×

ردانقلابی قوتوں کا بلوچ سائیکی اور جذبات سے جوا بازی تحریر سعید یوسف بلوچ ( بشکریہ زرمبش اکتوبر 2012)

ردانقلابی قوتوں کا بلوچ سائیکی اور جذبات سے جوا بازی تحریر سعید یوسف بلوچ ( بشکریہ زرمبش اکتوبر 2012)

بلوچ قومی مسئلہ جو اپنے دامن میں ایک وسیع قومی تناظررکھتا ہے اس لئے ہم بحث کا آغاز ماضی سے جوڑنے کی کوشش کریں گے وہ ماضی جس سے ہمارا اٹوٹ تعلق ہے اور جس کے سینے میں ہماری تاریخ مدفن ہے وہ ہمارے لئے مشعل راہ ہے اور ہماری راہنمائی کرتا ہے ہماری ہاتھ پکڑ کر ہمیں جدوجہد پر اکساتا ہے برخلاف اس کے کہ قابض جو ہماری ماضی اور تاریخ کا سرقہ کرتا ہے اور ہماری ماضی کوسنسر کرتاہے بلکہ جو کچھ وہ ہماری رائے عامہ میں لے کر آتاہے وہ ہماری تاریخ نہیں بلکہ رد تاریخ ہے اس لئے ہم دوٹوک کہ سکتے ہیں

کہ ہماری تاریخ ہماری آزادی کاسب سے بڑا فکری مقدمہ اورجواز ہے نوآباد کار جب آتاہے تو وہ سب کچھ تباہ کرتا ہے آپ کے مکتب آپ کے علم آپ کی سوچ آپ کا نیشنلزم آپ کاسیاسی فکر سب کو اپنی حملوں کا ہدف بناتا ہے اور بعد میں حکومت کرتا ہے کالونائزر کے نزدیک آپ وحشی ہے آپ جائل ہے آپ غیر مہذب ہے آپ قدامت پرست ہے آپ ناخواندہ ہے آپ کچھ بھی نہیں جانتے اوروہ اپنے آپ کو جدیداور برتر حیثیت کا لاحقہ لگا کر مقبوضہ قوم پر حکومت کرتا ہے لیکن نہ اس کے پاس علم ہوتا ہے نہ ان کے پاس تاریخ نہ ان کے پاس ہنر نہ ان کے پاس معیشت نہ مذہب وہ بے سر وسامان آتا ہے ان کے پاس صرف ایک پست ذہن ہوتا ہے کہ’’ دہشت گردی کرو،قبضہ کرو لوٹو اور خود کو سنوارو‘‘ کالونائزر جو امپریلزم کاایجنٹ اور کرایہ کا بازو ہوتا ہے وہ جو ذہن لے کر آتا ہے وہ امپریلزم کے لٹریچرپرمشتمل پست خیالات ہوتے ہیں ہے نہ اس کے پاس علم ہوتا ہے نہ اس کے پاس اخلاقیات نہ کہ تہذیب اور نہ کہ مذہب وہ اپنے معاشی چولہا کو گرم کرنے کیلئے ہمیشہ مکاری اور جعلسازی کرتا ہے وہ نام نہاد جدیدیت کی بات کرتا ہے لیکن نہ وہ جدلیات کو جانتا ہے نہ کہ سائنس کو بلکہ ان کا پورا نظام غیر مصفانہ، وحشیانہ ، بد عنوانی اورجہالت پر مشتمل ہوتا ہے اس کے برعکس ہماری ماضی ہماری تاریخ ہماری سماج اس کے مقابلہ میں ہزار گناہ ترقی یافتہ و تہذیب یافتہ ہے ہماری تاریخ ہماری اشتراکیت اور اشتراکی سماج کا عکس ہے بلوچ نیشنلزم جو قطعی طور پر ایک سائنسی جدلیاتی اور مکمل طور پر انقلابی نظریہ ہے وقت کے تھپیڑوں اور حالات کے بے رحمی نے ہماری قومی اقدارپر ضرور ضرب لگائی لیکن مجموعی طور پربلوچ نیشنلزم کی روح اور مدافعت و مزاحمت کی جوہر پر اثر انداز نہ ہوسکے قبضہ گیر نے لاکھ کوشش کی کہ وہ ہمیں قومی شعور سے بیگانہ کردے نیشنلزم سے ہمارا ربط اور مراسم ٹوٹے تاکہ ہم ذہنی اور نفسیاتی طور