×

دشت گوران میں چھاپہ چادر چار دیواری کی پائمالی اور تمپ گومازی اور گرد ونواح میں آبادی پر فضائی حملہ شیلنگ قتل عام شہید کمبر قاضی سمیت ارشاد مستوئی اور ان کے ساتھیوں کا قتل اور ایک تسلسل کے ساتھ بلوچ قوم کی نسل کشی کاؤنٹر انسر جنسی ہے ۔ بلوچ سالویشن فرنٹ

دشت گوران میں چھاپہ چادر چار دیواری کی پائمالی اور تمپ گومازی اور گرد ونواح میں آبادی پر فضائی حملہ شیلنگ قتل عام شہید کمبر قاضی سمیت ارشاد مستوئی اور ان کے ساتھیوں کا قتل اور ایک تسلسل کے ساتھ بلوچ قوم کی نسل کشی کاؤنٹر انسر جنسی ہے ۔ بلوچ سالویشن فرنٹ

بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ پر مشتمل بلوچ سالویشن فرنٹ کے ترجمان نے اپنے جاری بیان میں خلق شہید لونگ خان دشت گوران میں ریاستی فورسز کی جانب سے چھاپہ چادر چار دیواری کی پائمالی اور تمپ گومازی اور گرد ونواح کے علاقہ میں سول آبادی پر فضائی حملہ شیلنگ خواتین پر تشدد اور بچوں سمیت متعدد افراد کی شہادت کے واقعات ڈاکٹر کمبر قاضی سمیت معروف بلوچ صحافی ارشاد مستوئی اور ان کے دو ہم پیشہ ساتھیوں کا قتل اور ایک تسلسل کے ساتھ بلوچ قوم کی نسل کشی کاؤنٹر انسر جنسی ہے ریاست بلوچ عوام کی بیداری، جہد آذادی کے لئے صف بندی اور فیصلہ کن جدوجہد سے نفسیاتی وزہنی شکست خوردگی کے بعد عام بلوچ آبادیوں کو تواتر کے ساتھ نشانہ بناکر ماس کلنگ کا سلسلہ تیز کردیا ہے گزشتہ دنوں قلات کے علاقہ دشت گوران میں ریاستی فورسز کی جانب سے میر قمبر خان مینگل کے گھر پر چھاپہ چادر اور چاردیواری کی پائمالی خواتیں اور بچوں پر تشدد ہراسان کرنے کے واقعات اور گھر میں موجود سامان کی توڑ پھوڑکے ساتھ ساتھ زرعی ٹیوب ویل اور دیگر املاک کی تباہی مجرمانہ اور قابل مذمت عمل ہے اس طرح کے اقدامات اب معمول بن چکے ہیں اس طرح کے ماوراانسانیت عمل سے بلوچ قومی جدوجہد کے خیر خواہوں اور ہمدردوں کی حمایت اور ہمدردیوں کو کمزور نہیں کیا جاسکتا

