×

عابد دشتی ۔۔۔۔۔۔حقائق کی اذیت سے بچنے کے لئے فرضی نسبتا جعلی نام تحریر۔ زمور آزاد بلوچ وائس چیئر پرسن بلوچ گہار موومنٹ

عابد دشتی ۔۔۔۔۔۔حقائق کی اذیت سے بچنے کے لئے فرضی نسبتا جعلی نام تحریر۔ زمور آزاد بلوچ وائس چیئر پرسن بلوچ گہار موومنٹ

اس کی روایتی سوچ اس کی اپنی کالم سے ہی واضح ہے کہ وہ حقائق کی اذیت سے بچنے کے لئے فرضی یا نسبتا دوسرے الفاظ میں جعلی نام سے لکھنے کو ترجیح دے کراپنا نقطہ نظر بیان کی سوال یہ اٹھتا ہے کہ ایک اہم قومی امور پر بات کرنے کے لئے بھی جعلی نام پر اکتفا کرنا چاہیے یا پھراخلاقی جرائت کا تقاضا کچھ اورہے کہ کسی کے پاس اگر اختلافی نقطہ نظر ہے یا کسی کے پاس کوئی خیال ہے تو وہ براہ راست بات کریں دلیل دین بحث کریں مکالمہ کریں تاکہ اس کے بارے میں اندازہ لگا یا جاسکے کہ وہ دانشور ہے سیاسی بصیرت اس کی کتنی ہےاس کی علمی صلاحیت کیا ہے؟ وہ دوست ہے دشمن ہے کس روپ کے بہروپ ہے اس کے علاوہ قومی تحریک میں کس حد تک اس کی وابسطگیاں ہے کیا یہ روایتی سوچ نہیں کہ قومی امور پر بات چیت کے لئے بھی فرضی نام سے الزام تراشیان کی جا ئے یا پھر ایک صحت مند
بحث کے لئے علمی و سیاسی و انقلابی رویہ اختیار کیا جائے

بہتر نہیں، اس طرح رائے عامہ میں بے جا الزام تراشیون کے ذریعہ اپنے لئے جگہ بنانے کی کوشش شاید بے سود ہوگا کیونکہ آج ایک عام بلوچ کا تجزیہ شعور علم خام نہیں بلکہ پختہ ہے ایک عام بلوچ یا ایک قاری وہ سب جانتا ہے جو شاید بیس سال پہلے وہ اس احتسابی عمل سے واقف نہیں تھا وہ رہبر کے روپ میں چھپے رہزن کو بھی اپنا مسیحا سمجھ اس کی پوجا کرتا تھا وہ اپنے لٹنے پر بھی تالیاں بجاتا تھا وہ اپنے استحصال پر بھی خوش تھا وہ ان رہزنوں کو بھی پیغمبر کا درجہ دیتاتھا لیکن آج آزادی کی اس جنگ نے قبضہ گیر سمیت ان رہزنوں کی نشاندہی کرکے انہیں ایک سکہ کا دورخ قرار دے کر بے نقاب کردیا جناب عابد بگٹی صاحب چارٹر آف لبریشن کی حمایت گناہ نہیں جس انداز میں آپ نے بلوچ گہار موومنٹ اور بلوچ وطن موومنٹ کے قائد کو ہدف تنقید بناکر حتی کہ الزام ترا شیان کی یا آپ کے الفاظ میں دزگہار ایک دن میں بنی اور دوسرے دن چارٹر کی حمایت کی سب سے پہلے تو آپ کو گوش گزار کروں کہ بلوچ گہار موومنٹ سے منسلک تمام بلوچ خواتین ا س پولیٹیکل پراسس کا حصہ رہے ہیں وہ اس سیاسی عمل کا حصہ اچانک نہیں بنے بلکہ وہ اس کاروان میں پہلے ہی دن سے شامل تھے یہ آپ کی غلط فہمی اورکوتا ہ نظری ہے کہ جن الفاظ کا چناؤ کرکے آپ نے ہماری تنظیم کے خلاف روایتی زبان استعما ل کی یہ آپ کی غیر سیاسی اور لا ابالی پن کو ظاہر کرتی ہے آپ نے سوال اٹھا یا ہے اس لئے جواب دینا یا دوسرے الفاظ میں وضاحت کرنا ضروری ہے کہ بلوچ گہار موومنٹ کیوں بنی وہ حالات کیا تھے ؟