×

شہید ورنامحراب خان احمدزئی کو بے لوث جدوجہد اور غیر معمولی قربانیوں پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں بلوچ فرزندوں کو شہید کرکے ریاست آزادی کی مضبوط پلرز کو کمزور نہیں کرسکتے ۔بلوچ سالویشن فرنٹ

شہید ورنامحراب خان احمدزئی کو بے لوث جدوجہد اور غیر معمولی قربانیوں پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں بلوچ فرزندوں کو شہید کرکے ریاست آزادی کی مضبوط پلرز کو کمزور نہیں کرسکتے ۔بلوچ سالویشن فرنٹ

31.5.2014
بلوچ وطن موومنٹ بلوچ گہار موومنٹ اور بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ پر مشتمل الائنس بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے شہید ورنامحراب خان احمدزئی کو بے لوث جدوجہد اور غیر معمولی قربانیوں پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ بلوچ فرزندوں کو شہید کرکے ریاست آزادی کی مضبوط پلرز کو کمزور نہیں کرسکتے
شہید محراب خان کو آزادی کی راجی جدوجہد سے وابسطگی کی بنیاد پر راستہ سے ہٹا یا گیاشہید محرا ب خان ایک سرگرم جہد کار اور پختہ کیڈر کے طور پرانتہائی ثابت قدمی استقلال اور بلند حوصلوں کے ساتھ آزادی کی جدوجہد سے وابسطہ رہے گوکہ آج وہ ہمارے درمیان نہیں لیکن ان کی فکر وفلسفہ اورنظریات ہر لمحہ ہماری رہنمائی کرتے رہے گیں ترجمان نے کہاہے کہ شہید محراب جان سمیت ہزاروں بلوچ فرزندوں کو آزادی کی جدوجہد سے وابسطگی کی بنیاد پر ریاست شہید کرکے یہ تصور کر تی ہے کہ اس سے بلوچ جہد کاروں کے حوصلہ پست ہوں گے تو ہم سمجھتے ہیں کہ ریاست حریت پسند قوموں کی تاریخ اور جدوجہد سے نابلد ہے شہید میرمحراب خان سے لے کر شہید ورنا
محراب خان تک شہیدوں کی ایک طویل فہرست اور خون آلود تاریخ موجود ہے
لیکن آزادی کی جدوجہد ریاست اور قبضہ گیریت کی جارحانہ ہتکھنڈوں سے رکا نہیں بلکہ تسلسل کے ساتھ برابر جاری ہے آج بھی تحریک آزادی کو سبوتاژ کرنے کے لئے ریاست بلوچ نسل کشی کے ساتھ ساتھ مختلف نوآبادیاتی حربوں کے زریعہ اپنے کاسہ لیس گماشتوں کے ہمراہ تمام تر رد جدوجہد اور رد انقلابی سوچوں کی پرورش و نشودنماء کے بعد بھی آزادی کی جدوجہد اور بلوچ عوام کی انقلابی ابھار کو زیر نہیں کرسکی

لیکی اور نہ ہی بلوچ فرزندوں کو چن چن کر شہید کرنے سے غلامی کے خلاف بلوچ عوام کی نفرت اور جدوجہد کی شدت میں کمی کرسکی ترجمان نے کہاکہ بلوچستان کا جبری الحاق ایک دردناک زخم اور غلامی کی اس سیاہ تاریخ کا ایک حصہ ہے ہے بلوچ قوم اسے کھبی نہیں بھلائی گئی اور آزادی کے بغیر کسی مقام کسی پڑاؤ اور کسی بھی مرحلے کو بلوچ قوم غلامی کی مترادف اور شہداء کے مقصد اور لہو سے غداری سمجھتی ہے آج ریاست نوکری گھنٹہ ٹھیکہ انکریمنٹس کے نام پر غلامی کو زیادہ جمہوری اور عوام دوست بناکر بلوچ سادہ لوح عوام کو تضحیک آمیز انداز میں فریب دے رہاہے یہ بلوچ آزادی کا نعم البدل نہیں یہ شہداء کے ارمان نہیں اوربلوچ قوم کسی قسم کی خیراتی پیکجز کے لئے جدوجہد نہیں کرہاہے بلکہ بلوچ آزادی کا واضح پروگرام نصب العین اور مقصد لئے ہر قسم کی قربانی دی رہی ہے ریاست کے یہ تما م تر ہتکھنڈے لالچ مراعات اور اقتدار آزادی کی تحریک کے خلاف صف بندی ہے اس صف بندی میں بلوچ قوم سے کچھ ایسے گماشتہ شامل ہے جو خود غرضی اور مفاد پرستی کے بھینٹ چڑھتے ہوئے ریاستی قبضہ کو دوام دینے کے لئے آڑھتی کا کردار اداکررہے ہیں لیکن بلوچ شہداء کے پاک خون اور قربانیوں نے نے بلوچ قوم کو آزاد ی کا شعور دیکر مفادپرست اور ریاستی داشتاؤں کے غلامانہ زہنیت کو مسترد کردیا ہے ترجمان نے کہاکہ شہید محراب اور بلوچ شہداء کی قربانیوں نے آزادی کے راستہ میں آنے والی تمام رکاوٹوں کو دور کرکے بلوچ قومی تحریک کے لئے طاقت اور توانائی کا سبب بن کر آزاد بلوچستان کے قیام کو ناگزیر کردیا

Previous post

بلوچ رہنما یوسف عزیز مگسی کا انقلابی ورثہ اور بے لوث جدوجہد مشعل راہ ہے انہوں نے برٹش قبضہ کے خلاف بکھرے ہوئے مذاحمت کو قومی سطح پر منظم اور یکجاء کرکے آزادی کے لئے جدوجہد کے کثیر الجہتی ذرائع کو روشناس کیا بلوچ سالویشن فرنٹ

Next post

شہید ء کندیل استاد صباء دشتیاری آجوئی کی تحریک میں نظریاتی استادکی طورپر ایمانداری ثابت قدمی اور مستقل مزاجی کے ساتھ آزادی اور نیشنلزم کی دفاع اور ترویج کے لئے کام کیاان کی بے بہا خدمات یاد رکھی جائینگی۔بلوچ سالویشن فرنٹ