×

بلوچستان اور سکاٹ لینڈ کا موازنہ ہی غلط ہے۔ ’ہم نے نہ تو کبھی ماضی میں بلوچستان میں ریفرنڈم کا مطالبہ کیا تھا اور نہ ہی مستقبل میں ہمارا کوئی ایسا ارادہ ہے۔‘حیر بیار مری

بلوچستان اور سکاٹ لینڈ کا موازنہ ہی غلط ہے۔ ’ہم نے نہ تو کبھی ماضی میں بلوچستان میں ریفرنڈم کا مطالبہ کیا تھا اور نہ ہی مستقبل میں ہمارا کوئی ایسا ارادہ ہے۔‘حیر بیار مری

۔۔ بلوچ قوم دوست رہنما حیربیار مری نے کہا کہ بلوچستان اور سکاٹ لینڈ کا موازنہ ہی غلط ہے۔ ’ہم نے نہ تو کبھی ماضی میں بلوچستان میں ریفرنڈم کا مطالبہ کیا تھا اور نہ ہی مستقبل میں ہمارا کوئی ایسا ارادہ ہے۔‘” انھوں نے کہا کہ ’سکاٹ لینڈ میں آزادی کا مطالبہ کرنے والوں کو نہ تو مارا گیا، نہ غائب کیا گیا اور نہ ٹارچر کیا گیا لیکن بلوچستان میں تو جو آزادی کا صرف نام لیتے ہیں ان سے تو اس دنیا میں رہنے کا حق بھی چین لیا جاتا ہے۔‘

حیر بیار مری کا کہنا تھا کہ سکاٹ لینڈ اور بلوچستان میں بنیادی فرق یہ ہے کہ سکاٹ لینڈ کے عوام
صدیوں سے اپنی مرضی سے برطانوی یونین کا حصّہ ہیں اور اب اگر آزادی مانگ رہے تھے تو انہیں ان کا جمہوری حق دیا گیا لیکن بلوچستان کے عوام تو1947 سے پاکستان کے ساتھ نہ تو رہنے کے حق میں تھے اور نہ اب ہیں، تو ہم ریفرینڈم کا مطالبہ کیوں کریں؟
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ بلوچستان پر قبضہ ختم کیا جائے اور پھر اس کے بعد بلوچ عوام خود اپنے مستقبل کا فیصلہ جمہوری انداز میں کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘
تو کیا بلوچ عوام سرداروں اور نوابوں کے ماتحت زندگی گزارنا پسند کریں گے؟ اس سوال کے جواب میں حیربیار مری کا کہنا تھاکہ بلوچ عوام کا ماضی میں استحصال ضرور ہوا ہے لیکن ان کے پیش کیےگئے بلوچستان لبریشن چارٹر کے تحت سردار اگر بلوچستان نیشنل اسمبلی کا ممبر بننا چاہے گا تو اسے سرداری سے مستعفیٰ ہونا پڑے گا، آزاد بلوچستان میں سردار ہو یا کہ عام بلوچ وہ ایک ہی ووٹ استعمال کر کے اپنے نمائندے منتخب کر سکیں گے۔

Previous post

بلوچ قوم غلامی سے نجات پانے کے لئے آج جن مشکلات سے دوچار ہے ان میں سب سے بڑی رکاوٹ سرداری اور نوابی نظام ہے۔ میر قادر بلوچ

Next post

قومی آذادی کے مقابلہ میں نوکریاں اور مراعات کچھ بھی نہیں ایک آزاد اور جمہوری قومی ریاست کی تعمیر و تشکیل کے لئے جدوجہد جاری رہے گی ۔ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