بلوچ قوم کے سپریم لیڈر سردار مری کی وفات قومی سانحہ اور ناقابل تلافی نقصان ہے ان کی تاریخی و نظریاتی جدوجہد اور مثالی کردار ہمارے لئے ایک ورثہ ہے سردار مری کی موت قدرتی نہیں انہیں مارنے کے لئے عام طریقوں سے ہٹ کرنئے حربہ استعمال کئے گئے
بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی چیئر میں سعید یوسف بلوچ مرکزی سیکریٹری جنرل میر قادر بلوچ مرکزی جوائنٹ سیکریٹری بانک حانی بلوچ ایگزیگٹو کمیٹی کے ممبر زمور آزاد بلوچ اپنے جاری کردہ مشترکہ بیاں میں بلوچ قوم کے سپریم لیڈر(عظیم قائد ) سردار مری کی وفات کو قومی سانحہ اور ناقابل تلافی نقصان قرار دیتے ہوئے عظیم اور بہادر رہنما ء کوان کی تاریخی و نظریاتی جدوجہداور مثالی کردار پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے بلوچ سالویشن فرنٹ کی جانب سے چالیس روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ قوم کے اس عظیم رہنماء کا خلاء صدیوں تک پر نہیں کیا جاسکتا ان کی جدوجہد ہمارے لئے ایک ورثہ ہے آج بلوچ قوم ایک عظیم قومی رہنماء سے محروم ہوگئے بلوچ تحریک آزادی میں ان کی جسمانی جدائی ہمیشہ اور ہر لمحہ محسوس کیا جائیگا انہوں نے کہاکہ خیر بخش مری کی غیر متوقع وفات ایک بڑے سانحہ سے کم نہیں تاہم خیر بخش مری ایک فرد نہیں بلکہ ایک مشن اور کاز کا نام ہے وہ اپنے زات میں ایک انسٹیوٹ تھے ان کے تقدیر بلوچ قوم کی آزادی کے ساتھ منسلک اور پیوست تھی ترجمان نے کہاہے کہ سردار مری کی موت قدرتی اور طبعی نہیں ان کی موت کی زمہ دار قابض ریاست اور حکومت ہے خدشہ ہے کہ ان کو مارنے کرنے کے لئے عام طریقوں سے ہٹ کر نئے حربہ استعمال کئے گئے ہیں اور اب ان جسد کو کاہاں لے جانے کے لئے منصوبہ بندی کرنا بھی اسی سازش کا تسلسل ہے تاکہ ان کی موت کی وجوہات جاننے کے لئے کسی بھی بین الاقوامی تحقیقاتی ادارے کی رسائی میں مشکلات پیدا کیا جاسکے انہوں نے مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ بلوچ قوم کے عظیم رہبر سردار مری کی المناک وفات کی وجوہات جاننے کے لے بین الاقوامی سطح پر تحقیقات کے لئے ایک انٹر نیشنل کمیٹی تشکیل دیکر فوری طور عالمی ماہریں کی ٹیم بلوچستان بھیجاجائے تاکہ سردار مری کی موت کی اصل وجوہات معلوم کیا جاسکے اور ریاست کی کارستانیوں سے پردہ ہٹ جائے ترجمان نے کہاکہ ہمارے خدشات کو اسلئے بھی تقویت ملتی ہے کہ سردار مری کو بیرون ملک علاج معالجہ کی تمام تر انتظامات مکمل ہونے کے باوجود انہیں سفری دستاویزات سمیت علاج معالجہ اور میڈیکل ایمرجنسی کے لئے ضروری دستاویزات جاری نہ کرنے سمیت ان کے بیرون ممالک علاج معالجہ میں ریاست کی جانب سے روڑے اٹکانے کی تمام تر کوششیں اور سازشیں کی گئیں انہوں نے کہاکہ بلوچ قوم کی خوائش ہے کہ ان کے فکری و قومی رہبر کو کوئٹہ میں نیوکاں مری کیمپ شہداء کے قبرستان میں ان کے نظریاتی و فکری و ساتھیوں اور پیروکاروں کی پہلو میں دفن کی جائے لیکن ریاست اور ان کے گماشتہ انہیں کاہان لے جانے کے لئے بضد ہے تاکہ وہ سردار مری کی وفات کے پس پردہ ریاست کی کارستانیوں کو چھپا جاسکے انہوں نے کہاکہ سردارمری پوری زندگی قومی آزادی کے لئے وقف کی وہ دوران جدوجہد کسی بھی لمحہ تذبذب کا شکار نہیں ہوابلکہ وہ اپنی موقف اور نظریات پر ثابت قدمی کے ساتھ ڈٹے رہے جیل و زندان کی صعوبتوں سمیت ریاست کی جانب سے مختلف قسم کی تکالیف مشکلات اور رکاوٹوں کا جرائت مندانہ اور نظریاتی اصولوں کے ساتھ سامنا کیا ریاست کی جانب سے انہیں مارنے کی متعدد کوششیں کی گئیں لیکن آزادی کے لئے ان کے حوصلوں اور ارادوں میں کمزوری کا پہلو کھبی سامنے نہیں آیا پیرانسری اور عمر کے آخری حصہ میں وہ شدید جسمانی تکالیف کے باوجوداپنی تما م توانائی اور صلاحیتوں کو آزادی کے لئے استعمال کیا وہ آخری لمحات تک کھبی بھی نجی زندگی کی طرف متوجہ نہیں ہوا بلکہ آزادی اور جدوجہد ان کا اوڑھنا بچھونا رہاان کے آخری سانسیں بھی آزادی کے پیغام لئے اسی سوچ اور فلسفہ پر قربان ہوگئے ان کی پوری زندگی اور جدوجہد نہ صرف ہمارے لئے بلکہ پورے دنیا کے مقبوضہ اقوام کے لئے مشعل راہ اور مثال ہے وہ آخری دم تک اپنی موقف اور نظریات پر سختی سے کاربند رہتے ہوئے ریاست اور قبضہ گیر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی غلامی کے خلاف ان کی جدوجہد اور کوششیں تاریخ کا حصہ ہے انہوں نے اپنے مضبوط ارادوں سے بلوچ قوم کو آزادی کے لئے منظم اور یکجاء کرکے ہزاروں نظریاتی کیڈرزپیدا کئے وہ بلوچ قوم کی خوابیدہ صلاحیتوں کو آزادی کی جدوجہد سے ہم آہنگ کرتے ہوئے بلوچ عوام میں غلامی کے خلاف لو اور لگن کو تیز کیا انہوں نے کہاکہ وہ ریاستی قبضہ کے وحشی دھارکے خلاف جس لڑائی کو شروع کیا وہ اس جدوجہد کو جیت گئے جبکہ دشمن اور ان کے مکروہ عزائم کو شدید شکست ہوئی انہوں نے کہاکہ اگرچہ سردار مری ہمارے درمیان موجود نہیں رہا لیکن ہمیں ان کی فکری وارث کی حیثیت سے ان کی سوچ اورفکر و فلسفہ پر مکمل کاربند رہ کر ان کی پیر وکاری کا حق ادا کرسکتے ہیں اگر چہ انہیں ہم سے جدا کیا گیالیکن ان کی فکر کا خاتمہ نا ممکن ہے فکر خیر بخش زندہ ہے تاریخ انہیں ایشیا کے عظیم انقلابی لیڈر ز کے صف میں شمار کرکے تا ابد یاد کریگی


