×

ریفرنڈم کا مطالبہ بلوچ قومی آزادی کی جدوجہد کی تاریخی و زمینی حیثیت سے متصادم ہے چند لوگوں کی اجتماع کو اتحاد سے تعبیر کرنا حقیقی قومی یکجہتی کی روح اور اساس سے نابلدی کی غمازی ہے۔بلوچ سالویشن فرنٹ

ریفرنڈم کا مطالبہ بلوچ قومی آزادی کی جدوجہد کی تاریخی و زمینی حیثیت سے متصادم ہے چند لوگوں کی اجتماع کو اتحاد سے تعبیر کرنا حقیقی قومی یکجہتی کی روح اور اساس سے نابلدی کی غمازی ہے۔بلوچ سالویشن فرنٹ

29.6.2014
بلوچ سالویشن فرنٹ کے ترجمان نے کہاہے کہ بلوچ قومی مسئلہ کے حل کے لئے ریفرنڈم جیسے ابہامی مطالبہ کو مسترد کرتے ہیں میر براہمدغ کی جانب سے ریفرنڈم کا بار بارمطالبہ بلوچ قومی آزادی کی جدوجہد کی تاریخی و زمینی حیثیت سے متصادم اور مضحکہ خیز ہے بلوچ قوم ایسے کسی بھی سطحی اور مبہم موقف کی تائید میں نہیں یہ قومی مطالبہ نہیں بلکہ ایک انفرادی خوائش ہے ترجمان نے کہاکہ ریفرنڈم کا مطالبہ نہ صرف بلوچستان کی آزادی کی قومی مطالبہ کے برعکس ہے بلکہ بلوچ جغرافیائی تاریخی ووحدتی حیثیت سے متصادم ہے قابض ریاست کی جانب سے پہلے ہی نہ صرف علاقائی سطح پربلکہ عالمی سطح پر بلوچ قومی تنازعہ حل بابت انتہائی حدتک کنفیوژن اور ابہام پھیلانے کے سرتوڑ کوششوں کے ساتھ بلوچ جہد آزادی کو ریاست کی اندرونی اور بلوچ شہری حقوق کی مسئلہ اور محرومیوں سے نتھی کرکے بے بنیاد پروپیگنڈہ کی جارہی ہے