ان کے غلام بن جائیں اس سلسلے میں انہوں نے ہماری صفوں سے کچھ کارندہ پیداکئے جو ہر نوآباد کار اور ہر حملہ آور کا سلسلہ چلا آرہا ہے کہ وہ جہاں بھی جاتے ہیں اپنی قبضہ کو جواز دینے کے لے ایسے روبوٹ کارندے پیدا کرتے ہیں بلوچ وطن میں یہی کچھ ہوا اور قابض ریاست نے مختلف محاذوں پر کام کیا اور مختلف محاذکے افراد پیدا کئے تاکہ بلوچ احساس آزادی کو بلوچ رائے عامہ سے ختم کرکے ان کی جگہ نوآبادیاتی سوچ کو پیدا کرکے بلوچ قومی تشخص کو نام نہاد پاکستانی قومیت کے قالب میں ڈالکر بلوچ قومیت کو پاکستانی شہریت متعارف کروا ئے یہاں کتنا بڑا سنسر شپ اور تضاد ہے کہ ایک ایسی قوم جس کی قومیت ہزاروں سال سے’’ بلوچ ‘‘آرہائے لیکن کالونائزر جس کی عمر بھی بلوچ تاریخ کے عمر کے مقابلے میں ایک فیصد بھی نہیں ہمارے باپ دادا جو بلوچ تھیں ایک دم ہم پاکستانی کیسے ؟ یہ کتنا بڑا جھوٹ اور فراڈ ہم سے اورہماری تاریخ کے ساتھ کیا گیا قابض کی یہ فطرت اور ذہنیت کہ وہ ہر لفظ کو اپنی مرضی کا معنی پہنا دیتی ہے جو ان کے مفادات کو وارے کھاتی ہے جو اپنی قبضہ اور لوٹ مارکو تحفظ دینے کیلئے ہمیشہ سفید جھوٹ کا سہارا لیتا ہے وہ کھبی مذہب کو ڈھال بنادیتا ہے کھبی تعلیم کے مقدس نام پر بہلانے اور بے وقو ف بنانے کی کوشش کرتی ہے اور کھبی ترقی کے نام پرفراڈ کرتا ہے اس کی چاروں ا طرف فراڈ اور جعلسازی بکھرے ے ہوئے ملتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ وہ مجرم ہے اور وہ اپنے جرم چھپانے کے لئے اپنی ہی اداروں کی وکیلوں کی نقل اتار کر مختلف طریقوں سے اپنی قبضہ کی وکالت کرتی ہے پاکستانی عدلیہ جسے عدلیہ کہنا بھی انصاف کی توہین ہے اگر وہاں دیکھا جائے تو وکیل اپنی مؤکل کی پیروی کس جھوٹی دلیلوں کے ساتھ کرتی ہے اگران کے معاشرے میں کسی نے قتل بھی کیا تو اسے بے گناہ بری کرواتاہے اگرکوئی کمزور جو مجرم نہیں بھی لیکن نوآبادیاتی ریاست کایہ وکلاء انہیں گناہگار ٹہرا کر پھانسی پر لٹکاتے ہیں نوآبادیاتی ججز کا انصاف وکلاء کے زبانی اور تحریری دلیلوں اور مقدمہ کے گرد گھومتی ہے وہ جرم کی کسوٹی وکلاء کی دلیلوں سے کرتی ہے انصاف کی کسوٹی پر یہاں کو ئی فیصلہ نہیں کیا جاتا یہ ان کی عدالتوں کی بدعنوانی کی ایک مختصر مثال ہے لیکن اس کے برعکس بلوچ سماج میں عدلیہ کا تصور بلکل مختلف ہے بلوچ قومی عدالت بد عنواں اور بوسیدہ نہیں ان میں فیصلہ انصاف اور زمینی حقائق کی بنیاد پر ہوتی ہے اس کے علاوہ اگر بلوچ سماج کا باریک بینی سے مطالعہ کیا جائے تواس میں نظم وضبط ملے گا جو انتشار آج پاکستانی ریاستی اداروں میں ہیں وہ بلوچ سماجی و معاشرتی تاریخ میں دور دور تک بھی نہیں ملیں گے (آج کی نوآبادیاتی تسلط کے ادوار زیر بحث نہیں جہان