×

مہذب دنیا سے اپیل کی کہ وہ بلوچ قوم کی آزادی کی حمایت کریں تاکہ بلوچستان ایک ذمہ دار ملک کی حیثیت سے خطے میں امن و آشتی کے لیے کام کر سکے بلوچ قوم دوست رہنما حیربیار مری

مہذب دنیا سے اپیل کی کہ وہ بلوچ قوم کی آزادی کی حمایت کریں تاکہ بلوچستان ایک ذمہ دار ملک کی حیثیت سے خطے میں امن و آشتی کے لیے کام کر سکے بلوچ قوم دوست رہنما حیربیار مری

21.8.2014
بلوچ قوم دوست رہنما حیربیار مری نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ افغانستان میں امریکی فوجوں کی انخلا اور ہندوستان میں نئی حکومت کے بر سر اقتدار آنے کی وجہ سے خطے میں حالات بدل رہے ہیں جس سے حواس باختہ پاکستانی فوج دوبارہ طالبان اور جہادی تنظیموں کو مظبوط کرنے کے لیے پاکستان میں بر سر اقتدار آنے کے لیے راہ ہموار کر رہا ہے حیربیار مری نے کہا نوازشریف اس وقت جہادی تنظیموں کو اس حد تک مظبوط نہیں کر پا رہا جیسا فوج چا ہتا ہے حالانکہ نوازشریف اور فوج کے پالیسیز میں کوئی خاصا فرق نہیں ہے دونوں مذہبی انتہا پسندی کے نام پر پنجاب کی مفادات کے لیے امریکہ کے ساتھ منہ میں رام رام بغل میں چھری والی پالیسی پر عمل پیرا ہونے کے ساتھ کرسی اور طاقت کے لیے ایک دوسرے کے مخالف بھی ہیں نوازشریف پنجاب کے مفادات کے لیے چین کے ساتھ بھی پاکستانی فوج کے مرضی کے ساتھ معائدے کر چکے ہیں اور پنجاب کے وزیراعلی بلوچستان کے وسائل کا سودا چین کے ساتھ ٹرین انجنوں اور پنجاب کے لیے بجلی کے حصول کے لیے کر چکے ہیں اور دوسری جانب نوازشریف اس وقت پاکستانی فوج کی بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بلوچ اور پشتونوں کی اجتماعی قتل و غارت کی پالیسی کو بھی آگے لے جارہا
ہے لیکن ان کے درمیان اختلاف زیادہ تر اس نقطے پر ہے کہ نوازشریف اپنی من مانی اور طاقت چاہتا ہے جو فوج کے لیے ناقابل قبول ہے کیونکہ فوج اہمیشہ سے طاقت اپنے پاس رکھتا آرہا ہے