تاکہ بلوچ جہد آزادی اور آزاد بلوچستان کی منطقی اور فطری مطالبہ کی اہمیت اور افادیت کو زائل کیا جاسکے اس صورتحال میں ایک آزادی پسند پارٹی کے سربراہ کی جانب سے بار بار ریفرنڈم کا انفرادی مطالبہ ریاستی موقف کو شہہ دینے کے ساتھ ساتھ ریاست کی جانب سے پھیلائی جانے والے پروپیگنڈوں اور کنفیوژن کو تقویت دینے کی مترادف ہے ترجما ن نے کہاکہ ریفرنڈم جیسے غیر منطقی اور ابہامی مطالبہ زمینی حقائق سے قطعا میل نہیں کھا تا اور نہ ہی بلوچ مرضی و منشاء اس قسم کے موقف کا متحمل ہوسکتاہے جبکہ تاریخی حقائق موجود ہے کہ بلوچستان پر قبضہ کیا گیا ہے اور آج بلوچ وحدت پر نہ صرف پاکستان بلکہ ایران بھی قابض ہے اور مملکت بلوچستان کے ایک وسیع رقبہ افغانستان میں بلجبر شامل کیا گیا ہے اس کے ساتھ بلوچستان کے کئی علاقوں کو پنجاب سندھ اور سرحد کا غیر قانونی طور پر حصہ بنا یا گیا ہے جبکہ پاکستان کے زیر قبضہ بلوچستان پر1948کو قبضہ کیا گیا تاریخی طور پر بلوچ گلزمین نہ پاکستان کا حصہ تھا اور نہ ہی یہ برصغیر کے کسی ریاست پر مشتمل تھااور نہ ہی بلوچستان اور پاکستان کی کسی قسم کی قانونی آئینی یا جغرافیائی رشتہ ہے کہ بلوچ ؂مسٗلہ کا حل کے لئے ریفرنڈم جیسے ابہامی موقف کو قابل قبول سمجھا جائے ترجمان نے کہاکہ ریفرنڈم کامطالبہ جبری قبضہ اور بلوچستان کی تاریخی وحدتی حیثیت اور مغربی بلوچستان سمیت متحدہ بلوچ ریاست سے پہلو تہی کی ایک کوشش ہے یا توغیر دانستگی ہے ترجمان نے کہاہے کہ بلوچ مسئلہ کا حل ریفرنڈم نہیں بلکہ بلوچ وطن سے قبضہ گیر کا مکمل انخلاء اور قبضہ سے دستبرداری ہے اورآزاد بلوچ ریاست کی قیام کے لئے بلوچ قوم کے پاس ایک واضح لائحہ عمل حکمت عملی اور روڈمیپ موجود ہے ترجمان نے کہاکہ حالیہ دنوں کچھ آزادی پسند وں اور وفاق پرستوں کی جانب سے ایک نئی اور غیر فطری اتحادکی بازگشت کو متحدہ قومی محاذ کی تشکیل کی جانب پیش رفت قرار دینا مضحکہ خیز ہے چند لوگوں کی اجتماع کو قومی اتحاد سے تعبیر کرنا ایک حقیقی قومی و انقلابی یکجہتی کی روح اور اساس سے نابلدی کی غمازی ہے ترجمان نے کہاکہ آزادی پسندوں کے درمیان سابقہ غیر فطری اتحادوں کو جہاں سنگ میل قرار دینے میں کسی قسم کی کسر نہیں چھوڑی گئی وہان ان اتحادات کا حشر اور انجام کیا ہوا لیکن ان کی ٹھوٹ پھوٹ اور تقسیم کا بغور جائزہ لینے اور ان تضادات کا تجزیہ اور پرکھ کے بجائے ان سے قطعی طورپر غفلت کا مظاہرہ کیا گیاجبکہ حکمت عملی اورطریقہ کار پر اٹھنے والے سوالات اور بحث ومباحثہ سے پہلو تہی کے ساتھ قومی یکجہتی کی جانب حقیقی پیش رفت کو یک جہتی دشمنی قرار دیا گیا اور جبکہ اس نئی غیر فطری اتحاد ی رجحان میں وہی لوگ شامل ہے جو بلوچ نیشنل فرنٹ کے تقسیم کا زمہ دار ہے انہیں چاہیے کہ وہ بلوچ عوام کے سامنے سابقہ اتحاد کے تقسیم کی زمہ داری کا اعتراف کریں اور اس بات کو بھی سامنے لایا جائے کہ بلوچ قومی جدوجہد کے دوران مختلف ادوار میں ان گنت الحاق اور ادغام ہوئے لیکن تمام تر انضمام و اتحادوں کے بعد وہ اتحادیں کہاں دھنس گئے انہیں زمین کھاگئی یا آسمان اور ان کی تقسیم کی وجوہات کیا ہے ترجمان نے کہاکہ حالیہ اتحاد کی سوانگ رچانے کا مقصد بھی چند لوگوں پرمشتمل گروہی سوچ کی تقویت اور پزیرائی ہے اس کے سوا کچھ نہیں ترجمان نے کہاکہ یکجہتی کے اس غیر منطقی اور رومانوی خوائش میں جہاں حقائق کو پس وپشت ڈال کرتضادات کی موجودگی میں ناپائیدار اور متضاد بنیادوں پر غیرفطری اتحاد کے سوچ کو پروان چڑھانے کی کوشش اور تمام تر بنیادی معاملات کو ثانوی سمجھ کر ان پر پردہ ڈال کر غفلت اور غیر زمہ داری بلوچ رائے عامہ اور سائیکی سے کھیلنے کی مترادف ہے

Previous post

نواب خیربخش مری ایک فرد نہیں بلکہ ایک سوچ اور فکر کا نام ہے، وہ سوچ جس نے ہمیں آزادی کا سوچ دیا،اور اپنے اس شناخت کو پانے اور اسے قائم رکھنے کا راستہ صرف آزادی ہے ۔میر حیر بیار مری

Next post

بلوچ قوم دوست رہنما حیربیار مری نے اسرائیلی وزیراعظم بینجامن نیتن یاہو کی کردستان کی آزادی کی حمایت کو خوش آئیند قرار دیتے ہوئے کہا کہ کرد اور بلوچ پورے خطے میں ظلم و جبر استحصال اور لوٹ کھسوٹ کا شکار رہے