح پر اپنے سفارشات پیش کرنے سے بھی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کررہاہے ترجمان نے کہاکہ ریاست قومی آزادی کی جدوجہد کوطاقت اور دہشت گردی سے کچلنے کی کوشش کے ساتھ ساتھ اپنے کاسہ لیس ٹیم کے ساتھ بلوچستان کی آزادی کے مسئلہ سے توجہ ہٹانے کے لئے عالمی برادری کے درمیان اپنے نام نہاجمہوریت کے فہم و فراست کے ڈھونگ کے ساتھ بلوچ مسئلہ کے حل کی بابت اپنے پرتعیش بیانات کے ساتھ بلوچ عوام اور بین الاقوامی دنیامیں غلط فہمی کاسبب بن رہے جب کہ بلوچ مسئلہ خالصتا قومی آزادی کا مسئلہ ہے اس میں دورائے نہیں بلوچ قوم اپنی موقف اور مطالبہ آزادی کے ون پوائنٹ ایجنڈا کے ساتھ بار بار کرتی آرہی ہے


