×

ہمیں اپنی تنظیمی زمہ داریوں کو ہمت اور بہادری کے ساتھ نبھاتے ہوئے قومی آزادی کی جدجہد میں اپنا سیاسی کردار بھر پور طریقہ سے ادا کرنا چاہیے اور ہمیں سیاسی فکر کے ساتھ لوگوں کی تعلیم و تربیت اور انہیں انقلابی لٹریچر بہم پہنچانے اور قومی آزادی کے حوالہ سے ش

ہمیں اپنی تنظیمی زمہ داریوں کو ہمت اور بہادری کے ساتھ نبھاتے ہوئے قومی آزادی کی جدجہد میں اپنا سیاسی کردار بھر پور طریقہ سے ادا کرنا چاہیے اور ہمیں سیاسی فکر کے ساتھ لوگوں کی تعلیم و تربیت اور انہیں انقلابی لٹریچر بہم پہنچانے اور قومی آزادی کے حوالہ سے ش

17.3,2013
بلوچستا ن انڈیپینڈنس موومنٹ زہری ھنکین کی آرگنائزنگ باڈی تشکیل دے دی گئی اجلاس کی صدارت بلوچستا ن انڈیپینڈنس موومنٹ کے مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی کے ممبرشیہک بلوچ نے کی اجلاس میں علاقائی و عالمی سیاسی صورتحال تنظیمی امور اور قومی آزادی کی جدوجہد میں سیاسی تنظیم کی اہمیت وضرورت و آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالہ سے مختلف ایجنڈے زیر بحث لائے گئے بعد ازان ایک آرگنائزنگ باڈی کا قیام عمل میں لایا گیا جس کے مطابق زگرین بلوچ آرگنائزر اور زامران بلوچ ڈپٹی آرگنائزر منتخب کئے گئے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شیہک بلوچ نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ ہمیں اپنی تنظیمی زمہ داریوں کو ہمت اور بہادری کے ساتھ نبھاتے ہوئے قومی آزادی کی جدجہد میں اپنا سیاسی کردار بھر پور طریقہ سے ادا کرنا چاہیے اور ہمیں سیاسی فکر کے ساتھ لوگوں کی تعلیم و تربیت اور انہیں انقلابی لٹریچر بہم پہنچانے اور قومی آزادی کے حوالہ سے شعور و آگائی مہم میں تیزی لانے چاہیے کیونکہ بحیثیت ایک سیاسی پارٹی یہ ہماری زمہ داریوں میں شامل ہے کہ پارلیمانی جماعتوں کے آلودہ سیاست کو سبوتاژ کرنے اور ان کے غیر فطری اور بوسیدہ نعروں کو بے نقاب کرکے قوم کے سامنے ان کی جعلی نعروں اور سیاست کی اصلیت اور حقیقت کو آشکار کرنا چاہیے انہوں نے کہا کہ طویل غلامی نے بلوچ سماج میں جس قدر انتشار بحران مایوسی خوف برادر کشی جیسے بیماریوں کو جنم دیا ہے ہمیں ان ناسور اور موذی امراض کے خلاف بھر پور جدوجہد کرکے وسیع پیمانے بلوچ عوام کو تحریک آزادی سے منسلک کریں شیہک بلوچ نے کہا کہ قومی غلامی سے نجات کے لئے لامتنائی قربانیاں درکار ہوتی ہے ہمیں اپنی تمام تر توانیاں قومی آزادی کے لئے بروئے کار لانا چاہیے حتی کہ آخری قربانی سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہیئے انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس شہداء کا فکر وفلسفہ موجود ہے جنھیں مشعل راہ بناکر ان سے استفادہ کیا جاسکتاہے انہوں نے شہید آغا محمود خان احمدزئی کا مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان کے شہادت المیہ تو نہیں البتہ خلاء ضرور ہے ایسے عظیم مدبر و دانشور صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں انہیں دو سال ہوگئے ہمارے سرکل سے جدا کئے گئے لیکن ہم اپنے حلقوں میں ان کی کمی شدت سے محسوس کررہے ہیں تحریک میں ان کا کردار صف اول کا تھا ان کے انقلابی سرکلوں نے کئی نوجوانوں کو اپنا گرویدہ بنالیا تھا آج آغا محمود خان احمد زئی ہمارے درمیان موجود نہیں لیکن ان کی روح اور فکرہماری رہنمائی کررہی ہے وہ ایک مدبردانشور اور سرفروش تھے جنھون نے دشمن کی طرف عطاکردہ خیراتی زندگی کو ٹھوکر مار کر امر ہوگئے ہمیں شہید آغامحمود خان سمیت تمام بلوچ شہداء جنھوں اپنی جان مال اور زندگی آذادی کے حصول کی جدوجہد میں قربان کیا ہمیں ان کی فکری وعملی رہنمائی میں آگے بڑھ کر ریاستی باج گزارسوداگر پارلیمانی پارٹیوں کے جعلی کردار کو عوام کے سامنے بے نقاب کرنا چاہیے

Previous post

شہدائے ڈیرہ بگٹی اور شہید مجید ثانی لانگوکی غیر معمولی قربانیاں ہمارے لئے مشعل راہ کی حیثیت رکھتے ہیں ترجمان بلوچ سالویشن فرنٹ

Next post

27مارچ 1948کے دن مشرقی بلوچستان کو جبری الحاق کے زریعہ پاکستانی ریاست میں شامل کیا گیا جس میں مجموعی طور پر بلوچ قوم کا رضا و منشاء شامل نہیں تھا ترجمان بلوچ وطن موومنٹ