×

ایرانی وزیر انٹیلی جنس کا مغربی بلوچستان کے جہد کاروں کااعتراف قتل انسانی حقوق کے علمبرداروں کے لئے چشم کشاہے

ایرانی وزیر انٹیلی جنس کا مغربی بلوچستان کے جہد کاروں کااعتراف قتل انسانی حقوق کے علمبرداروں کے لئے چشم کشاہے

ا

11دسمبر2014
بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ پر مشتمل الائنس بلوچ سالویشن فرنٹ نے اپنے جاری کئے گئے مرکزی ترجمان میں کہاہے کہ ایرانی وزیر انٹیلی جنس کا مغربی بلوچستان کے بلوچ جہد کاروں کا مختلف ممالک میں قتل کا اعلانیہ اعتراف انسانی حقوق کے علمبرداروں اقوام متحدہ اور بشمول یورپی ممالک کے آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے قبضہ گیر ایرانی ریاست کی وحشیانہ کاروائیاں مغربی بلوچستان میں تسلسل کے ساتھ جاری ہے ایرانی ریاست اب تک سینکڑوں بلوچ فرزندوں کو سر عام پھانسی دیکر شہید کرنے کے ساتھ ساتھ کئی بلوچ آزادی پسند دانشور کالم نگار ادیب اور سرگرم سیاسی کارکنوں سمیت نہتے اور معصوم بلوچوں کو شہید کرکے انسانی حقوق کی بدتریں پائمالیوں کا اندوہناک تسلسل جاری رکھتے ہوئے بلوچ عوام کو یرغمال بناکرمنفرد بلوچ تشخص کو ختم کر کے بلوچ قوم کو بلجر فارسی قومیت میں ضم کرنے کی کوشش کررہی ہے ترجمان نے کہاکہ ایرانی ریاست کے غیر انسانی سلوک دنیا کے آنکھوں سے اوجھل نہیںآج کے متحرک میڈیا میں یہ سب کچھ عالمی برادری کے سامنے ہورہاہے لیکن اس کے باوجود انسانی حقوق کے ڈھنڈورا پیٹنے والے انسانی حقوق کے دن کو منانے کے لئے سرگرم عالمی ادارے مغربی بلوچستان میں ایران کے ظالمانہ کردار پر مہر بہ لب ہے ترجمان نے کہاکہ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے علمبردار تنظیمیں اس سارے صورتحال سے آگاہ ہونے کے باوجود ایرانی ریاست کی جنگی جرائم پر مبنی کاروائیوں کو مسلسل نظر انداز کررہے ہیں

جس سے ہمیں سمجھنے میں مشکل نہیں ہوگا کہ عالمی ادارے ان معاملات میں خود کو بری الزمہ سمجھ کر انسانی حقوق کی پائمالیوں کو روکنے کے بجائے اسے بلواسطہ شہہ دے رہیں تر جمان نے کہاہے کہ بلوچ قوم ہزاروں سال سے ایک آزاد و خود مختار وحدت کے مالک رہنے کے ساتھ ساتھ سماجی قومی ثقافتی اور لسانی لحاظ سے منفرد اور الگ تشخص کی حیثیت سے اپنی وجود کو برقرار رکھاہے ہمسائیہ ممالک کے ساتھ ہم مذہب ہونے کے باوجود ہمیشہ اپنی آزادی اور خود مختیاری کی دفاع کی ہے بلوچ قوم ہمیشہ توسیع پسندی اور قبضہ گیری کے خلاف جانثاری کے ساتھ جدوجہد کی ہے حملہ آور چاہے ہم مذہب ہو یاغیر مذہب بلوچ قوم ان کے خلاف یکساں جدوجہد کر کے اپنی سرزمین اور آزادی کی دفاع کی ہے ترجمان نے کہاکہ گزشتہ دنوں پورے دنیا میں دنیا انسانی حقوق کا دن گرم جوشی کے ساتھ منا یاگیالیکن مغربی اور مشرقی بلوچستان میں صورتحال اس کے بلکل برعکس ہے ایران مغربی بلوچستان میں اپنی نوآبادیاتی ریاستی ڈھانچہ کو مضبوط کرنے کے لئے کھلم کھلا انسانی حقوق کی دھجیاں اڑارہی ہے سیاسی گرمیوں پر مکمل پابندی ہے بلوچ فرزندوں کو بے رحمی کے ساتھ شہید کیا جارہاہے بلوچی زبان میں بات اور بلوچی لباس پہننے تک کا حق بلوچوں کو نہیں دیا جارہاہے اخباروں میں انسانی حقوق کی پائمالیوں کے خلاف لکھنے تک کی معمولی آزادی بھی نہیں ہے اقوام متحدہ کے ناخداؤں اور انسانی حقوق کے اداروں کا فرض بنتا ہے کہ وہ بلوچ وطن پر قبضہ گیریت اور دہشت گردی پر مبنی کاروائیوں کی کھل کر مذمت کریں اور بلوچ وطن پر بلجبر قبضہ کے خلاف بلوچ موبلائزیشن کا حصہ بنیں تاکہ بلوچ مسئلہ کاحل بہتر طور پر آزادی کی صورت میں نکلیں ۔