پاکستانی جوہری ہتھیاروں کے خطرناک اثرات کے خلاف عالمی سطح پر بلوچ سفارتی مہم کا ساتھ دیا جائے. بلوچ سالویشن فرنٹ
بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ پر مشتمل الائنس بلوچ سالویشن فرنٹ کے میڈیا سیل کے جاری کئے گئے بیان کے مطابق28مئی’’ یوم مذمت‘‘کے موقع پربلوچستان میں تجرباتی ایٹمی دھماکوں کے خلاف بلوچستان بھر میں یوم سیاہ منائی گئی اور دکانیں اور کاروباری سر گرمیاں بندرہے ’’بلوچ محاذ نجات‘‘بلوچ سالویشن فرنٹ کے دفتر اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے چھوٹے اور بڑے شہروں میں ہڑتال کئے گئے اس موقع پر بلوچ عوام نے علامتی طور پر دکانیں بند کرکے ایٹمی دھماکوں اور بلوچستان میں ریاستی جوہری سر گرمیوں کے خلاف نفرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے احتجاج ریکارڈکیاشال میں بلوچ علاقے بند رہیں تاہم اندروں بلوچستان قلات ، زہری سوراب مچھ، مستونگ دالبندیں پسنی ، حب، نوشکی، منگچر ،زہری ،خضدار، وڈھ، نال، بسیمہ ،خاران، دالبندیں ، ،پنجگور، بلیدہ تمپ ،تسپ، مند، زامران ، ناصر آباد جیونی ، پیشکان ، سربندن پسنی گوادر ،اور کیچ بھر میں مکمل شٹرڈاؤں رہاترجمان نے کہاکہ 28 مئی ایٹمی دھماکوں کے خلاف تاریخی ہڑتال اور یوم سیاہ پر آزادی خواہ بلوچ عوام اورتاجر برادری کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے جمہوری اور پر امن ہڑتال کے زریعہ دنیا کو پیغام دیا ہے کہ جوہری سرگرمیوں کے لئے بلوچ سرزمین کا انتخاب بلوچ مرضی و منشاء نہیں بلکہ ریاست کی بد معاشی تھی بلوچ عوام اپنی سرزمین کو کسی بھی قسم کی جوہری سرگرمی کے لئے استعمال کرنے کے حق میں نہیں اور ایسی تمام تر ریاستی کوششوں کی بھر پور مذمت کرتی ہے بلوچ پاکستانی کیمیائی ہتھیاروں کے لئے بلوچ سرزمین کا ٹیسٹ زون کے طور پر چناؤ
اور اس کے منفی اثرات کے خلاف شروعاتی دنوں سے احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہوئے 28مئی کو یوم سیا ہ کے طور پر مناکر ریاست کے اس عمل کو بلوچ نسل کشی کی مترادف قرار دے چکی ہے ترجمان نے انسانی حقوق کے علمبرداروں اور انسان دوست ممالک سے اپیل کی ہے کہ بلوچستان میں ریاست کی کیمیائی ہتھیاروں کے منفی اثرات کے خلاف عالمی سطح پر بلوچ سفارتی مہم کا ساتھ دیکر بلوچ قوم کی اصولی موقف کی تائید کرتے ہوئے ایک خود مختار بین الاقوامی ادارے یا ایک فیکٹ فائنڈنگ مشن کو بلوچستان بھیجا جائے تاکہ وہ بلوچستان میں ریاست کی ایٹمی تجربات ورونمائی کے بعدپیداہونے والے مہلک اثرات کا جائزہ لیکر تمام تر زمینی صورتحال کا براہ راست مطالعہ اور مشاہدہ کریں تاکہ ریاست کی ایٹمی وحشت سے پردہ ہٹ جائے جبکہ اس سلسلے میں غیر جانبدار سائنسدانوں اور عالمی میڈیا کو بھی اجازت دی جائے تاکہ وہ ایٹمی ہتھیارون کے بلوچ سرزمین پر مرتب ہونے والے مہلک صورتحال کو درست انداز میں رپورٹ کرکے حقائق سے جانکاری حاصل کریں تر جمان نے کہاکہ بلوچ آزادی دوست اور ایک امن پسند قوم ہے ایک آزاد و جمہوری بلوچ ریاست کا قیام دنیا کے حق میں بہتر ثابت ہوگابلوچ عالمی سطح پر بھی ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمہ پر یقین رکھتاہے اور ایک آزاد و جمہوری بلوچستان مستقبل میں عالمی دنیا کے ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمہ اور اور ان کے عدم پھیلاؤ کے حوالہ سے انسان دوست عالمی قوتوں کی کوششوں میں شریک ہونے اور اس غرض سے نئی عالمی قوانیں وضع کرنے میں بھر پور تعاون کریگا


