×

ایرانی ریاست کی جانب سے مغربی بلوچستان کے نام تبدیل کرنے کی مجرمانہ کوششوں کی مذمت ایران بلوچ وحدت پر بلجبر قابض ہے مغربی بلوچستان ایرانی گجروں کی آباؤ اجداد کی میراث نہیں بلوچ سالویشن فرنٹ

ایرانی ریاست کی جانب سے مغربی بلوچستان کے نام تبدیل کرنے کی مجرمانہ کوششوں کی مذمت ایران بلوچ وحدت پر بلجبر قابض ہے مغربی بلوچستان ایرانی گجروں کی آباؤ اجداد کی میراث نہیں بلوچ سالویشن فرنٹ

بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ پر مشتمل الائنس بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے بیان میں قابض ایرانی ریاست کی جانب سے مغربی مقبوضہ بلوچستان کا نام تبدیل کرنے کی مکروہ کوششوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ ایرانی ریاست قبضہ ہی کے دن سے مغربی بلوچستان کی باشندوں کی منفرد قومی تشخص اور شناخت کوختم کر کے انہیں فارسی قومیت میں ضم کرنے کے لئے مختلف سازشیں کررہی ہیں

مغربی بلوچستان میں بلوچی زبان کے بجائے بلوچ قوم پر فارسی زبان کو زبردستی مسلط کیا جارہاہے تعلیمی اداروں میں فارسی زبان رائج ہے اور ایران قبضہ گیر فارسی زبان کی ترقی و ترویج اور اشاعت کے لئے تیزی سے کام کررہے ہیں مغربی بلوچستان کے باشندہ ایران کے بدتریں اور زلت آمیز غلامی کے زیر اثر بلوچی زبان اور لہجہ کو کھورہے ہیں اور اس کی جگہ فارسی زبان لے رہی ہے اس کی بڑی وجہ غلامی اور بلوچ قوم کا آزاد ملک کانہ ہونا ہے ایران کا رویہ بلوچوں کے ساتھ اس قدر وحشیانہ ہے کہ دفتروں اور تعلیمی اداروں میں بلوچی لباس پہن کر جانے پر پابندی عائد کی گئی ہے جبکہ جو بلوچ اپنی آزادی تشخص اور شناخت کے لئے جدوجہد کرتا ہے یا آواز بلند کرتا ہے تو انہیں فورا گرفتار کر کے ایرانی جلاد وں کے حوالے کرکے تختہ دار پر چڑھا یا جا تا ہے ایران کے بلوچ دشمنی کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ گزشتہ چند ماہ میں سینکڑوں معصوم بلوچوں کو گرفتار کر کے انہیں پھانسی دیکر شہید کیا گیاجبکہ حالیہ دنوں مغربی بلوچستان کا نام تبدیل کرنے کی بازگشت اور مجرمانہ سازش بھی ایران کی انہی زہنیت اور سازش کا تسلسل ہے جو 1925 سے لیکر اب تک بلوچ قوم کے ساتھ روا رکھی جارہی ہے ترجمان نے کہا ہے کہ مغربی بلوچستان پر1925کوایرانی ریاست نے برطانیہ سامراج کی ایماء و توسط سے قبضہ کیا مغربی بلوچستان ایران کا جائز اور قانونی حصہ نہیں بلکہ متحدہ بلوچستان کا ایک حصہ ہے جو ساڑھے تین لاکھ مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے1925 میں عظیم بلوچ مملکت کو عالمی سامراج برطانیہ اپنے توسیع پسندانہ عزائم کے زریعہ مختلف ٹکڑون میں بانٹ کر تقسیم کر کے مشترکہ بلوچ آبادی اور زمین کو تقسیم کر کے مختلف ٹکڑوں کو بانٹ دیا بلوچ اپنی قدرتی اور فطری سرحدوں کی بحالی کے لئے کوشان برٹش سامراج اور ایران قبضہ گیر ریاست کی مشترکہ بلجبر تقسیم کو شروع ہی دن سے تسلیم نہیں کیا اس کے خلاف بلوچ قوم ایران کے بلجبر قبضہ کے خلاف اپنی دفاع اور آزادی کے لئے مزاحمتی جدوجہد کی ایک بھر پور تاریخ رکھتی ہے ترجمان نے کہاکہ ایران بلوچ وحدت پر بلجبر قابض ہے مغربی بلوچستان ایرانی گجروں کی آباؤ اجداد کی میراث نہیں ترجمان نے کہاکہ کراچی سے لیکر بندر عباس تک چاہ بہارسے لیکر ڈیرہ غازی خان تک زاہدان کرمان و بمپور سے لیکر جیکب آباد تک وسیع رقبہ پر پھیلنے والے مملکت بلوچستان بلوچ قوم کی اجداد کی میراث ہے اور اس میں رہنے والے بلوچ ایک زبان ثقافت اور تاریخ کے مالک اور ایک ہی سرزمین کے رہنے والے ہیں کوئی بھی قبضہ گیر بلوچ قوم کو زہنی زمینی اور جغرافیائی حوالہ سے تقسیم نہیں کرسکتا

Previous post

سردار مری بلوچ قومی کو غلامی کے زلت اورازیت گاہ سے نکالنے کے لئے بلوچ قوم کو ان کے پاؤں پر کھڑا کرنے اور جدوجہد کے لئے محنت اور تیاری میں کلیدی کردار ادا کرتے ہوئے قوم کے لئے وراثت کے طور پر آزادی کا فکر اور شعور چھوڑدیا بلوچ سالویشن فرنٹ

Next post

فلسطین غزہ میں اسرائیلی جارحیت کی مزمت اسرائیل عالمی برادری اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کی خاموشی سے بھر پور فائدہ اٹھاکر جنگی قوانین کے مسلسل خلاف ورزی کررہی ہے. بلوچ سالویشن فرنٹ