عمومی طورپر سردارکا کردار ریاست کے ایک کارندہ کے طور پر ملتا ہے ور وہ بلوچ قدیم قبائلی تنظیم کے بجائے ریاستی بدعنوان نظام کاحصہ بن چکاہے) بلوچ معاشرے میں قبائلی تنظیم کی مرکزیت بلوچ قوم ہے قبائلی تنظیم جوالگ الگ یا انفرادی قبیلہ کی تنظیم نہیں بلکہ بلوچ سماج کی ریڈیکل اور کل بلوچ تنظیم ہے تمام بلوچ ایک ہی نظم ضبط کی پابند ہے جو خود رو قوانین پر مشتمل نہیں ہر قبیلہ اپنے طور پر خود رو قوانیں نافذ نہیں کرسکتا بلکہ وہ ان قوانیں کا پابند ہے جو سب کے لئے یکساں طور پر رائج ہیں

جو آج کے جدید سرمایہ دارانہ و نوآبادیاتی ریاست سے قطعی مختلف انقلابی اور اشتراکی ہے اور ایک شاندار ضبط سے منسلک ہے گوکہ جس جدید ریاست کاتصور امپریلزم پیش کرکے اس پرآج ناز کرہا ہے بلوچ قبائلی تنظیم ہمیشہ سے اس سے مختلف رہاسائنسی اعتبار سے بھی آج کی جدیدریاست جو سرمایہ داری نظام کے تابع ہے جوانسانی و سماجی ترقی کے بجائے زیادہ سے زیادہ منافع کی دوڑ میں ہیں اگر دیکھا جائے تو جدید سرمایہ دارانہ ریاستوں نے انسانی سماجوں کو سب سے زیادہ تباہ برباد کردیا اگر دیکھا جائے تو آئین جو پاکستانی ریاست کے لئے کاغذکا ایک پلندہ ہے بہ نسبت اس کے بلوچ سماج میں آئین کی حیثیت مقدس ہے جس کے خلاف ورزی کی جرائت کسی سردار سے ایک چرواہا تک کو نہیں ہوتی میں یہاں وضاحت کروں کہ آج بلوچ سماج میں جو فرسودگیاںآئی ہیں چائے وہ قبائلیت میں ہو چائے وہ سیاست میں ہو ے چائے مذہب کی بنیاد پر ہویہ فرسوگیاں فطری نہیں بلکہ مصنوعی ہے جو نوآبادیات کی کھوکھ سے جنم لے کر آئے ہیں جو قابض کی جانب سے پھیلائی گئی ہیں انگریز نے جوفرسوگیاں لائی پنجاپی نے اس کو مزید گرم درجہ حرارات دیکراس کی بھاپ سے بلوچ سماج کی سیاسی ادبی ثقافتی مذہبی اور معاشرتی فضاء کو آلودہ کردیا آزادی سے قبل ان فرسودگیوں کا تصور تک نہیں تھایہ کالونائزر کی فطرت ہے کہ وہ جہان بھی جاتا ہے حملہ کرتا ہے اس سماج کی مادی اور نظریاتی استحصال کرتے ہوئے بجائے شرمندہ ہونے کے اپنے جرائم پر پردہ ڈال کرلوگوں کے زہنوں میں یہ بھٹانے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ ان پر احسان کیا ہے وہ ہمیشہ نیک مقاصد ،خیرات ، امداد ، نوکریاں اور پیکجز کے پردہ میں چھپنے کی کوشش کرتا ہے وہ رائے عامہ کے ساتھ جمہوریت خوشحالی ، ترقی وغیرہ کے نام پر جواء کھیلتا ہے یہ جوا بازی روز کا معمول بنتے ہیں اس کا ایک بڑا مثال عراق کی ہے جہان عراق کی ترقی و تعمیر کے لئے ایک طرف 13ارب ڈالر کا اعلان ہوتا ہے اور دوسری طرف اسی عراق کو تباہ کرنے کے لئے150ارب ڈالرکااسلحہ باروداور تباہی کے آلات واوزار استعمال کیا جاتا ہے یہ سامراج اور کالونائزر کی مضحکہ خیزکردار ہے اور اگر یہاں