اور حکمران بھی خود چنتا ہے اور اسے رخصت بھی اپنے مرضی سے کرنا چاہتا ہے چاہے وہ پیپلز پارٹی کی ہو یا مسلم لیگی۔ جیسے ابھی نوازشریف کو دھاندلی کے زریعے حکمران منتخب کروایا اور پھر عمران خان کو دھاندلی کا کارڈ تھما کر نوازشریف کی حکومت گرانے کا سگنل دے دیا۔ حیربیار نے کہا دوسری جانب افغانستان میں حالات تبدیل ہورہے ہیں جس سے پاکستانی فوج کے اہم اثاثے افغان طالبان اور جہادیوں جنہیں پاکستانی فوج پال پو س کر اس خطے میں ان کے زریعے اپنی من مانی اور دہشت قائم کرنا چاہتا ہے انہیں بھی نوازشریف اتنا مضبوط نہیں کر پا رہا جتنا فوج چاہتا ہے ۔ کارگل کی مخالفت پر نوازشریف کو نکال کر پرویز مشرف کو لایا گیا تھا پھر پرویز مشرف نے شوکت عزیز کو وزیراعظم بنایا جو کہ فنڈز اور پیسے کے معاملے کافی تجربہ کار تھا اور انٹرنیشنل بینکوں میں نوکری کر چکا تھا اور اس کے زریعے اپنا کام آسانی سے کر سکتے اسی طرح ضیاالحق نے حکومت پر قبضہ کر کے محمد جو نیجو کو وزیر اعظم بنایا اور تما م تر اختیار ات اپنے پاس رکھے اور اسی دور میں افغانستان اور کشمیر میں جہاد کا آغاز کیا گیا جنرل ضیا کے دور سے پاکستانی فوج انہی جہادیوں کو مضبوط کر کے ان کے زریعے خطے میں اپنی دہشت اور من مانی قایم کرنے کی کوششوں میں لگے ہیں اب دوبارہ اس خطے میں جب افغانستان ایک جمہوری اور مضبوط ملک ہونے جارہا ہے اور حالات تبدیل ہو رہے ہیں جس سے پاکستان جیسے غیر فطری ملک کو اپنی بقا اور پنجاب کی مفادات کا مسلۂ درپیش آچکا ہے جو کہ پاکستانی فوج کے لیے پریشانی کا باعث بن رہے ہیں کیونکہ ایک طرف پاکستان فوج دہشت گردی کے نام پر اتحادی افواج سے پیسے لے کر انھیں دھوکہ دیتا رہا ہے اور دہشت گردی کے خلاف امداد ہ بلوچستان میں آزادی پسندوں اور خیبر پختونخوا میں اپنے بنائے ہوئے منحرف شدہ طالبان اور عام پشتونوں کے خلاف استعمال کر رہا ہے جو کہ اب دنیا کے سامنے ان کی مکاری اور دہری معیار سامنے آچکا ہے تو دوسری طرف مودی حکومت کی طرف کشمیر میں پاکستانی دراندازی کی وجہ سے پاکستانی فوج دباؤ کا شکار ہے اس لیے اب پاکستانی فوج سب کچھ اپنے کنٹرول میں لینے کے لیے اسلام آباد میں یہ سارا ڈرامہ کروا رہا ہے، طاہر القادری اور عمران خان اوزار کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں تاکہ فوج براہ راست اقتدار میں آکر طالبان اور جہادی گروپوں کو مظبوط کر کے افغانستان سمیت پورے خطے کو ایک مرتبہ پھر بدامنی میں دھکیل دے ۔ پوری دنیا جانتی ہے کہ افغانستان کو عدم استحکام اور خانہ جنگی کا شکار پاکستان نے کیا اور خطے میں جنونیت پسندی کو عام کیا تاکہ اس طرح وہ دنیا کومذہبی انتہاپسندوں کے نام پر بے وقوف بنا کر پنجاب کو ترقی دے سکے اور امریکی فوجوں کے جانے کے بعد افغانستان اور خطے میں مذہبی انتہا پسندی کو مزید مستحکم کر کے اپنے سٹریڈجک مفادات حاصل کر سکے۔حیربیار مری نے مہذب دنیا سے اپیل کی کہ وہ بلوچ قوم کی آزادی کی حمایت کریں تاکہ بلوچستان ایک ذمہ دار ملک کی حیثیت سے خطے میں امن و آشتی کے لیے کام کر سکے کیونکہ پاکستانی فوج پنجاب کے مفادات کی خاطر بلوچستان سمیت افغانستان اور ہندوستان میں اپنے جنونی مذہبی انتہا پسندوں کے زریعے بدامنی اور خطے کو آگ میں دھکیلنا چاہتا ہے اگر پاکستانی فوج اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہوگیا تو نہ صرف خطہ کو بلکہ پوری دنیااس آگ کی لپیٹ میں آئیگا

Previous post

آزاد بلوچستان کیلئے جدوجہد کررہا ہوں ، یہ دنیا میں بسے ہر فرد و قوم کا حق ہےکہ وہ آزادی کے ساتھ اپنی زندگی بسر کرے ۔ ، بلوچستان ایک خود مختار و آزاد ریاست تھی لیکن پاکستان نےہم پر قبضہ کرلیا۔ حیربیار مری

Next post

شہدائے تراتانی کے قربانی خلوص اور لہو سے آزادی کی تحریک کی آبیاری ہوئی ہیں اگر چہ آج ہم قومی آزادی کی جدوجہد میں ان کی جسمانی کمی محسوس کررہے ہیں لیکن ان کی سوچ فکر علم اور شعورء آزادی ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ بلوچ سالویشن فرنٹ