60اور70کے عشرے میں بلوچ قومی دفاع میں لڑنے والوں میں شہید علی محمد مینگل کا کلیدی کردار رہاہے علی محمد تاریخ میں زندہ اور اسکا اٹوٹ حصہ ہے ایسے قومی ہیروں کو کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ بلوچ سالویشن فرنٹ
بلوچ وطن موومنٹ بلوچ گہار موومنٹ اور بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ پر مشتمل الائنس بلوچ سالویشن فرنٹ کے ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے بیان میں کہا ہے کہ 60اور70کے عشرے میں بلوچ قومی دفاع میں لڑنے والوں میں شہید علی محمد مینگل کا کلیدی کردار رہاہے شہید علی محمد مینگل نواب نوروزخان زہری اور اور ان کے ساتھیوں کے مزاکرات کے نام پر دھوکہ دہی سے ریاست کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد شہید علی محمد مینگل نے جہالاوان کے پہاڑوں کو مورچہ بناکران کے جدوجہد کا تسلسل جاری رکھتے ہوئے بلوچ عوام کو سردار نوروز خان اور ان کے ساتھیوں کے جدوجہد کے پس منظر سے آگاء کیا بلوچ عوام کو قومی دفاعی جدوجہد کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے انہیں تحریک کے صفوں میں شامل کرنے کی بے شمار کوششیں کرتے ہوئے آزادی کے لئے واحد راستہ جنگ آزادی کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہمیں اپنی تشخص اور شناخت کے بحالی چاہیے تو اس کے لئے اٹھ کھڑا ہونا گا ہاتھ باندھ کر خاموشی سے ہم اپنی دفاع نہیں کرسکتے انہوں نے نواب نوروزخان اور ان کے ساتھیوں کے حوالہ سے ریاست کی جانب سے پھیلائی گئی ان پروپیگنڈوں کو سختی سے مسترد کیاکہ جس میں ایک طرف ریاست اور ان کے چھتری تلے باج گزاربلوچ سپوت نوروزخان اور ان کے ساتھیوں کی جدوجہد کو خانیت کے بحالی سے منسوب کرکے پروپیگنڈہ کررہے تھے
اور دوسری طرف کہہ رہے تھے کہ یہ دہشت گرد ہے علی محمد مینگل متعدد بار کہہ چکے تھے کہ نوروز خان اور ان کے ساتھیوں نے بلوچ قوم کی تشخص اور جداگانہ شناخت کے لئے مسلح جدوجہد کا سلسلہ شروع کیا تھا خان آف قلات نے ان کے ساتھ ایک پائی کا بھی تعاون نہیں کیا وہ کئی ایک جگہوں میں اس وقت کے معروف جریدہ نوکیں دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہتا کہ اگر نوروزخان کی جدوجہد خانیت کے بحالی کے لئے ہوتی تو احمد یار خان واضح الفاظ میں’’ نوکیں دور ‘‘میں نوروزخان اور ساتھیوں پر یہ گھٹیا الزام نہیں لگاتا کہ وہ ملک دشمن عناصر ہے ترجمان نے کہاکہ میر علی محمد مینگل جہالاوان کے مختلف علاقوں میں جاکر وہاں کے لوگوں کو جدوجہد کی طرف راغب کرنے کی کوشش کی اور کہاکہ نوروزخان کی جدوجہد ہماری اثاثہ ہے اسے ہر حال میں جاری رکھنی چاہیے ترجمان نے بلوچ سپوت اوررہنماء شہید علی محمد مینگل کو ان کی بے لوث اور رضاکارانہ جدوجہد پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ ان کا کردار بلوچ قوم کے لئے چراغ راہ ہے وہ بھٹو اور ایوبی ادوار میں ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد کی انہیں مذاکرات کے نام پردھوکہ دینے کی متعدد بار کوشش کی گئی لیکن وہ ریاست کی جانب سے ہتھیار پھنکنے کی تمام شرائط کو مسترد کرتے ہوئے غلامی قبول کرنے کے عوض آسودہ اور پر سر آسائش زندگی گزارنے کے پیش کش کوٹھکراتے ہوئے سنگلاخ پہاڑو ن اور چٹیل میدانوں کو ترجیح دی جہالاوان کے پہاڑ وں کومسکن بنانے والے یہ بہادر سپوت بہت جلد ہی دشمن کے نظر میں آگیا ان کی تازہ دم جدوجہد نے ریاست کے پریشانیوں میں اضافہ کیا ایوبی ادوار میں انہیں گرفتار کیا گیا لیکن رہا ہونے کے بعد انہوں نے ایک دفعہ پھر جدوجہد کی بھٹوکی دور میں جب مری علاقوں میں مسلح جدوجہد جاری تھی تو دوسری طرف جہالاواں کے پہاڑون میں ایک گوریلاعلی محمد مینگل بھی تھا جو واپسی کے تمام راستوں کو سر بمہر کرکے واضح الفاظ میں کہہ رہاتھا کہ اپنی دفاع کے بغیر ہماری تاریخ رہیگی نہ تشخص تر جمان نے کہا کہ70 کے دہائی میں وہ ریاستی فورسز کے ساتھ میدان عمل میں ایک دوبدو جھڑپ میں شہید ہوگیا لیکن وہ تاریخ میں زندہ اور اسکا اٹوٹ حصہ ہے ایسے قومی ہیروں کو کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ہماری آج کے نسل کی علی محمد مینگل کے بارے میں معلومات انتہائی محدو د ہے حالانکہ موجودہ جہد آزادی انہیں پیش رو تحریک کا تسلسل ہے گوکہ آج کی تحریک زیادہ منظم اورسائٹیفک بنیادوں پر مشتمل ہے لیکن یہ اسی ارتقائی عمل کا حصہ ہے ترجمان نے ریاستی فورسز کی جانب سے شہدائے بلوچستان قبرستان نیوکاہان شال پر حملہ اور یلغار سمیت قومی قائد اور سمبل آف فریڈم سردار خیر بخش مری اور دیگر بلوچ شہداء کی آخری آرام گاہوں کی بے حرمتی کی شدید الفاظ میں مزمت کرتے ہوئے کہاکہ ریاست بلوچ تحریک کی شدت سے خوف اور فرسٹیشن کا شکار ہے بلوچستان پر بلجبر قبضہ جمانے کے بعد سے اب تک ریاست کے ہاتھوں نہ ہماری زبان محفوظ ہے نہ ہماری تاریخ اور نہ ہی کلچرجب کہ آج ریاست ہمارے شہداء کے آخری آرام گاہوں کو بھی مسمار کررہے ہیں ترجمان نے کہاکہ بلوچ سپوتوں کو شہید کرنے اور ان کی لاشین مسخ کرنے کے بعد جب ریاست اپنی تمام تر طاقت استعمال کرنے کے بعد بلوچ قوم کو پیچھے نہ ہٹاسکے تو وہ اپنی نفسیاتی شکست کو چھپانے کے لئے اس طرح کے ہتھکنڈوں کا سہارا لے رہے ہیں ترجمان نے کہاکہ ریاست اس طرح کے مظالم سے بلوچ قوم کے ارادون میں تذبذب اور لغزش پیدا نہیں کرسکتا


