×

شہداء نے بلوچستان کی آزادی اور قومی بقاء کے لئے جو قربانیاں دیں جن مشکلات کا سامنا ء کیا جس قسم کے تکالیف اٹھا ئے وہ رائیگاں نہیں جائیں گئے ان کا ثمر آج ہمیں بین الاقومی حمایت کی صورت میں مل رہاہے بلوچ سالویشن فرنٹ

شہداء نے بلوچستان کی آزادی اور قومی بقاء کے لئے جو قربانیاں دیں جن مشکلات کا سامنا ء کیا جس قسم کے تکالیف اٹھا ئے وہ رائیگاں نہیں جائیں گئے ان کا ثمر آج ہمیں بین الاقومی حمایت کی صورت میں مل رہاہے بلوچ سالویشن فرنٹ

بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ پر مشتمل الائنس بلوچ سالویشن فرنٹ نے اپنے مرکزی ترجمان نے شہید زمان مری ایڈوکیٹ شہید ظفر سمالانی شہیدجاوید اختر بلوچ شہیدمیرجان میرل شہید مختار بلوچ شہید اسداللہ بلوچ شہید عبدالخالق بلوچ کو یا د کرتے ہوئے کہاہے کہ شہداء نے بلوچستان کی آزادی اور قومی بقاء کے لئے جو قربانیاں دیں جن مشکلات کا سامنا ء کیا جس قسم کے تکالیف اٹھا ئے وہ رائیگاں نہیں جائیں گئے ان کا ثمر آج ہمیں بین الاقومی حمایت کی صورت میں مل رہاہے اگر چہ ریاست بلوچ قوم کی منظم نسل کشی کررہی ہے اور اس پیمانے کی نسل کشی اور جارحیت کو روکنے کے لئے عالمی دنیا ابھی تک کوئی قابل زکر اور موثر کردار ادا کرنے سے قاصر رہاہے لیکن انٹر نیشنل کمیونٹی میں بلوچ قومی مسئلہ اورریاستی جارحیت اور قتل عام کے واقعات کے حوالہ سے ایک شدت اور بے چینی پائی جاتی ہے امریکن کانگریس اور بعض دیگر عالمی ادارے بلوچستان کی آزادی کی حمایت میں بلوچ قوم کی بین الاقومی موبلائزیشن کا حصہ ہے وہ اپنے ممالک اور حکومتوں کو بلوچ قومی آزادی کے حوالہ سے توجہ مبذول کر نے کے لئے نتیجہ خیز کوششیں کررہی ہیں جس سے عالمی سطح پر بلوچ سفارت کاری کو فائدہ پہنچ رہاہے ترجمان نے کہاکہ ریاست قومی آزادی کے بلوچ موقف کو عالمی اور علاقائی سطح پر دبانے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکاہے دنیا کے آنکھوں میں دھول جھونکنے والے ان کے تمام دعوے پروپیگنڈے اور غلط بیانیاں عالمی سطح پر بے نقاب ہوچکے ہیں کہ بلوچ وطن نہ تو ریاست کا حصہ ہے اور نہ ہی بلوچ قوم ریاست کے جبری الحاق کو تسلیم کرتے ہیں ترجمان نے کہاکہ بلوچ اپنی قومی آذادی کا مقدمہ سیاسی قانونی جغرافیائی تاریخی اور اخلاقی پہلوؤں کے حوالہ سے جیت رہاہے اس میں کوئی دورائے نہیں ہزاروں بلوچ فرزند اس راہ میں اپنی جانوں کا نزرانہ دے چکے ہیں اور اپنی آزادی کی حفاظت کے لے بلوچ قوم مزید قربانیوں کا حوصلہ رکھتے ہوئے ریاست سے نبرد آزما ہے

انٹر نیشنل کمیونٹی بلوچ خطہ کو جنگ زدہ سمجھتے ہوئے بلوچ مسئلہ کی حل کو بلوچ وطن کی آزادی سے مشروط سمجھتی ہے ریاست بلوچ مسئلہ کے حوالہ سے عالمی اقدامات کی ان ہی چنگار ی کو محسوس کرتے ہوئے اپنی نفسیاتی او زہنی شکست سمیت فرسٹیشن کا غصہ بلوچ عوام پر بے پناہ جارحیت کے صورت میں ظاہر کررہاہے سول آبادیوں پر بمباری اور لوگوں کے گھروں پر دھاوا بول کر ان کی مال و املاک اور گھروں کو جلانے کے پالیسی اور قتل یہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ ان ہی حربوں کے زریعہ عالمی دنیا کے سامنے اپنی سبکی اور شرمندہ گی کے اثر کو زائل کرنے کی کوشش کررہے ہیں ترجمان نے کہاکہ ریاست پنجاب کے معیشت کو ایندھن دینے کے لئے چین کے ساتھ بحر بلوچ کے حوالہ سے معاشی راہداریوں کے نام پر جو کھیل کھیل کر بلوچ سرزمین کے حوالہ سے پے درپے معائدات کررہے ہیں اقوام عالم امریکہ یورپی یونیں اور مہذب دنیا چیں اور ریاست کے ان نام نہاد اور بلوچ مرضی منشاء کے برعکس معائدوں کے خلاف اپنی اثر و رسوخ استعمال کریں ان معائدات میں کاشغر سے گوادر تک نہ صرف ریلوے لائن بچھانے کا منصوبہ شامل ہے بلکہ ایکسپریس سڑک اور دیگر انفراسٹکچر کے منصوبہ شامل ہے ریاست بلوچ وسائل کی پہلے سے بڑے پیمانے پر لوٹ مار کررہی ہے اور اب گوادر بندرگاہ کو نہ صرف اپنی شرح منافع بلکہ چین کی معاشی مقاصد کے استعمال کرنے کی مزموم کوششیں کر رہی ہے جبکہ ریاست پہلے سے ہی بلوچ قوم کی نسل کشی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اس کو چین اور ریاست کی مجرمانہ اقدامات سے مزید شہہ ملے گی ترجمان نے کہاہے کہ بلوچ قوم نے چین کو ان معائدات سے دستبردار ہونے اور پیچھے ہٹنے کے لئے بارہا اپنی جدوجہد کے زریعہ پیغام دیا لیکن ایک دفعہ پھرچینی سامراج بلوچ سرزمیں پر پنجہ گاڑھنے اور بلوچ استحصال میں شریک ریاست کو مکمل پشت پنائی جاری رکھتے ہوئے اسے بلوچ نسل کشی کے لئے اسلحہ سمیت دیگر وسائل فرائم کررہی ہے ۔

Previous post

بلوچ رہنماء شہید سفر خان زرکزئی کے قریبی ساتھی میر اکبر شاہوانی کی وفات پر ان کے خاندان اور پسماندگان سے اظہار تعزیت آزادی کے لئے کام آنے والے ایسے جہد کار کا غم ان کے خاندان اور عزیز اقارب کا نہیں ہوتا بلکہ پورے بلوچ قوم کا ہے۔ بلوچ سالویشن فرنٹ

Next post

بلوچ قوم غلامی سے نجات پانے کے لئے آج جن مشکلات سے دوچار ہے ان میں سب سے بڑی رکاوٹ سرداری اور نوابی نظام ہے۔ میر قادر بلوچ