جہاں ایک پارٹی یا تنظیم کے آئین منشور کی بالا دستی کے بجائے ایک شخص کو آئین پر ترجیح دیا جائے تنظیم کے بجائے شخصیات کے حکم کی تعمیل ہو انقلابی سوچ کے بجائے قبائلی ذہن کی اہمیت ہو انقلابی تعلیم و تربیت کے بجائے کسی کے نوابی یا سرداری کو مضبوط کرنے کے لئے درس و تدریس دی جائے قومی جدوجہد کے بجائے کسی کی تاج و تخت کو تحفظ دینے کے لئے ان تنظیمون کو بطور پاکٹ استعمال کرنی کی کوشش کی جائے( شال میں بی آرپی کے کونسل سیشن میں میر براہمدگ کی نوابی کی قراداد منظوری زیر بحث نہیں) اور اس سے بڑھ کر حقیقت اور سچائی کو تسلیم کرنے کے بجائے آپ اور یا جن کی پیروکاری پرآپ کو ناز ہے آپ کے قائد زمینی حقائق کے برعکس بار با ر ریفرنڈم کو قومی آزادی کے لئے سیاسی جواز کے طور پر استعمال کریں چارٹر آف لبریشن کو مسودہ آزادی کے بجائے میر حیر بیار مری کا چارٹر قرار دے کیا یہ غیر سیاسی رویہ نہیں ہے اختلاف رائے کاحق ہر ایک کو حاصل ہے لیکن وہ بھی مثبت ہو منفی رائے اختلاف رائے کے ضمرے میں نہیں آتے یہ اناء پرستی خود پسندی اور نرگسیت ہے میر حیر بیار مری ایک قومی نمائندہ کی حیثیت سے بلوچستان لبریشن چارٹر کا مسودہ انہیں پیش کیا اور ساتھ ان سے رائے بھی مانگی اور یہ بھی واضح الفاظ میں کہا کہ اس میں جمع یا نفی کی گنجائش موجود ہے ترمیم و اضاٖفہ کرسکتے ہیں ماسوائے ایک یا دو پوائنٹ کے لیکن اس کا جواب میر براہمدگ نے کس جارحیت کے ساتھ دیا کیا آپ اس رویہ سے چشم پوشی کرسکتے ہیں کیا یہ دانستہ طورپر نہیں کیا گیا پہل کس کی جانب سے کیا گیا یا چارٹر کے مخالفت میں جو جواز پیش کیا جا رہا ہے کیا یہ کوئی فکری جوازہے کیا یہ طرز فکر سیاسی ہے کیونکہ آج بلوچ قوم کسی کی خانیت سرداریت یا نوابیت کو بحال کرنے یا کسی کی تاج پوشی کے لئے جدجہد نہیں کررہا بلکہ ایک آزاد اور سیکولر بلوچ ریاست کے لئے جدوجہد کررہے ہیں اور یہ چارٹر بھی حصول آزادی کا ہی مسودہ ہے بہرحال انہی حالات کی پیش نظر بلوچ گہار مومنٹ کی ضرورت محسوس کی گئی اور سنجیدہ بلوچ خواتین نے بلوچ گہار موومنٹ کی بنیاد رکھی اور رہی چارٹر کی حمایت کی بات یہ ہماری اپنی تنظیم کی پالیسی ہے ہم نہ کسی کے فرمانبردار ہے اور نہ ترجمان لیکن جو حقیقت ہے جو سچ اور صحیح ہے ہم اس کی حمایت میں آخری حد تک جانے کو درست سمجھتے ہیں بلوچ قومی سیاسی ماحول میں ہم عرصہ سے محسوس کررہے تھے کہ یہان سیاسی تنظیموں یا پارٹیوں میں انقلابی سوچ کی نشود نما ء میں جہاں روایتی سوچ رکاوٹ ہے وہاں اس روایتی سوچ پر فرسودہ قبائلی چھاپ بھی ہے ہر ایک، ایک مخصوص شخص کی حکم بردا ر ہے اور ہر ایک اسی ریڈ میڈ عقیدے کو نظریہ مقصد اور تنظیم پر ترجیح دے رہاہے ہم نے محسوس کرلیا کہ ہم کب تک اس عقیدہ پرستوں کے ہاں میں ہاں ملاکر چلیں گے اس لئے ہم اپنے راستہ کا انتخاب کرکے بلوچ گہار موومنٹ تشکیل دی لیکن انہیں ہماری اس طرز وعمل اور وجود سے تکلیف ہے حیرانی اس بات پر ہے کہ وہ ہمارے وجود سے کیوں فرسٹریشن کا شکار ہے ہماری اس رضا کارانہ وابسطگی بھی ان کو ہضم نہیں ہورہا یا وہ ہماری وجود سے اس سے لئے