کوئٹہ میں پولیو ورکزپر حملہ انسانیت سوز واقعہ ہے جس میں تین بلوچ خواتین کو نشانہ بنایا گی
29نومبر 2014
بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان کی جانب سے جاری کئے گئے بیان میں کوئٹہ میں پولیو ورکزپر حملہ کو انسانیت سوز واقعہ قرار دیتے ہوئے بلوچ خواتین پر حملہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاگیاہے کہ کوئٹہ میں پولیو ورکز کاٹارگٹ ایک المیہ ہے جس میں گزشتہ دنوں تین بلوچ خواتین سمیت ایک بلوچ فرزند کو ٹارگٹ کیا گیا واقعہ کی کڑیاں کہاں سے ملتی ہے یہ پوری دنیا کو معلوم ہے کہ بلوچستان میں بعض قوتیں جو پہلے ہی سے بلوچ قومی نسل کشی میں کالونائزرکے پراکسی وار کا حصہ ہے اب انہی قوتوں کے زریعہ انسداد پولیو کے خلاف کام کرنے والے ٹیموں کو نشانہ بناکر بلوچ علاقوں کو عالمی برادری کے سامنے بد نام کرنے کی مزموم کوشش کی جارہی ہے کہ بلوچستان میں اب پولیو ورکز عدم تحفظ کا شکار ہے جبکہ دنیا کو معلوم ہونا چاہیے کہ بلوچ قوم انسداد پولیو مہم کے خلاف کسی بھی سطح پر کہیں بھی رکاوٹ نہیں رہا اندروں بلوچستان سمیت تمام علاقوں میں پولیو ورکز آزادانہ طور پر کام سرانجام دے رہے ہیںلیکن گزشتہ سالوں سے پولیو پروگرام کے خلاف نہ صرف چند نادیدہ قوتین مذہب کا نام استعمال کر کے تشہیری مواد تقسیم کررہے ہیں بلکہ اب ان پر باقائدہ حملہ کررہے ہیںاور ان میں سب سے زیادہ بلوچوں کو ٹارگٹ کیا جارہاہے ترجمان نے کہاکہ گزشتہ دنوں معصوم بلوچ خواتین کو جس طرح نشانہ بنایا گیا یہ اسلامی اور انسانی روایات سے بلکل متصادم ہے ے
ترجمان نے کہاکہ حالیہ واقعات نہ صرف ریاست کے نام نہاد دعووں کا پول کھولنے کے لئے کافی ہے بلکہ یہ اشارہ بھی کرتی ہے کہ اس میں کونسی قوتین ملوث ہے اور اس عالمی اور انسانی مسئلہ کو سبوتاژ کرنے کے لئے کس طرح منظم انداز میں باقائدہ منصوبہ بندی کے تحت چند عناصر کو سرگرم کیا گیا ہے اور ان قوتوں کوکس حد تک استثنی حاصل ہے کہ وہ آزادی کے ساتھ پولیو ورکز پر تواتر کے ساتھ حملہ کررہے ہیں ترجمان نے کہاکہ انسداد پولیوپروگرام پولیو وائرس کے خلاف ایک بین الاقوامی مہم ہے اوراسے پوری دنیا میںاقوام متحدہ کی جانب سے عالمی ادارہ صحت اور یونیسیف کی جانب سے چلائی جارہی ہے عالمی آزاد پولیو مانیٹر کو چاہیے کہ وہ بلوچستان میں انسداد پولیو مہم کو سبوتاژ کرنے والے قوتوں کے حوالہ سے غیر جانبدارانہ طور پر تحقیق کرکے واقعہ کے اصل محرکات کو دنیا کو سامنے لانے میں اپنے بین الاقوامی کردار کے ساتھ پولیو مہم کے خلاف سبوتاژی عمل کے اصل منصوبہ ساز وںکی حقیقت کو سامنے لائے کہ کیا کالونائزر اپنی بین الاقوامی تنہائی عالمی معاملات میں محدود اثر ورسوخ خطے میں بدلتے ہوئے نئی عالمی صف بندی اور بلوچ قومی آزادی کے تیزی سے بڑھتے ہوئے بین الاقوامی پزیرائی بلوچ تحریک کی عالمی سفارتی اخلاقی اور سیاسی حمایت کو اپنی شکست تسلیم کرکے ایک نئی نام نہاد ڈاکٹرائن کے ساتھ خطے میں مختلف طریقوں سے خونریزی کو بڑھاوا دیکرخطہ میں عالمی امن ایجنڈہ کو سبوتاژ کرنے کی بلواسطہ کوشش تو نہیں کررہاہ


