ا دنیا میں انسانی حقوق اور انسانیت کے الگ معیار ہیں فلسطین پر انسانی حقوق کی پامالی کا رونا سارا عرب دنیا رو رہا ہے کیونکہ فلسطینی عرب ہیں اور ان کاہم زبان ہیں جبکہ بلوچستان پر پاکستانی بربریت پر سارے عرب دنیا نہ صرف خاموش ہے.حیربیار مری
۔بلوچ قوم دوست رہنما حیربیار مری نے اپنے بیان میں کہا کہ نیوکاہا ن پر پاکستاننے بلوچ قوم پر جارحیت اور ظلم و جبر اور بربریت کا نا ختم ہونے والا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے اور اسی طرح وہ عام نہتے بلوچوں پر خوف و حراس پھیلانا چاہتے ہیں وہ بلوچ قومی آواز کو طاقت سے ختم کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں نیوکاہان میں مسلسل چھاپے اور سکینڑوں افراد کی گرفتاری اور علاقے میں لوٹ مار بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے انہوں نے کہا دنیا میں انسانی حقوق اور انسانیت کے الگ معیار ہیں فلسطین پر انسانی حقوق کی پامالی کا رونا سارا عرب دنیا رو رہا ہے کیونکہ فلسطینی عرب ہیں اور ان کاہم زبان ہیں جبکہ بلوچستان پر پاکستانی بربریت پر سارے عرب دنیا نہ صرف خاموش ہے بلکہ بلوچستان پر ظلم ڈھانے کے لیے پاکستان کی مدد کرتے ہیں۔ اسطرح یزیدی کیمیونٹی پر ڈھائے ہوئے ظلم پر دنیا آواز اٹھاتی ہے کیونکہ وہاں مذہبی انتہا پسند ٰISIS سے ڈرتے ہیں لیکن بلوچستان پر پاکستان جب انتہائی بے دردی اور سفاکی سے بلوچ قوم پر بموں اور گولیوں کی بارش کرتا ہے اس پر پوری دنیا خامو ش ہے انسانیت کے دہرے معیار دنیا نے اپناہوئے ہیں انسانیت وہاں دکھایا جا رہا ہے جہاں ڈر ہو یا پھر کوئی اپنا ہم زبان اآبا د ہو حیربیار نے کہا بلوچستان پر پاکستانی فوج جو ظلم و جبر کر رہا ہے اس میں اور ISIS میں فرق صرف اتنا ہے کہ یہ وردی میں کر رہے ہیں اور انہیں دنیا کی حمایت حاصل ہے لیکن ان کا نظریہ طالبان اور ISIS جیسا ہے عراق میں ISIS بغیر وردی یزیدی اور دیگر کمیونٹیز پر ظلم کر رہا ہے تو پاکستان بلوچستان مین ریاستی مشنری اور مکمل اختیارات کے ساتھ بلوچ قوم پر وہی ظلم وہ جبر کر رہا ہے حیربیار نے کہا کہ فلسطین یوکرین اور عراق اور عراق میں یزیدیوں پر ظلم دنیا کو دکھائی دیتا ہے
لیکن بلوچستان ہر پاکستانی فوج کی جانب سے ظلم وجبر اور خونریزی ان کی نظروں سے اوجھل ہے اقوام متحدہ میں کچھ ممبر ممالک انسانی اور قومی حقوق کے نام پر صرف اپنے مفادات کو تحفظ اور اپنے ہم زبانوں کی مدد کر رہے ہیں یہ Humanitarian Occasional یعنی حسب موقع انسان دوست ہیں جس وقت ان کے اپنے مفاد کی بات آتا ہے یا پھر ان کے ہم زبانوں کا مسلہ ہوتا ہے تو ان کی انسانیت جاگ جاتی ہے ۔ لیکن بلوچ اور کرد الگ قوم ہونے کے باوجود اقوام متحدہ میں ان کی نمائندگی نہیں ہے اور نہ ہی ان کی آواز سنی جاتی ہے پاکستان ایران اوشام جیسے ممالک بلوچ اور کردوں پر قابض ہو کر ان کے وسائل کی لوٹ کھسوٹ کے ساتھ ان دو قوموں کو اپنے جنونی افواج کے زریعے دہشت گردی کا نشانہ بنارہے ہیں اور جدید ہتھیاروں اور جنگی جہازوں کے زریعے ان پر بمباری کر رہے ہیں اس کے باوجود نہ تو ان ممالک سے اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی پر سوال ہوتا ہے نہ ان دو قوموں جن کے زمین کو پاکستان ایران اور شام جیسے جنونی ممالک نے قبضہ کر کے تقیسم کیا ہوا ہے پر بات کیا جاتا ہے اور نہ ہی بلوچ اور کردوں پر کیے گئے مظالم کا نوٹس لیا جاتا ہے بلکہ چین بلوچ قوم کے خلاف پاکستان کی فوجیمدد کر رہا ۔ حال ہی یور پ میں جب یوکرین کا مسلہٗ اٹھا اس میں بھی انسانیت کے بجائے اپنے مفادات اور لسانی بنیادوں پر یوکرین میں مداخلت کیا گیاجب فلسطین پر حملہ ہوتا ہے تو وہاں طاقت کے تواز ن پر بات کیا جاتا ہے کہ فلسطین کے پاس وہ ہتھیار نہیں ہیں جو اسرائیل کے پاس ہیں لیکن بلوچستان پر یہ اصول اور قانوں کیوں لاگو نہیں ہوتا بلوچستان میں بھی پاکستان جیٹ اور مزائیل استعمال کر رہا ہے لیکن بلوچ قوم کے لئے کوئی آواز نہیں اٹھاتا حیربیار نے اقوام متحدہ میں غیرجانبدار ممالک اور بلا تفریق انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف آواز اٹھانے والے ادارون سے اپیل کی کہ وہ بلوچ اور کردوں کی قوام متحدہ میں نمائندگی کے لیے مدد کریں تاکہ بلوچ اور کرد اپنا آزادی حاصل کر کے اقوام متحدہ میں ایک ذمہ دار قوم کی حیثیت سے دنیا میں امن اور آشتی کے لیے کام کر سکیں حیربیار مری نے کہاکہ بلوچ قومی جدوجہد نے پاکستان کو حواس باختہ کر رکھا ہے جسکے ردعمل میں پاکستانی فوج عام شہریوں پر اپنا غصہ نکال رہا ہے اور آئے روز کسی نہ کسی جگہ نہتے بلوچوں کو نشانہ بناتا ہے کبھی نصیرآباد کوہلو مشکے تمپ تو کبھی نیوکاہان کا معاصرہ کر کے بلوچ خواتین اور بچوں کو حراساں کیا جاتا ہے جس طرح 14 اگست منانے کے لیے پاکستانی فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں سے خصوصا نیوکاہان سے جس طرح سینکڑوں لوگوں کو گرفتار کر کے غائب کیا یہ پاکستانی قبضہ گیروں کی بلوچستان میں حواس باختگی کا ثبوت ہیں انہوں نے کہا کہ قابض نے بلوچستان پر قبضہ کرنے کے بعد زیارت میں ایک گھر کو جناح ریزیڈنسی کا نام دیا آج ڈاکٹر مالک قبضہ گیر سے مل کر اس غیر فطری ریاست پاکستان کے لیے وہاں چودہ اگست منا رہا ہے اور انہیں بلوچستان میں اپنے قبضہ کو طوالت دینے میں مدد کر رہے ہیں ایسے لوگوں کو زندگی میں لوگ جعفر اور صادق کے نام سے پیچانتے ہیں ڈاکٹر مالک شاید بھول گیا کہ 11 اگست کو بلوچستان آزاد ہوا اور پاکستان نے بلوچستان پر بزور طاقت قبضہ کر کے بلوچستان میں اپنے قبضہ کا جشن منا رہا ہے یہ بات وطن فروشوں کی سمجھ میں نہیں آتا کیونکہ ان کو کرسی کی لالچ اورپیسے کی حوس نے قوم سے بیگانہ کیا ہو ا ہے یہ اپنے زاتی مفادات عیش و عشرت کی خاطر اپنے مادر واطن کی پاسبانی اور تعفظ کے بجاے یہ غیرملکی پاکستانی قابض کے الہ اور وسیلہ کے طور استمال ہو رے ہیں تاریخ اسے باج گزار لوگوں کو اچھے نام سے یاد نہیں کرتا ہے