بلوچ وطن میں دیکھا جائے تو نصف صدی سے یہان پنجابی کالونائزر نے کتنی بار جوا ء بازی کی ہے اور اس جوا ء بازی میں بلوچ جعلی قیادت نے انکے ساتھ کتنی بار سودا بازی کرکے بلوچ قومی آزادی اور آزاد بلوچ ریاست کی بحالی کو تاخیر زدہ کیا اوریہ رد انقلابی جو بلوچ نیشنلزم کی خلاف نظریاتی یلغار کرکے اور نام نہاد پاکستانی ریاست کو اپنی ملک اور وطن سے منسوب کرکے پاکستانی قومیت کو ابھاراجو کہ بلوچ قومی مسئلہ میں ابہام لاکرخود کو صوبہ جاتی سیاست سے منسلک کرکے کہا کہ آزادی کی تحریک ختم ہوچکی ہے اور پاکستان ایک کثیر القومی ریاست ہے ان کی یہ خام خیال تھا کہ اب آزادی کا ہر امکان اور ہر خدشہ اور نظریہ کو انہوں نے فتح کرلیا ہے اس لئے وہ اپنے پارٹیوں کی آئین ودستورمیں پاکستان کوبلا جھجک اور کھل کر ایک کثیر القومی ریاست کے طور پر تسلیم کرکے بلوچ تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کی حتی کہ ان میں1948میں ایوان زیریں میں بلوچ وطن کی جبری الحاق کے خلاف تاریخی تقریر کرنے والے غوث بخش بیزنجو بھی شامل تھا جنہیں بلوچ ہونے پر ناز تھا وہ بھی پاکستاں کو اپنا ملک کہنے پرفخر کرتا رہایہ تبدیلی اچانک کیسی آئی اس تبدیلی اور جست کے پیچھے کیا تھا ریاست کی فوجی طاقت یا ان کی رشوت ’’دسترخواں کے بھچے ہوئے ہڈی اور روٹیوں سے کس کے حصہ میں کتنا آئی ۔کس کی بینک بیلنس میں اضافہ ہوا بلوچ سرزمین کی دلالی کے عوض کس کس کے جیب بھر کر ان کی ذہن تبدیل کیا گیاکس کس کوبرین واش کیا گیا اور خریدا گیا کہ وہ ایک ہی جست میں پاکستانی قومیت کے غیر فطری تشخص کو کیسے قبول کئے ؟پیسہ کے لئے کس نے اپنا ایمان اور نظریہ بیچاجو ایک وقت جبری الحاق کے خلاف تھے پھر وہ پاکستانی سوچ کے ساتھ کس طرح الحاق کیااور وہ پاکستانی نمائندہ کے طور پر کیوں ابھرے تاریخ اور معروض نے ان کی نظریاتی غداری کا محاسبہ کرچکا ہے کل تک وہ بلوچ سماج میں کتنے معتبر تھے آج ان کا کوئی مقام اور احترام نہیں مجھے معلوم ہے کہ میرے یہ الفاظ کچھ لوگوں کو ناگوار ضرور گزریں گے لیکن تلخ نوائی کی معافی بھی نہیں چاہتے کیونکہ مروت کے مادے نے ہماری تحریک کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا حالانکہ مروت تلخی نہیں محبت ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے حلقوں میں مقصد سے زیادہ مروت کو اہمیت دی گئی ان لوگوں کے گناؤں پر جان بوجھ کر پردہ ڈالی گئی کہ وہ بلوچ ہے یا سردار ہے یا پھر سماج میں اس کی بڑی احترام ہے اس کی اندھی تقلید میں اس بات کا ادراک تک نہیں کیا گیاکہ وہ بلوچ ہی صحیح لیکن ہمیں کہاں لے جارہاہے کیا وہ ہمارا لیڈر ہے یا رہزن کیا وہ ہماری لئے جدوجہد کرہا ہے یا دشمن کو مضبوط کرنے کے لئے جدوجہد کرہا ہے اور ہم مروت کے مارے خودکو فریب دے رہے ہیں کہ وہ ہمارا مسیحا ہے لیکن معروض اور اور تاریخ کل کے مسیحا کو آج قاتل کے روپ میں پیش کرہاہے کیوں ؟