نالاں ہے کہ ہم ان کے پیرسید اور قطب کے عقیدہ کے برعکس اپنی سمت کا تعین اپنی تنظیم کے اغراض و مقاصد اور نصب العین کے ذریعہ کرچکے ہیں یا ہم کسی کے بے جا ناراضی کے پرواہ کئے بغیر حقیقت کا ساتھ دے رہے ہیں اس پر انہیں اعتراض ہے ہم اپنی طرز و عمل اوررویہ سے محسوس کروائے ہیں کہ ہمیں جہاں بھی سچائی نظر آئی ہم سچائی کا ساتھ دیں گے اور جہان ہمیں غلط نظر آئی تو غلط کو غلط کہنے میں ہار محسوس نہیں کریں گے اور غلط کو صحیح کہنے کی منافقت نہیں کریں گے کوئی دشنام دیں یا الزام ہمیں کسی کی اندھی اطاعت پر مجبور نہیں کیا جا سکتا قومی جدوجہد اور حالات کے ابھرتے ہوئے آئینہ میں ہر چیز واضح اور شفا ف ہے کہ کون کیا ہے ؟ کمزوریان خامیان کہاں ہیں کون محنت قابلیت اور صلاحیت کے بنیاد پر یہ مرحلے عبور کئے ہیں اور کون شاہ خرچیوں،پیسہ کی بہتات اور ریل پیل سے اپنے آپ کو منوانے کی کوشش کررہے ہیں جناب عابد صاحب دوسرے پارٹیوں اور تنظیموں کے گزشتہ ادوار پر نظر ڈالئے ان کی ماضی اور حال اور قدم قدم پرمشکلات وسائل کی کمی جیسے مسائل کے حصار میں ہیں لیکن آپ کی پارٹی اس مشکلات سے قدرے اجنبی رہا ہے ان کے مقابلے میں آپ نے وہ تکالیف اس شدت سے محسوس نہیں کی ہے جن تکالیف سے ان کا واسطہ رہاہے اس سب کے برعکس ہمیں اس نقطہ نظر پر حیرانگی ہے کہ شخصیات کو مقدس کیوں سمجھا جاتا ہے انہیں پارسا اور متقی کیوں قرار دیا جا تا ہے وہ پیر وقطب کیوں ٹہرتے ہیں ان کی غیر سیاسی رویوں پر انگلیاں اٹھانے والوں کی انگلیاں کیوں کاٹنے کی نوبت پیدا کی جاتی ہے بات کرنے کے بجائے زبان بندی اور چپ رہنے کو معمول کیوں بنایا جاتا ہے آراہ اور بحث کو کیوں غیر ضروری قرار دیا جاتا ہے علمی اختلاف اور بحث و مباحثہ کا راستہ کیوں بند کیا جاتا ہے مبالغہ آرائی کو پزیرائی کیوں ملتی ہے کیا ہم اسی چال سے اکٹھے چلے کہ سب ٹھیک ہے مہر وسنگتی کی بناء پر کسی کی غلطی یا جرم پر خاموشی اختیار کریں اور اس بہانہ کو سیاسی جواز کے طورپر استعمال کرکے رائے عامہ کو دھوکہ دینے کی کوشش کریں کہ اس سے ہماری یکجہتی کو نقصان ہوگا لیکن یک جہتی کیا ہے اس پر ہم نے کھبی غور کیا ہم کیسے ایک ہیں کس نقطہ پر ایک ہے ہم میں یک جہتی ہوتی تو پھر چارٹر کومخالفت کا سامنا نہ ہوتا بس ایک بہانہ تواترسے بطور جواز استعمال کیا جارہاہے سب آذادی پسند ہے سب آزادی کے لئے جدوجہد کررہے ہیںیہ بات اپنی جگہ صحیح یا غلط لیکن اس کے لئے بھی ایک پیمانہ مقرر ہے ان پیمانوں اور ضبط سے ہٹ کر محض آزادی پسند بننا کافی نہیں ہے ان پیمانوں کو نظر انداز کرنا اغراض و مقاصد اور نظم و ضبط کا بلاد کار کرنا اور ان خلاف ورزیوں پر اٹھنے والی سوالوں کے لئے خاموشی کو عبادت قرار دینا میری خیال میں غیر سائنسی جواز ہے تمام ڈرائیور ز کی ٹریفک اصولوں سے واقفیت اور آگائی کے باوجود سڑک پر ٹریفک سارجنٹ کا ہونا لازمی کیوں ہے بلکل ایک تحریک کے لئے آزاد خیالی کے بجائے نظم و