Photo: بلوچستان پر پاکستانی بربریت پر سارے عرب دنیا نہ صرف خاموش ہے بلکہ بلوچستان پر ظلم ڈھانے کے لیے پاکستان کی مدد کرتے ہیں۔ حیربیار مری
مقبوضہ بلوچستان ، بی یوسی نیوز۔بلوچ قوم دوست رہنما حیربیار مری نے اپنے بیان میں کہا کہ نیوکاہا ن پر پاکستاننے بلوچ قوم پر جارحیت اور ظلم و جبر اور بربریت کا نا ختم ہونے والا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے اور اسی طرح وہ عام نہتے بلوچوں پر خوف و حراس پھیلانا چاہتے ہیں وہ بلوچ قومی آواز کو طاقت سے ختم کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں نیوکاہان میں مسلسل چھاپے اور سکینڑوں افراد کی گرفتاری اور علاقے میں لوٹ مار بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے انہوں نے کہا دنیا میں انسانی حقوق اور انسانیت کے الگ معیار ہیں فلسطین پر انسانی حقوق کی پامالی کا رونا سارا عرب دنیا رو رہا ہے کیونکہ فلسطینی عرب ہیں اور ان کاہم زبان ہیں جبکہ بلوچستان پر پاکستانی بربریت پر سارے عرب دنیا نہ صرف خاموش ہے بلکہ بلوچستان پر ظلم ڈھانے کے لیے پاکستان کی مدد کرتے ہیں۔ اسطرح یزیدی کیمیونٹی پر ڈھائے ہوئے ظلم پر دنیا آواز اٹھاتی ہے کیونکہ وہاں مذہبی انتہا پسند ٰISIS سے ڈرتے ہیں لیکن بلوچستان پر پاکستان جب انتہائی بے دردی اور سفاکی سے بلوچ قوم پر بموں اور گولیوں کی بارش کرتا ہے اس پر پوری دنیا خامو ش ہے انسانیت کے دہرے معیار دنیا نے اپناہوئے ہیں انسانیت وہاں دکھایا جا رہا ہے جہاں ڈر ہو یا پھر کوئی اپنا ہم زبان اآبا د ہو حیربیار نے کہا بلوچستان پر پاکستانی فوج جو ظلم و جبر کر رہا ہے اس میں اور ISIS میں فرق صرف اتنا ہے کہ یہ وردی میں کر رہے ہیں اور انہیں دنیا کی حمایت حاصل ہے لیکن ان کا نظریہ طالبان اور ISIS جیسا ہے عراق میں ISIS بغیر وردی یزیدی اور دیگر کمیونٹیز پر ظلم کر رہا ہے تو پاکستان بلوچستان مین ریاستی مشنری اور مکمل اختیارات کے ساتھ بلوچ قوم پر وہی ظلم وہ جبر کر رہا ہے حیربیار نے کہا کہ فلسطین یوکرین اور عراق اور عراق میں یزیدیوں پر ظلم دنیا کو دکھائی دیتا ہے لیکن بلوچستان ہر پاکستانی فوج کی جانب سے ظلم وجبر اور خونریزی ان کی نظروں سے اوجھل ہے اقوام متحدہ میں کچھ ممبر ممالک انسانی اور قومی حقوق کے نام پر صرف اپنے مفادات کو تحفظ اور اپنے ہم زبانوں کی مدد کر رہے ہیں یہ Humanitarian Occasional یعنی حسب موقع انسان دوست ہیں جس وقت ان کے اپنے مفاد کی بات آتا ہے یا پھر ان کے ہم زبانوں کا مسلہ ہوتا ہے تو ان کی انسانیت جاگ جاتی ہے ۔ لیکن بلوچ اور کرد الگ قوم ہونے کے باوجود اقوام متحدہ میں ان کی نمائندگی نہیں ہے اور نہ ہی ان کی آواز سنی جاتی ہے پاکستان ایران اوشام جیسے ممالک بلوچ اور کردوں پر قابض ہو کر ان کے وسائل کی لوٹ کھسوٹ کے ساتھ ان دو قوموں کو اپنے جنونی افواج کے زریعے دہشت گردی کا نشانہ بنارہے ہیں اور جدید ہتھیاروں اور جنگی جہازوں کے زریعے ان پر بمباری کر رہے ہیں اس کے باوجود نہ تو ان ممالک سے اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی پر سوال ہوتا ہے نہ ان دو قوموں جن کے زمین کو پاکستان ایران اور شام جیسے جنونی ممالک نے قبضہ کر کے تقیسم کیا ہوا ہے پر بات کیا جاتا ہے اور نہ ہی بلوچ اور کردوں پر کیے گئے مظالم کا نوٹس لیا جاتا ہے بلکہ چین بلوچ قوم کے خلاف پاکستان کی فوجیمدد کر رہا ۔ حال ہی یور پ میں جب یوکرین کا مسلہٗ اٹھا اس میں بھی انسانیت کے بجائے اپنے مفادات اور لسانی بنیادوں پر یوکرین میں مداخلت کیا گیاجب فلسطین پر حملہ ہوتا ہے تو وہاں طاقت کے تواز ن پر بات کیا جاتا ہے کہ فلسطین کے پاس وہ ہتھیار نہیں ہیں جو اسرائیل کے پاس ہیں لیکن بلوچستان پر یہ اصول اور قانوں کیوں لاگو نہیں ہوتا بلوچستان میں بھی پاکستان جیٹ اور مزائیل استعمال کر رہا ہے لیکن بلوچ قوم کے لئے کوئی آواز نہیں اٹھاتا حیربیار نے اقوام متحدہ میں غیرجانبدار ممالک اور بلا تفریق انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف آواز اٹھانے والے ادارون سے اپیل کی کہ وہ بلوچ اور کردوں کی قوام متحدہ میں نمائندگی کے لیے مدد کریں تاکہ بلوچ اور کرد اپنا آزادی حاصل کر کے اقوام متحدہ میں ایک ذمہ دار قوم کی حیثیت سے دنیا میں امن اور آشتی کے لیے کام کر سکیں حیربیار مری نے کہاکہ بلوچ قومی جدوجہد نے پاکستان کو حواس باختہ کر رکھا ہے جسکے ردعمل میں پاکستانی فوج عام شہریوں پر اپنا غصہ نکال رہا ہے اور آئے روز کسی نہ کسی جگہ نہتے بلوچوں کو نشانہ بناتا ہے کبھی نصیرآباد کوہلو مشکے تمپ تو کبھی نیوکاہان کا معاصرہ کر کے بلوچ خواتین اور بچوں کو حراساں کیا جاتا ہے جس طرح 14 اگست منانے کے لیے پاکستانی فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں سے خصوصا نیوکاہان سے جس طرح سینکڑوں لوگوں کو گرفتار کر کے غائب کیا یہ پاکستانی قبضہ گیروں کی بلوچستان میں حواس باختگی کا ثبوت ہیں انہوں نے کہا کہ قابض نے بلوچستان پر قبضہ کرنے کے بعد زیارت میں ایک گھر کو جناح ریزیڈنسی کا نام دیا آج ڈاکٹر مالک قبضہ گیر سے مل کر اس غیر فطری ریاست پاکستان کے لیے وہاں چودہ اگست منا رہا ہے اور انہیں بلوچستان میں اپنے قبضہ کو طوالت دینے میں مدد کر رہے ہیں ایسے لوگوں کو زندگی میں لوگ جعفر اور صادق کے نام سے پیچانتے ہیں ڈاکٹر مالک شاید بھول گیا کہ 11 اگست کو بلوچستان آزاد ہوا اور پاکستان نے بلوچستان پر بزور طاقت قبضہ کر کے بلوچستان میں اپنے قبضہ کا جشن منا رہا ہے یہ بات وطن فروشوں کی سمجھ میں نہیں آتا کیونکہ ان کو کرسی کی لالچ اورپیسے کی حوس نے قوم سے بیگانہ کیا ہو ا ہے یہ اپنے زاتی مفادات عیش و عشرت کی خاطر اپنے مادر واطن کی پاسبانی اور تعفظ کے بجاے یہ غیرملکی پاکستانی قابض کے الہ اور وسیلہ کے طور استمال ہو رے ہیں تاریخ اسے باج گزار لوگوں کو اچھے نام سے یاد نہیں کرتا ہے