کیا تاریخ اورر وقت محض اپنے سے آپ اندازہ لگارہے ہیں یا وہ تاریخی کا تناظرہے کہ ان کے کردار کی درست عکس بندی کی ہے اور ہم آنکھیں موندھ کربھیڑ چال میں ان کے پیچھے پیچھے چلے جارہے تھے ہمارے سائیکی اور جذبات سے جواء بازی ان کا معمول رہا اور وہ ہمیںں اپنے سیاسی مکر فریب اور ہنر سے دھوکہ دیتے رہے اس کالم کو لکھنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ نو آبادیاتی نظام کتنی عریاں اور بوسیدہے اور رد انقلابی جو اپنے مجرمانہ کردار سے بلوچ سماج کیلئے کتنی ازیتیں اور عذاب لے کر آئے ہیں کیا ہم انہیں مزید چھوٹ دیں کہ وہ غلامی کے عذابوں کو بڑھاتے رہیں یاپھر یہ دیکھا جائے کہ ان کا اپنا کردا ر سماج کے کاندھوں پر کتنا وزن اوربوجھ ہے یہ جس نظام کا حصہ بنکر بلوچ جدوجہدکے خلاف دشمن کی نوآبادیاتی نظام کا حصہ بن چکے ہیں وہ نظام وحشیوں کی تخلیق ہے اس نظام نے ہمارے سماج میں کس قدر گندگی اور تعفن پھیلایا ہے نو آبادیاتی نظام کو کوئی مسیحائی نظام نہیں بلکہ دہشت گردی ہے اس کی آبیاری دہشت اور خوف سے ہوتی ہے یہ امید پیدا نہیں کرتی بلکہ مقبوضہ سماج کو بیمار زدہ کرتا ہے اس کا جوہر نکال کر اس رگون میں افیون بھردیتا ہے جبکہ انقلاب ہی اس کا واحد علاج اور موت ہے

انقلابی تحریکیں جو الفاط کو بے معنی نہیں کرتے بلکہ ان کو اصلی اور حقیقی معنی پہناکر انقلاب کا اتھارٹی استعمال کرتے ہیں جو بیمار سماج کی سرجری کرتے ہیں وہ مردہ جسموں میں روح پھونکتے ہیں وہ قوموں کو نیند کی غفلت سے جگاتے ہیں جنجھوڑتے ہیں ان سے قربانی کاتقاضہ کرتے ہیں انقلاب کتنا مختلف ہے وہ کسی قوم کو افیوں دے کر نشہ نہیں کرتا بلکہ وہ افیونی کو غلاضتوں سے نکال کر ان کاعلاج کرتا ہے اور انہیں سماج کے لئے ایک تندرست اور کار آمد انسان بنا تا ہے تو کیا ہم اپنی آزادی اور تاریخ بھول کر پارلیمانی جماعتون نوآبادیاتی سکولون اور آج کے کارپوریٹ اور اشتہار باز ٹیلی وژن کے ٹاک شوز اور ان کے پس پردہ نقالون کے جھانسے میںآئے کہ ان سب کا آپس میں ایک مجرمانہ الحاق ہے اور یہ سب ہماری کاز کے نظریاتی دشمن ہے یہ محض ایک تصویر کشی نہیں کی ہے بلکہ ان تمام مراحل ا ور ان تضادات کا ایک تجزیہ ہے اسلئے ہمیں چایئے کہ ہم ان ردانقلابیوں کی سرکشی کو سمجھیں ہمدردی کے دو بول انقلابیوں کی سامنے کوئی اہمیت نہیں رکھتے جیسے کہ ڈاکٹر مالک کے الفاظ میں ’’ کہ آزادی اچھی ہے مگر جمہوری طرز پر یا کہ جمہوری بنیادوں پر جدوجہد ان کی تجربات کا نچوڑہے‘‘ یہ بلوچ سائیکی کے ساتھ نیا کھیل نہیں یہ ہمارے نفسیات سے ہر روز کھیلتے ہیں اور اب وہ جمہوری جدوجہد کا جواز پیش کرکے جس بذدلانہ دھاک سے بات کررہی ہے ہم نے کب کہا کہ ہم رستم زمان ہے اور مالک صاحب ’’جمہوری ‘‘مالک صاحب کس جمہوریت کی بات کرتا ہے کیابلوچ وطن پر قبضہ ایک جمہوری عمل ہے کیاآزادی کی جدوجہد خالی ہاتھ لڑی جاتی ہے مالک صاحب اپنے تجربات سے ایک مثال تو دیں کہ کہاں بندوق اٹھائے بغیر کسی کو آزادی ملی گاندھی نے جو عدم تشدد کی بات کی کیا ہندوستان کو صرف کانگریس نے آزادکیا یا چندر شیکھر آزاد سبھاش چندر بوس بھکت سنگھ لا لا لاجپت رائے اور ہزاروں شہداء کی قربانیاں اس کی آزادی کی بنیاد نہ تھی مالک صاحب گاندھی نے جو اہنسا کی بات کی لیکن قبضہ گیر انگریزنے ان کی جمہوری اور سیاسی جلسہ پر فائر کھول کر جلیانہ والا باغ میں ایک ہزار افراد سے زائد کو شہید کیا اور حتی کہ ان کی گولیان ختم ہوگئی اگر ان کے پاس کارتوس ہوتے تو انگریز جنرل کے اپنے الفاط میں کہ میں اس سے بھی زیادہ افراد کو نشانہ بناتا لالا لالجپت رائے کو سائمن کمیشن کے خلاف ریلی نکالنے پر شہید کیا گیااور خود بلوچ سیاسی جماعتیں جو آزادی کی جدوجہد کررہے ہیں جو جمہوری جماعتیں ہیں اس کے باوجود ریاست نے کتنے غیر مسلح بلوچ شہید کئے ریلیوں اور جلسوں پر حملہ کیا مالک صاحب آپ کی جمہوری مبالغہ کے پیچھے کئیں مارکیٹ ویلیو بڑھانامقصد تو نہیں کیونکہ یہاں رواج ہے کہ اشیاء کی معیار جیسا بھی ہو اس کی معیار کو درست نہیں کیا جاتا کھبی پیکنگ بدل کر کھبی نام بدل کر وہی بوسیدہ معیار کو صارف پربیچا جاتا ہے جب کہ معیار وہی ہے اور یہ ساری چالبازی ان کی مارکیٹ ویلیوکو بڑھانے کے لئے مقصود ہوتی ہے لیکن انقلابیوں کے نزدیک معیار کی اہمیت ہے ملاوٹ کی نہیں مقدار کی نہیں جب تک دشمن موجود ہے رد انقلابیوں کا کرداراور چلنے کی چال وہی ہے اان کی چال اور مکاری کا سد باب مذمتوں سے نہیں کیا جاسکتا بلکہ رد انقلابیوں کا مقابلہ عوام کے تہوں میں جا کر کیاجا سکتاہے ان کے کردار پر ایک دانشور کی نظر اس مثال سے مماثل ہے’’ کہ ان کا طریقہ واردات شریف النفس ہمسایوں جیسا ہوتاہے کہ جو اس وقت جب کوئی ڈاکو ان کے پڑوس میں کسی کا گلہ کاٹ کارہاہو اور پڑوسی شور مچارہا ہو تو یہ اس سے کہتے ہیں کہ شور نہ مچاؤ ہمارے آرام میں خلل پڑتا ہے یہی نہیں بلکہ وہ اس پڑوسی کو یہ نیک مشورہ بھی دیتے ہیں کہ تم اس ڈاکو کی بات کو دوستانہ طریقہ سے مان لو اور اپنا سب کچھ اس کے حوالہ کرو ممکن ہے اس کے بدلے میں وہ تمہاری جان بخشی کردے‘‘ آج بلوچ تحریک آزادی کے خلاف رد انقلابی جماعتون کے لئے یہ مثال مکمل طور پر فٹ ہے لیکن کیا اہم اپنی جان بخشی کی خاطر ان بھیڑیئے کے روپ میں خیر خواہوں کا مشورہ مان لیں جن کا اندر