ترجمان نے کہاکہ گومازی میں بھی عام بلوچ آبادیوں کو نشانہ بنا یا گیا شیر خوار بچوں تک معاف نہیں کیا گیا گھر میں موجود کلام پاک قران مجید وں کو بھی جلا یا گیا گلیوں میں کھیلتے کمسن بلوچ بچوں پر بمباری کی گئی اور ریاست کی فضائی حملوں سے بچوں سمیت پانچ افراد شہید ہوگئے ترجمان نے کہاکہ بلوچ قومی تشخص اور آزادی کی بات کرنے والوں پر بمبارمنٹ اور بلوچ جہد کے خیر خواہوں اور آزادی خواہ عوام کو تشدد اور جارحیت کا نشانہ بنانے کا مقصد بلوچ قوم کو آزادی کی اصولی موقف سے پیچھے ہٹانے کی مکروہ حربے ہیں اور اسی سلسلہ کو لے کر گزشتہ دنوں بلوچ صحافی ارشاد مستوئی اور ان کے ساتھیوں کو ان کے دفتر میں آزادی صحافت کی پاداش میں شہید کرکے ان کے قلم کو خوں میں ڈبو یا گیا ترجمان نے ڈاکٹر کمبر مبارک کو ان کی شہادت پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ کمبر قاضی کی بلوچ قومی آزادی کی والہانہ کوششیں قابل قدر ہے تاریخ آزادی ایسے متوالوں کی یادکو ہمیشہ سنہرے حروف کے ساتھ دہرائے گی بیان میں مزید کہاگیاہے کہ بلوچستان میں ریاستی جارحیت انسانی حقوق کی بدتریں پائمالیوں اور بلوچ قومی آزادی کے معاملہ پراقوام متحدہ لب کشائی کرکے خاموشی کاروزہ توڑیں بلوچستان میں انسانی حقو ق کے خلاف ورزیوں پر روایتی نوعیت کے طفل تسلیوں کے بجائے اقوام متحدہ کو عملی اقدامات کرنی چاہیے اسطرح کی زبان بندی سے ریاست کی جنگی جنوں کو شہ دینے کی مترادف ہے بلوچستان میں ماس کلنگ ہزاروں فرزندوں کے اغواء مارو اور پھینکو کے ہزاروں واقعات مسخ شدہ لاشوں کے بعد اب اجتماعی قبریں بن رہی ہے لیکن اقوام متحدہ اپنی بے معنی خاموشی سے بلواسطہ یہ تاثر دے رہاہے کہ یہاں کچھ بھی نہیں ہواترجمان نے کہاکہ ریاست نے بلوچ قومی آزادی کی جہد کو روکنے کے لئے تمام تر حربے آزمائے لیکن وہ بلوچ قوم کو آزادی کے موقف سے دستبردار نہیں کرسکے اب اقوام متحدہ کے لئے دوہی راستہ ہے یا تو وہ بلوچستان میں جاری خونریزی اور بلوچ نسل کشی کا تماشا ء کریں یا تو بلوچستان میں فی الفور مداخلت کرکے بلوچستان کی آزادی کے معاملہ پر اپنی بین الاقوامی زمہ داریوں کو اداکریں پوری دنیا زمینی سطح دیکھ رہی ہے کہ بلوچ اپنی آزادی کے لئے قربانیاں دی رہی ہے اپنی جانیں گنوارہی ہے لیکن عالمی ضمیر کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی عالمی میڈیا کی خاموشی بھی قابل دید ہے اس طرح کے واقعات کو بھی دولائن کے رپوٹوں میں سموکر ریاستی جارحیت کی مذمت کرنے سے ہچکچاکر ریاستی مظالم اور جبر وقہر کی درست منظر کشی اور زمینی حقائق سے اقوام عالم کو آگاہ کرنے میں عالمی میڈیاانتہائی سستی اور بے حسی سے کام لے رہی ہے

Previous post

ریاست اپنی طاقت اور فوجی وسائل کے بلبوتے پرجنگی قوانیں او اخلاقی قدروں سے مکمل طور پر محروم بلوچ عوام کے خلاف بے پناہ جارحیت کررہاہے لیکن جارحیت اور تشدد سے بلوچ قوم کی جذبہ قربانی اور آزادی کی موقف کو کمزور نہیں کیا جاسکتا۔ بلوچستان انڈیٌپینڈنس موومنٹ

Next post

بلوچ رہنماء شہید سفر خان زرکزئی کے قریبی ساتھی میر اکبر شاہوانی کی وفات پر ان کے خاندان اور پسماندگان سے اظہار تعزیت آزادی کے لئے کام آنے والے ایسے جہد کار کا غم ان کے خاندان اور عزیز اقارب کا نہیں ہوتا بلکہ پورے بلوچ قوم کا ہے۔ بلوچ سالویشن فرنٹ