بابا کے جسم اور بی ایس او کے روح کا جناز تحریر سنگت نود بندگ جان بلوچ۔۔۔
خلیل جبران کہتے ہیں کہ ” قابلِ رحم ہے وہ قوم جن کی آواز صرف جنازوں میں ہی گونجتی ہے ” ، میں تو کہتا ہوں وہ قومیں پھر بھی قابلِ تکریم ہیں قابلِ رحم تو وہ قوم ہے جو جنازوں میں گونجنے والی آواز پر بھی شب خون مارے اور ان میں سے ہر کوئ دعویٰ کرے کہ یہ صرف میرا آواز تھا ۔
بلوچ سیاست میں اخلاقیات کا جنازہ تو پہلے ہی اٹھ چکا تھا ، لیکن آج جس بے رحمی سے موقع پرستوں کو ڈھونڈ خوری ( مردہ خوری) کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں ، ایسا لگ رہا ہے کہ دنیا اور قوم کو ہم نے بھیڑ بکریاں سمجھا ہوا ہے ، جو دل میں چاہے بول لو۔ میں نے کچھ وقت پہلے ایک آرٹیکل میں ان رویوں کو گدھ سے مشابہت دی تھی لیکن آج سوچ رہا ہوں کے وہ تو پھر بھی بہتر ہیں،
گدھ تب تک کسی شکار پر منڈلاتے رہتے ہیں اور جپھٹتے نہیں ہیں، جب تک کے وہ گر نہیں جائے مر نہیں جائے ، یہاں تو اتنی بھی مہلت نہیں ملتی ۔
جس بابا خیربخش کو زندگی میں یار لوگ بیساکھی کی طرح استعمال کرتے رہے اور اپنے اپاہج جسم کو جس کے سہارے سے آگے سرکاتے رہے ، رحلت کے بعد بھی اس بابا کو نہیں بخشا گیا ، اس کے چاہنے والوں کو جس ڈھٹائ سے مسلسل بریکنگ نیوز کی طرح بی ایس او آزاد اپنا کارکن ظاھر کرتا رہا میرۓ خیال میں آج تک بلوچ آزادی پسند سیاست میں اس سے زیادہ غیر مہذب عمل کبھی سامنے نہیں آیا ۔
بی ایس او آزاد مریخ میں سیاست نہیں کر رہا بلوچستان میں ہی ہے اس کی حالت زار کیا ہے وہ سب کے سامنے عیاں ہے ، ایک بھوک ہڑتالی کیمپ کو چلانے کیلئے دو درجن چھوٹے چھوٹے پاکستانی برینڈ کے سوشلسٹ پارٹیوں کا محتاج تنظیم اس نہج تک کیسے پہنچا یہ کسی سیاسی حالات سے واقف بلوچ سے پوشیدہ نہیں اور اس عالم میں بی ایس او کا کوئٹہ میں کیا وقعت و قوت ہے یہ شاید اس بات سے بالکل عیاں ہوجاتا ہے کہ زاھد اغواء کوئٹہ سے ہوا لیکن یار لوگ وہاں چار لوگوں کو بھی اکھٹا نہیں کرسکے اور آج بابا کے جنازے پر آئے جم غفیر کا سہرا اپنے سر پر زبردستی سجائے دمہ چوکڑی کرتے ہوئے مدہوش ہیں ۔ بی ایس او کے بارے میں اگر میں یہ کہوں کہ آج نیوکاہان میں ایک نہیں دو جنازے پڑھے گیئے ایک بابا کے جسم کا اور دوسرا بی ایس او کے روح کا تو میں غلط نہیں ہونگا ۔
آج بابا کے جنازے پر جس طرح ہزاروں کی تعداد میں بلوچ مردو خواتین آئے تھے وہ کسی پارٹی ، گروہ یا شخص کے کال پر نہیں آئے تھے ، ان سب کو وہ اجتماعی قومی شعور کھینچ کر لایا تھا جو بلوچ کو 1939 سے لیکر ہنوز ظالم و قابض کے سامنے سینہ سپر کر رہا ہے ، یہ وہ جذبہ تھا جو ہمیں قوم بناتی ہے ، یہ وہ قوت تھی جس نے آج تک کسی قبضہ گیر کو یہاں مستقل قدم جمانے نہیں دیا ، دشمن کے بے انتہا بربریت کے باوجود اتنے لوگوں کا از خود نکلنا ایک دانشور کے اس بات کی تصدیق کر رہا تھا کہ ” انقلاب کی پہلی اور آخری نشانی یہ ہوتا ہے کہ اسکا کوئ لیڈر نہیں ہوتا ” ، لیکن ہماری سیاسی دیوالیہ پن ذرا ملاحظہ ہو بی ایس او آزاد اس اجتماعی شعور ، قومی حمیت و غیرت پر شب خون مار کر سب اپنے گروہ کے کھاتے میں ڈال رہا تھا ، میں کہتا ہوں ایک استحصال پاکستان کر رہا ہے اور دوسری ہماری یہ روائتی تنظیمیں کر رہی ہیں ، یہ ہمارے قومی جذبات کا استحصال کر رہی ہیں ، اگر یہاں تھوڑی بہت بھی اخلاقی حد بندی ہوتی تو میں اتنا ضرور لکھتا کہ ” آج جس طرح بی ایس اور نے قومی جذبات پر شب خون مار کر ان کا جذباتی استحصال کیا اس کیلئے انہیں پوری قوم سے معافی مانگنی چاہئے ” لیکن میں مطالبہ کس سے کر رہا ہوں وہ بھی اخلاقیات کا ۔ وہ تنظیم جس نے اخلاقیات کو روند کر ایک ہی علاقے سے 50 کونسلر منگوا کر سیشن کردی اور خود کو قومی قرار دیا ، وہ تنظیم جس کے اسی کونسل سیشن سے چنندہ 70 فیصد سے زائد عہدیداران مارے ، نکالے یا نکل چکے ہیں پھر بھی خود کو ادارہ کہتا ہے ، وہ تنظیم جس کے مرکزی کابینہ کے 7 میں سے 4 نہیں ہیں اور کابینہ صرف 3 لوگوں پر مشتمل ہے کابینہ کے اکثریت کے جانے کے بعد کسی بھی تنظیم کے ساتھ کوئ بھی اخلاقی جواز نہیں بچتا کہ وہ تنظیم کو اسی طرح بغیر نئے انتخابات کے چلاتا رہے ، اخلاقیات واہ رے اخلاقیات پھر میں اسی کو دہرائے جارہا ہوں ، بقول شاعر ” ہمیں ان سے ہے وفا کی امید جو نہیں جانتے وفا کیا ہے ” ۔
بابا آپ بھی نہیں بچے اس موقع پرستی سے ، آپکو بھی یار لوگوں نے ان جنازوں میں شریک کردیا جن کے اوپر یہ محل تعمیر کرنا چاہتےہیں ، بابا جب آپ زندہ تھے میں نے آپ سے محبت کی ، آپ کی پیروی کی اور آپ سے اختلاف بھی رکھا مجھے آج آپ کے چلے جانے کے بعد اپنے محبت ، پیروی اور اختلاف تینوں پر فخر ہے کیونکہ میرے محبت میں خلوص تھا ، پیروی میں شعور تھا اور اختلاف میں وقار تھا لیکن یار لوگوں کے محبت میں چاپلوسی ، پیروی میں موقع پرستی اور اختلاف ؟ اختلاف ؟ بابا آپ بھی کمال کرتے ہو بھلا کوئ چاپلوس و موقع پرست بھی اختلاف رکھ سکتا ہے کیا اور وہ بھی وقار کے ساتھ


