قومی آذادی کے مقابلہ میں نوکریاں اور مراعات کچھ بھی نہیں ایک آزاد اور جمہوری قومی ریاست کی تعمیر و تشکیل کے لئے جدوجہد جاری رہے گی ۔ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ
بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ شال ھنکین کا ایک اہم اجلاس مرکزی آگنائزنگ کمیٹی کے ممبر گورگیج آزادبلوچ کے صدارت میں منعقد ہوا اجلاس میں قومی سیاسی صورتحال بدلتے ہوئے عالمی سیاست آئندہ کالائحہ عمل اور شال ہنکین کو فعال و متحرک کرنے سمیت اہم ایجنڈا زیر بحث لائے گئے اس موقع پر سابقہ آرگنائزنگ کمیٹی تحلیل کرکے نئی تین رکنی آرگنائزنگ کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا جس کے مطابق آرگنائزر فراز مجید بلوچ اورڈپٹی آرگنائزر گہورام بلوچ منتخب ہوگئے جبکہ آرگنائزنگ کمیٹی کے اراکین میں جیہند بلوچ اور پائند بلوچ شامل ہے اس موقع پر گورگیج آزاد بلوچ اور فراز مجید بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ تنظیم کے منشور و مقاصد کی پاسداری اولین ترجیح ہے ہم ایک جدوجہد سے منسلک ہے بحیثیت ایک مقبوضہ ہماری اوپر بہت بھاری زمہ داریاں عائد ہوتی ہے آج پارٹی زمہ داریوں کے لئے ہمارا انتخاب کسی اعزاز کی بات نہیں ہم روایتی تنظیم کے ممبر نہیں جہاں لوگ عہدوں کو اعزاز سمجھ کر ان کے لئے دست و گریبان ہوجاتے ہیں ایک انقلابی تنظیم کے لئے عہدہ اعزاز نہیں زمہ داریوں کانام ہے انہوں نے کہاکہ تنظیم میں نئے شامل ہونے والے ساتھیوں کوتنظیمی سرگرمیوں کے لئے اپنی کردار ادا کرنی چاہیے روٹین ازم آزاد خیالی قومی عمل سے تھکاوٹ اور بیزاری کے منفی اثرات بر آمد ہوں گے ہمیں ان سے پرہیز کرنی چاہیے
انہوں نے کہاکہ انقلابی تنظیم اپنے ارتقاء پراپیگنڈہ سیل سے شروع کرتے ہیں یہاں تعداد نہیں معیار کی ضرورت ہے اور آہستہ آہستہ تعدا د بھی بڑھ جاتی ہے نئی ساتھی اور نئے باسک تنظیم کو نئے خون فرائم کرتے ہیں کسی بھی تنظیم کی بنیاد ہجوم کی صورت میں منظر عام پہ نہیں آیایہ ایک مراحل سے گزر اس مقام تک آئے ہیں سماج میں ایسے کئی تنظیموں کے مثال موجود ہے لیکن ہمیں اس بات کا خیال رکھنی چاہیے کہ ہمیں گروہی رویوں سے اجتناب کرنی چاہیے اختلاف رائے کو سنجیدگی سے سننا اور دلائل کے ساتھ ایک دوسرے کو قائل کرنی چاہیے اور اختلاف رائے پر جمہوری طریقہ سے بحث سے پھر ایک ہم آہنگی کی سوچ پیدا کرنی چاہیے انہوں نے مزید کہاکہ بلوچ مسئلہ محرومی اور نوکریوں کا مسئلہ نہیں جس طرح کے ریاست کے کاسہ لیس اور جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق بلوچ مسئلہ کے حوالہ سے غلط بیانی کرکے ریاست اور بلوچ مابین قومی تضاد کو چھپانے کی روایتی کوشش کی ہے بلوچ قوم نوکریوں کے لئے جدوجہد نہیں کرر ہی آذادی کے مقابلہ میں نوکریاں اور مراعات کچھ بھی معنی نہیں دیتے بلوچ قومی جدوجہد ایک تاریخی پس منظر رکھتے ہیں بلوچ قوم اتنی بے ضمیر اور بے حس نہیں کہ چند ٹکوں کے لئے اپنی خون بہائے بلوچ قوم کی آزادی کی ایک شاندار جدوجہد ہے یہ 80کے دہائی نہیں کہ چند لوگوں کو بیوروکریسی اور ٹیکنو کریٹ کے کرسیوں کے لئے خریدا گیا آج بلوچ قوم ریاست کی مکاریوں سے واقف ہے بلوچ نوجوان قربانی اور حوصلوں کے ساتھ جدوجہد کررہی ہے اس کی مثالین بھی موجود ہے کہ ایک ہزار سے زائد بلوچ نوجواں کواغواء کرکے حراست کے دوران شہید کیا گیا وہ اپنی جان سے گزر گئے لیکن سمجھوتہ نہیں کی تحریک کے اس پختگی کے دوران بلوچ قوم سے یہ توقع رکھنا کہ بلوچ قوم کو تشدد لالچ اور مراعات سے کمزور کیا جائیگا یہ ریاست کی بھول ہے انہوں نے کہاکہ بلوچ قوم مسئلہ کے حل کے حوالہ سے ریفرنڈم کی مطالبہ کرنے والوں کو سکاٹ لینڈ کے ریفرنٖڈم سے سبق سیکھنا چاہیے بلوچ مسئلہ کسی بھی طور پر سکاٹ لینڈ کے مسئلہ سے بلکل مختلف ہے بلوچ سرزمین نہ تو ریاست کا حصہ ہے اور نہ اپنی مرضی سے اس کے ساتھ شامل ہوہے بلکہ بلوچ قوم کی سرزمین تین ٹکڑوں میں بانٹ کر ان کے مختلف حصوں پر زبردستی قبضہ کیا گیا ہے یہان علیحدگی نہیں آزادی کا مسئلہ ہے آج اگر کوئی بلوچ قوم کے لئے استصواب رائے یا ریفرنڈم کا مطالبہ کرتا ہے جو ہم سمجھتے ہیں کہ مضحکہ خیز ہے بلکہ یہ لوگ ریفرنڈم کی شکل میں بلوچ جدوجہد سے فرار کا راستہ ڈھونڈرہے ہیں انہون نے کہاکہ ہمیں بلوچ رہنماء خیر بخش مری کی مثالی جدوجہد سے سبق سیکھنا چاہیے انہوں نے پوری زندگی آزادی کی سوچ میں وقف کی بلوچ قوم کی بیداری کے عمل کی کو انہوں نے اپنے فکر و فلسفہ سے بہترین نشود نماء کیا ان کا خلاء صدیوں تک پر نہیں ہوگا ہمیں ان کی مشن اور فکر سے وابسطگی کو یقینی بناکر ان کی روح کے ساتھ سوگند لے کر اپنی تمام تر صلاحیتوں کو صرف اور صرف آزادی کی جدوجہد اور ایک آزاد اور جمہوری قومی ریاست کی تعمیر و تشکیل کے لئے استعمال میں لانی چاہیے


