×

محمد احمد زئی کو خان مقرر کرنے کی کوششیں کٹھ پتلی ریاستی نمائندوں میں ایک اور اضافہ کے سوا کچھ نہیں۔ بلوچ سالویشن فرنٹ

محمد احمد زئی کو خان مقرر کرنے کی کوششیں کٹھ پتلی ریاستی نمائندوں میں ایک اور اضافہ کے سوا کچھ نہیں۔ بلوچ سالویشن فرنٹ

بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ پر مشتمل الائنس بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے ایک بیان میں کہاہے کہ خان قلات میر سلیمان داؤد کی جگہ ان کے بیٹے محمد احمد زئی کو خان مقرر کرنے کی ریاستی کوششیں اپنی کٹھ پتلی نمائندوں میں ایک اور اضافہ کے سوا کچھ نہیں اس طرح کے ڈھونگ حربوں سے بلوچ قومی آزادی کی قانونی و آئینی مطالبہ پر کوئی فرق نہیں پڑے گا اسلام آباد کی جانب سے سلیمان داؤد کے ساتھ مذاکراتی پروپیگنڈہ اور انہیں واپس لانے کی تما م ترنمائشی دعوے فلاپ ہونے کے بعد اب ایک نئی منصوبہ کو کارگر سمجھ کر محمد احمد زئی کے نام کے ساتھ خان کا لاحقہ لگا کر کٹھ پتلی حکومتی سرداروں کے زریعہ اسے طوق غلامی پہنانے کی تقریب رونمائی کی جائیگی محمد احمد پہلے ہی سے ریاست کا نمائندہ اور گماشتہ ہے وہ دیگر سرداروں کے ساتھ پہلے ہی سے اسلام آباد کے جھولی میں بیٹھے ہوئے ہیں تر جمان نے کہاکہ بلوچ سماج میں خان کی حیثیت کھبی بھی حاکم کی نہیں رہی بلکہ وہ بلوچ کنفیڈرنسی کا حصہ رہاہے اورانہیں بلوچ قوم نے اپنی نمائندگی کا اختیار بلوچ نیشنلزم بلوچ دوستی اور وطن دوستی کے ایفائے عہد پر دیاہے اور یہ ایک جمہوری پراسس کا حصہ رہاہے جب کہ میر سلیمان داؤد جو آزادی کے ون پوائنٹ ایجنڈا کے ساتھ بلوچ قومی جدوجہد کا حصہ ہے

ریاست اور ان کے نمائندوں نے خان قلات کو آزادی کے اصولی مطالبہ سے دستبردار کرنے کی لاحاصل کوششیں اور حربہ استعمال کئے اور خود ساختہ قرار دادوں اور پروپیگنڈوں سے عوامی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوششین کی جب کہ ان کے فیملی کے کچھ لوگوں نے شاہ سے شاہ کی وفاداری کرتے ہوئے ان کے منصب و مقام کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ریاست کو باور کرانے کوشش کی کہ خان قلات کو ریاستی تسلط کو تسلیم کرنے پر راضی کریں گے لیکن سلیمان داؤد نے ریاست اور ان کارندوں کو دوٹوک اور صاف جواب دیا کہ وہ آزادی کے اصولی اور آئینی موقف پر قائم ہے جس سے ریاست اوران کے حواریوں میں ایک بے چینی پیدا ہوچکی ہے اور اپنی ناکامیون کو چھپانے کے لئے محمد احمد کو کٹھ پتلی خان مقرر کرکے یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ تمام سردار اور نوابوں کے ساتھ اب انہیں خان کا بھی حمایت حاصل ہے ترجمان نے کہاکہ بلوچ عوام نہ تو کٹھ پتلی سرداروں کے ساتھ ہیں اور نہ ہی کٹھ پتلی خان محمد احمدکے ساتھ ہیں بلکہ بلوچ اپنی آزادی شناخت اور قومی بقاء کے لئے جاری جدوجہد کا ساتھ ہے بلوچ قوم کے نمائندہ اسلام آباد کے جھولی میں بیٹھنے والے سردار کٹھ پتلی متوقع خان اور پاکستانی پارلیمنٹ کا حصہ بننے والے گماشتہ نہیں بلکہ بلوچ قوم کے نمائندہ وہی ہے جو ان کے آزاد و روشن مسقبل کے لئے جدوجہد کررہے ہیں ترجمان نے کہاکہ قلات تاریخی محل پر حملہ قابل مذمت ہے قلات شاہی محل پر حملہ ڈکیتی اور لوٹ ماری میں براہ راست ریاستی ہاتھ اور ان کے مقامی گماشتہ ملوث ہے اور تاریخی تخت اور دیگر قومی نوادرات کو لوٹنے کا بہیمانہ عمل گزشتہ دنوں کے بیان کا ایک مضبوط کڑی ہے جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ محمد احمد کو خان کی مسند پر بٹھا یا جائیگا یہ لوٹ مار اسی تیاریوں کا سلسلہ ہے تاریخی تخت کولیجانے کا عمل صاف ظاہر کرتا ہے کہ کونسی قوت اور کونسے چہرے زمہ دار ملوث ہیں اور ان کے مقاصد اور ایجنڈا کیا ہے ترجمان نے کہاکہ اس طرح کے حربہ زائد المیعاد ہوچکے ہیں یہ بلوچ قوم کے لئے کوئی نئی بات نہیں1948 اور 50کے دہائی میں بلوچ قوم کی تاریخی اور یادگاری مقام کو ریاست کی جانب سے نشانہ بنایا گیا تھا بے معنی اور کھوکھلے حربوں اور منصوبوں سے بلوچ قومی جدوجہد کے تسلسل میں کوئی اتار چڑھاؤ پیدا نہیں کیا جاسکتا ۔

Previous post

تین ممالک کے سرحدوں میں تقسیم بلوچ جغرافیہ کی آزاد ی شہداء کا ارمان ہے متحدہ اور آزاد بلوچ ریاست کے قیام کے لئے جدوجہد تیز کرنا – بلوچ سالویشن فرنٹ

Next post

ریذیڈنسی حملہ میں قوم دوست رہنماء حیر بیار مری کو نامزد کرنے کی مذمت فرضی مقدمات آزادی بارے دوٹوک اور واضح موقف پر اثر انداز نہیں ہو سکتے۔بلوچ سالویشن فرنٹ