سے ریاست کے ساتھ ایک ’’یک خیالی مجرمانہ الحاق ہے‘‘ یہ انتہائی ہلاکت خیز سوچ ہوگاکہ ہم اپنی پوزیشن پر نظرثانی کریں اسکے بجائے ہم رد انقلابیوں کی مذمت گلیوں کوچوں کی سطح تک کرکے ان کی ریاستہ ہم کاری اور مراسم کو بے نقاب کریں کیونکہ یہ بد عنوان زوال پذیر اور ففتھ کالم بلوچ قوم اور اس کے وسائل کو دوٹکے کے لئے قابض کے حوالہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں ان کی خیرخوائی اور مشوروں کو ان کو واپس کریں کیونکہ مصلحت کا مطلب غلامی ہے ہم جان بخشی اور جان کی سلامتی کے بھیگ مانگنے کیلئے نہ نکلے تھے نہ واپس ہونگے ہماری مقصد آزادی ہے اس پر مصلحت اور سمجھوتہ ہماری واپسی پر نہیں ہماری موت پر ہوگی بلوچ آزادی کی ان تھک جدوجہدجس کا متبادل آزادی ہے غلام بن کر اس نظام کے ساتھ چلنا ہمارے لئے تکلیف دہ ہے اس کے متبادل جو ہماری جدجہد کا مقصدو محور ہے اس راہ میں جتنا خون اب تک بلوچ قوم نے بہائے ہیں اس سے کئی گناہ زیادہ بہانے کی جرائت اور حوصلہ رکھتے ہیں غلامی کے اس زندگی میں جہان نہ ضمیر زندہ ہوتا ہے نہ انسان کی اپنی وجود اس سے بہتر ہے کہ ہم زندگی کو غلامی کے نام پرایک جانور کی طرح دوسرون کے رحم و کرم بسر کریں بہتر ہے کہ اس کو آزادی کے لئے داؤ پر لگایا جائے کیونکہ ہماری ماضی نے ہماری تربیت سرفروشی کی بنیاد پر کی ہے ہمیں ہماری ماؤں کی گود میں ضمیر فروشی کا سبق نہیں سکھایا گیا بچپن کی لوریوں میں ہمیں لارڈ میکالے کی تعلیم نہیں دی گئی بلکہ ہماری تاریخ ہماری آباؤ جداد کی جانبازی اور بہادری کی تاریخ پر مشتمل ہے پاکستانی سکولوں کے نصاب ہمارے نصاب نہیں ہماری ماضی تعلیم کو جانتا ہے تہذیب سے واقف ہے آرٹ اور ادب کو جانتا ہے سائنس اور ترقی کو جانتا ہے نہ ہم نا خواندہ ہے نہ کورا ہے نہ جائل بلکہ ہمارے اپنے مکتب ہے ہمارا اپنا تاریخی ورثہ ہے ہماری اسلاف کی تاریخ ہمارا سر فخر سے بلند کرتا ہے ہم اپنے آج کو اپنے غلامی کوکھوسکتے ہیں لیکن اپنی ماضی کو گم گشتہ ارواق سمجھ کر ردی کی نظر نہیں کرسکتے جو ہماری مسقبل کی تعمیر نو کرتا ہے بقول رسول حمزہ توف ’’ کہ اگر تم ماضی کو پستول کا نشانہ بناؤگے تو مسقبل تمہیں توپ کا نشابنائے گا

Previous post

بلوچ قوم 28مئی کو یوم سیاہ کے طور پر مناکر بلوچ سرزمین پر ایٹمی ٹیسٹ کی شدید الفاظ میں مذمت اور مخالفت کرتے ہوئے اسے انسانیت دشمنی اور بلوچ نسل کشی سے تعبیر کرتی ہے بلوچ سالویشن فرنٹ

Next post

بلوچ رہنما یوسف عزیز مگسی کا انقلابی ورثہ اور بے لوث جدوجہد مشعل راہ ہے انہوں نے برٹش قبضہ کے خلاف بکھرے ہوئے مذاحمت کو قومی سطح پر منظم اور یکجاء کرکے آزادی کے لئے جدوجہد کے کثیر الجہتی ذرائع کو روشناس کیا بلوچ سالویشن فرنٹ