×

ایران و پاکستان گیس پائپ لائن سمیت چین کاگوادر پورٹ کے حوالہ سے قابض ریاست سے معائدہ نہ صرف بلوچ مرضی و منشاء کے برعکس ہے بلکہ عالمی و علاقائی قوانین کی مکمل خلاف ورزی ہے سعید یوسف بلوچ میر قادر بلوچ

ایران و پاکستان گیس پائپ لائن سمیت چین کاگوادر پورٹ کے حوالہ سے قابض ریاست سے معائدہ نہ صرف بلوچ مرضی و منشاء کے برعکس ہے بلکہ عالمی و علاقائی قوانین کی مکمل خلاف ورزی ہے سعید یوسف بلوچ میر قادر بلوچ

17.2.2013
بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی چیئرمین سعید یوسف بلوچ اور مرکزی سیکریٹری جنرل میر قادر بلوچ نے اپنے جاری کردہ مشترکہ بیان میں کہاہے کہ ایران و پاکستان گیس پائپ لائن سمیت چین کاگوادر پورٹ کے حوالہ سے قابض ریاست سے معائدہ نہ صرف بلوچ مرضی و منشاء کے برعکس ہے بلکہ عالمی و علاقائی قوانین کی مکمل خلاف ورزی ہے انہوں نے کہا کہ چین خطہ میں اپنی پنجہ گھاڑنے کے لئے گزشتہ عرصوں سے قابض ریاست کو لاجسٹک سپورٹ کے ساتھ ساتھ بلوچ تحریک آزادی کو کاؤنٹر کرنے کے لئے بڑے پیمانے پر ہتھیار اوردیگر آلات فراہم کررہی ہے جب کہ گوادر پورٹ کے انتظامی کنٹرول چین کے حوالہ کرنے کے معاملہ میں بلوچ قوم نے اپنی خدشات و تحفظات کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ ایک سٹیک ہولڈر کی حیثیت سے نہ صرف چیناء بلکہ دنیا کے تمام ممالک کو اپنی موقف سے بار ہا آگاء کیا ہے اورکہاہے کہ بلوچ مرضی و منشاء کے برعکس بلوچ سرزمین سے مربوط کوئی بھی معائدہ جو قابض ریاست سے مل کرطے کی جائے گی قابل قبول نہیں ہوگا اور ایسے تمام معائدوں کا بلوچ قوم نہ صرف مخالفت کریگی بلکہ ایسے تمام معائدہ وں کو بلوچ دشمنی سے تعبیر کیا جائے گا جب کہ بعض بیرونی سرمایہ کار جو بلوچ وطن میں سرمایہ کاری کرنے کے خواہشمند تھے انہوں نے بلوچستان کی مقبوضہ حیثیت کے تناظر میں اپنے ہاتھ کھینچ لئے لیکن گزشتہ عرصوں سے چین کی بدمعاشی بھی قابل دید ہے جو اپنی گماشتہ قابض ریاست سے مل کرگوادر پورٹ کا انتظام اپنے تحویل میں لے کر قابض ریاست سے ہم قدم بلوچ نسل کشی میں ریاست کے برابرکے شریک کا کردار ادا کررہے ہیں اور قابض ریاست کو اس سلسلہ میں چین باقائدہ سے اسلحہ اور دہشت گردی کے لئے ہتھیار فراہم کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ ہے کہ وہ نہ تو ایک قوم اور نہ ہی ایک ریاست ہے بلکہ وہ ایک سامراجی گماشتہ ہے جو برطانیہ کا مفتوعہ علاقہ اور نوآبادی کے شکل میں غیر فطری ہندو اور مسلم تضادات کی کو بنیاد اور جواز بناکر ھندوستان کی جبری تقسیم کی صورت میں لایا گیا بلکہ اس کے برعکس بلوچ وطن کی اپنی الگ تاریخ اور سرزمیں ہے بلوچ آزادی کے لئے برسر پیکار عسکری و سیاسی قوتوں نے بارہا عالمی دنیا کو اپنی موقف سے آگاہ کیا ہے کہ بلوچ وطن پاکستانی کا انتظامی یا قانونی صوبہ نہیں بلکہ ایک الگ ملک ہے اور پاکستان قبضہ گیر اور غاصب کی حیثیت سے بلوچ وطن پر ناجائز دعویداری کررہا ہے انہوں نے کہا کہ چین گوادر پورٹ سے اپنی ہاتھ کھینچ لیں اور پنجابی ریاست کی پشت و پناہی چوڑدیں وگر نہ بلوچ کسی بھی بیرونی دشمن قوت کا استقبال اور میزبانی مہمان کی حیثیت سے نہیں دشمن کی حیثیت سے کریگی انہوں نے کہا کہ جوبھی عالمی قوت بلوچ قومی مفادات کو پاؤں تلے روندتے ہوئے قابض ریاست سے ہاتھ ملاکر ان کے استحصالی ہتھکنڈوں میں شریک ہوگا تو ایسے سامراجی قوت کے خلاف بلوچ قوم مزاحم اور رکاوٹ بنے گی

Previous post

فروری کے مہینے میں شہید ہونے والے سپوتوں شہید اسد بلوچ شہید احمد شاہ بلوچ شہیدحاجی جان محمد مری شہید سہراب مری شہید ثناء سنگت بلوچ اور شہید محبوب واڈیلہ کو ان کی قومی شہادت پر سرخ سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جدوجہد اور زندگی ہمارے لئے کھلی کتاب کی مان

Next post

پیپلز پارٹی بلوچ قوم کا قاتل ہے معافی مانگنے کے حربے استعمال کرنے سے وہ اپنی گناہوں کے داغ نہیں مٹاسکتے میر قادر بلوچ