×

بلوچ قوم نے شروع ہی سے جبری الحاق کو تسلیم نہیں کیا اور تسلسل کے ساتھ ریاستی قبضہ کے خلاف جدوجہد کررہے ہیں گزشتہ کئی دہائیوں سے نمایان طور پر بلوچ قوم ریاست کو سیاسی اقتصادی اور زہنی طور پرشکست سے دوچار کردیا ہے .بلوچ سالویشن فرنٹ

بلوچ قوم نے شروع ہی سے جبری الحاق کو تسلیم نہیں کیا اور تسلسل کے ساتھ ریاستی قبضہ کے خلاف جدوجہد کررہے ہیں گزشتہ کئی دہائیوں سے نمایان طور پر بلوچ قوم ریاست کو سیاسی اقتصادی اور زہنی طور پرشکست سے دوچار کردیا ہے .بلوچ سالویشن فرنٹ

بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے بیان میں بلوچ قومی آزادی کی راہ میں اپنے جانوں کا نزرانہ پیش کرنے والے بلوچ حریت پسند سپوتوں شہید لونگ خان مینگل شہید ڈاکٹر خالد بلوچ اور شہید دلوش بلوچ کو یاد کرتے ہوئے کہاہے کہ شہداء کے قربانیوں نے بلوچ قوم میں آزادی کی جذبہ اور حوصلوں کو بڑھا دیاہے ترجمان نے کہاکہ بلوچ قوم نے شروع ہی سے جبری الحاق کو تسلیم نہیں کیا اور تسلسل کے ساتھ ریاستی قبضہ کے خلاف جدوجہد کررہے ہیں

گزشتہ کئی دہائیوں سے نمایان طور پر بلوچ قوم ریاست کو سیاسی اقتصادی اور زہنی طور پرشکست سے دوچار کردیا ہے ترجمان نے کہاکہ ریاست مختلف حربوں سے جبری الحاق پر پردہ ڈالنے کے لئے اپنی گماشتوں کے زریعہ بلوچ جدوجہد آزادی سے توجہ ہٹانے کے لے بلوچ مسئلہ کا حل چند مراعات سے منسوب کرکے تاریخی حقائق کو جھٹلانے کی کوشش کررہے ہیں لیکن افق پر موجود بلوچ قومی جدوجہد اور ان کاتاریخی تسلسل ریاست اور ان کے ہم پیالہ نام نہاد قوم پرستوں کے جھوٹی موقف اور غلط بیانی کو بے نقاب کرنے کے لئے کافی ہے ترجمان نے کہاکہ ستر کی دہائی میں قبضہ کے خلاف شہید سفر خان کی قیادت میں جاری آزادی کی جدوجہد کی پزیرائی مقبولیت اور وسیع عوامی حمایت نے ریاست کو سراسیمگی اور خوف میں مبتلاء کردیا تھا وہ کاؤنٹر انسرجنسی کے پالیسیوں کے تحت قلات زہری اور گردونواح کے علاقوں میں وسیع پیمانے پر آپریشن کااحیاء کیاایک سرچ آپریشن کے دوران بلوچ آزادی پسند فرزند میر لونگ خان نے بھر پور مزاحمتی کی اور دوران مزاحمت شہید ہوئے ترجمان نے کہاکہ شہید لونگ خان سے لے کر شہید ڈاکٹر خالد و دلوش تک آزادی کی جدوجہد جاری ہے شہادتوں اور قربانیوں نے آزادی کی جدوجہد میں نئی روح پھونک دی ہے طاقت اور تکبر کے نشے میں سرشار ریاست ہزاوں بلوچ فرزندوں کو شہید کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے تمام تر دیگر حربوں اور چالوں سے آزادی کی جدوجہد میں ٹہراؤ پیدا نہیں کرسکا ترجمان نے کہاکہ بلوچ قوم اپنی آزادی کے لئے فیصلہ کن جدوجہد کررہے ہیں تحریک آزادی شہداء کا اثاثہ ہے اسے قابض ریاست روایتی حربوں سے نہیں روک سکتا ترجمان نے کہاکہ ریاست مغوی بلوچوں کی بازیابی کے بجائے عالمی سطح پر بدنامی سے بچنے کے لئے صفائی پر صفائی پیش کررہے ہیں جو ریاست انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا مرتکب ہے وہ کیسے انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں کو روک سکتا ہے ریاستی اداروں پہ آس لگانے اور انصاف کی بھیک مانگنے والے قومی آزادی کی جدوجہد کے تقاضوں سے ناواقف ہے مغوی بلوچوں کی بازیابی کے حوالہ سے ریاستی اداروں کا شور شرابا محض ڈھکوسلہ ہے نام نہاد سماعتوں اور مغوی بلوچوں کے لفاظی تذکروں کا زکر ڈھونگ ہے یہ صرف اور صرف عالمی برادری کے دباؤ سے بچنے کے لئے کیا جارہاہے بلوچ قوم یہ نہ سمجھیں کہ یہ ریاست ان کے ہمدرد ی میں یہ سب کچھ کرہاہے

Previous post

شہید مجید اول کا کردار حوصلہ اور قربانیاں ہمارے لئے مشعل راہ ہے شہید مجید اپنے تین بھائیوں کے ہمراہ آگائی و آزادی کے اس سفر میں مادر وطن کی مٹی میں آسودہ خاک ہے . بلوچ سالویشن فرنٹ

Next post

70 کے عشرے میں لڑنے والے بلوچ گوریلا شہیدمیر سفر خان زرکزئی کا مزاحمتی جدوجہد میں کلیدی کردار رہاہے ان کی فکر و فلسفہ اورعملی جدوجہد ہمارے لئے چراغ راہ ہے۔ بلوچ سالویشن فرنٹ