ضبط اور تنظیم کا ہونا لازمی ہے دنیا ڈسپلن کو پسند کرتی ہے خود رو انداز کسی کو بھی پسند نہیں یہ انسانی جبلت کا خاصہ ہے انسانی سماج با ر بار ڈسپلن کی جانب اشارہ کرتا ہے ڈسپلن کے بغیر ایک تنظیم ہی نہیں ایک معاشرہ بھی خود رو انداز میں نہیں چل سکتی اگرایک سماج خودرو انداز اختیار کریں تو پھر وہ کتنی کرپٹ ہوگی کن کن غلاضتوں کی آماج گاہ بنے گی وہ زوال پزیر ہوگی ترقی کا عمل منجمد ہوگا وہ سماج بانجھ ہوگی وہ تخلیق سے محروم ہوگی اور شدید قسم کے بحران کے شکارمیں آنا اس کی مقدر ہوگی ہے کیا یہ مرحلے دنیا کے دیگر تحریکوں میں نہیں آئی دنیا کے تمام انقلابی موومنٹس میں یہ مرحلے آتے رہے ہیں ماؤزے تنگ اور لینن کے تمام تقاریر اس طرح کے حوالہ جات سے بھری پڑی ہے وہان بھی آزاد خیالی اور غیر سیاسی رویون کو نشاندہی کی گئی ہے اور ان بیمار رویوں کو انقلابی تحریکوں کے لئے ناسور قرار دیا گیا ہے اان رویوں سے تحریک کی صحت کو فائدہ نہیں ہوگا بلکہ ایلوپیتھک ادویات کی طرح یہ مضر اثرات سے خالی نہیں بحر حال موصوف کالم نگار نے جو کچھ لکھا لکھنے میں کوئی حرج نہیں لیکن بے بنیاد الزام تراشی کے بجائے اگر وہ مکالمہ کے اندازمیں دلیل کے ساتھ بحث کرتا تو بہتر تھا اور دوسری بات یہ کہ میر قادر نے کھبی بھی کسی فرضی نام کا سہا را نہ لیا اور جو کچھ کہا دوٹوک انداز میں کہا اور جرائت کے ساتھ اپنی مؤقف پر ڈٹے رہے یہی ایک انقلابی کے نشانی ہے کہ وہ اپنی بات ڈنکے کی چوٹ پر کہیں بے پرواہ اور بے لحاظ ہو کربات کریں یہی واحد انقلابی رہنما اصول ہے کہ جو کچھ کہنا ہے پیٹھ پیچھے کہنے کے بجائے براہ راست اور روبرو ہو کر کہانہ کسی فرٖضی نام میں چھپنے کی کوشش کی اور نہ جعلی تنظیم کے بیساکھیون کا سہارالیا بہر کیف موصوف کے زبانی کی اس کی اتنی اہمیت کیوں ہے۔۔۔ ہرایک کی اپنی اہمیت اور قد ان کی کردار و عمل کی بنیاد پرہوتی ہے اور موصوف سمیت ان کے حلقہ احباب کو اب میر قادر کے خلاف اور کوئی پروپیگنڈہ نہیں سوجھی اس لئے انہوں نے ماضی کے گورکھ دھندون کو ٹٹولنا شروع کیا تا کہ انہیں بطور پروپیگنڈہ کوئی مواد ملے لیکن موصوف کے معلومات میں یہ اضافہ ہو کہ جومواد بطور پروپیگنڈہ میر قادر کے خلاف انہوں نے لائی ہے اس میں اتنی وزن نہیں ہے کیونکہ میر قادرمسقط آرمی میں مکران کے بھرتی مہم کے دوران شامل نہیں ہوا بلکہ وہ 1983میں مسقط آرمی جوائن کرلی ظفاری تحریک تو1980میں ختم ہوچکا تھا اس کا کوئی وجود ہی نہیں تھا جب 1983 میں میر قادر نے مسقط آرمی جوائن کی تو ظفاری تحریک قصہ پارینہ بن چکا تھا اس کی مسقط آرمی میں بھرتی کو ظفاری تحریک سے جوڑنا غلط او بے بنیا دہے موصوف کو گوش گزار کیا جاتا ہے کہ اس کی یہ معلومات نا قص اور بوسیدہ ہے کھوکھلے اور بوسیدہ پروپیگنڈوں کے ذریعہ اپنے لئے آسودگی پیدا کرنے کے بجائے موصوف اپنے لئے مزید نفسیاتی اذیت پیدا کرنے کاسبب بنے گا ہمارے لئے تو یہ مستندثبوت ہے کہ کہ کم از کم میر قادر بلوچ اس قبضہ گیرریاست کی نوکری اور ملازمت نہیں کی پاکستان آرمی جوائن نہیں کیا پارلیمنٹ میں نہیں گیا وزیر ومشیر نہیں بنا بلوچ وسائل کے نیلامی اور فروخت کے بہتی گنگا میں شامل نہیں رہا ہزاروں بلوچ بیرون ممالک ملازمت اور مزدوری کررہے ہیں مسقط سمیت متحدہ عرب امارات کے علاوہ دنیا کے کئی ممالک میں بلوچ ملازمت کررہے ہیں اس میں کیا گناہ ہے بیرون ممالک جاکر ملازمت کرنا کوئی جرم نہیں ہے میری خیال میں کسی کو بھی اس سے اختلاف نہیں ہے البتہ قبضہ گیر کی پارلیمنٹ میں بیٹھ کر اس کی استحصالی ہتکھنڈوں کا ساتھ دینا اس کی لوٹ ومار میں شامل ہونا ضرور جرم ہے اس کو سپورٹ کرنا اس سے ہمدردی کے لئے قدم بڑھانا قدم ملاکر چلنا یا اس کی قبضہ کو سیاسی طور پر سپورٹ کرنا اس کی کسی بھی مکروہ عمل کا حصہ بننانہ صر ف جرم ہے بلکہ جرم عظیم بھی ہے آپ ثابت کریں کہ میر قادر نے قبضہ گیر کی پارلیمنٹ کا حصہ بنا یا اس کے کسی سیاسی انتظامی ا استحصالی نظام میں شامل ہوا ہماری پاس ثبوت ہے کہ آپ نے قبضہ گیر کے پیسوں سے اپنی تجوریان بھر لی کل تک پاکستان کی وفاداری پر آپ کتنے نازان تھے آپ کی ایڑی زمین پر نہیں لگتے تھے آپ ا تنے پارساء نہیں جتنا کہ آپ اپنی پارسائی کے نشہ میں چور الزام تراشیاں کررہے ہیں ماضی کے مزاروں کو مت ٹٹولئے اگر ہم نے ماضی کے سینے میں مدفن بھید ڈھونڈھنا شروع کیا تو پھر آپ کی ماضی اتنی شاندار نہیں ہوگی وہ موقع ازرائے معذرت ہمیں مت دو پھر اس بحث کو سمیٹنے کے لئے مشکلات پیدا ہوگی جو ماحول بنے گا اس ماحول میں ماضی اورحال سب عریان ہوگی
عابد بگٹی صاحب آپ کی اس سوچ پر ہمیں افسوس ہے کہ آپ با ر بار میر قادر کو اکیلا یا ایک فرد کہنے کی جو تکیہ کلام اپنا یا ہے کیاآپ اور آپ کے حلقہ احباب کی آنکھوں پر پٹیان باندھی گئی ہے کہ بلوچ وطن موومنٹ کے سیکریٹری جنرل غلام اللہ بلوچ خضدار زون کے صدر شہید نثار بلوچ اورسنٹرل کمیٹی کے ممبررحمت اللہ شاہین کی مسخ لاشین آپ کو نظر نہیں آتی کیا انکا تعلق بلوچ وطن موومنٹ سے نہیں تھا اگر تھا تو آ پ کس بنیادون پر میر قادر کواکیلا قرار دے رہے ہیں کیا ان کی قربانیان آ پ کو نظر نہیں آتی کہ جب میر قادر کوکئی با ر گرفتار کیاگیا اغواء کیا گیا وہ تین سال تک مسلسل ان جیل اور عقوبت خانوں کی تاریک کھوٹیوں میں پابند سلاسل کئے گئے اس کے پورے خاندان کو ٹار چر کیا گیا اس کے پارٹی کے خلاف ریاست نے گھیرا تنگ کردی پھر بھی آپ کہتے ہیں کہ اس کی اہمیت کیوں ہے اگر آپ اس کی سیاسی پس منظر کو بھی ٹٹولے تو آپ کو ایسا کوئی مواد نہیں ملے گا کہ اس کے ماضی پر انگلی اٹھا ئی جا سکے اس کی والد میر جمعہ خان سمالانی اسی جدوجہدکی پاداش میں سات سال جیل کاٹے ہیں اگر معلومات نہیں تو گل خان نصیر کی ہفت ہیکل ضرور پڑھیے اس کی بھائی شہید میر سفر خان 1973میں بلوچ قومی آزادی کے لئے پہاڑوں پر چلے گئے اور اسی راہ آزادی میں امر ہوگئے۔۔۔۔۔۔

۔۔