×

بلوچ عوام یوم شہدائے بلوچستان کے مناسبت 13نومبر کو جوش و جذبہ و تجدید عہد کے ساتھ منائیں اقوام متحدہ بلوچ ریاست کو13 نومبر1839 سے قبل والی پوزیشن پر بحال کرکے بلوچ قوم کے اصولی سیاسی اور سفارتی موقف کو تسلیم کریں بانک زمور آزاد بلوچ

بلوچ عوام یوم شہدائے بلوچستان کے مناسبت 13نومبر کو جوش و جذبہ و تجدید عہد کے ساتھ منائیں اقوام متحدہ بلوچ ریاست کو13 نومبر1839 سے قبل والی پوزیشن پر بحال کرکے بلوچ قوم کے اصولی سیاسی اور سفارتی موقف کو تسلیم کریں بانک زمور آزاد بلوچ

چار سالوں سے بلوچ قوم اپنے آزادی کے جانثارشہیدوں کادن 13 نومبر کو یوم شہدائے بلوچستان کے طور پر انتہائی عقیدت واحترام اور جوش و جذبہ سے منارہی ہے بلوچ و پشتون 13 نومبر کو بلوچ سالویشن فرنٹ کے اپیل پر اپنی دکانیں اورکاروباری مراکز بند کرکے ہڑتال میں ساتھ دیں بلوچ عوام یوم شہدائے بلوچستان کے مناسبت 13نومبر کو جوش و جذبہ و تجدید عہد کے ساتھ منائیں ان خیالات کا اظہار بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ایگزیکٹو باڈی کے ممبر بانک زمور آزاد بلوچ نے کوئٹہ پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا کہ انہوں نے کہاکہ گزشتہ چار سالوں سے بلوچ قوم اپنے آزادی کے جانثارشہیدوں کادن 13 نومبر کو یوم شہدائے بلوچستان کے طور پر انتہائی عقیدت واحترام اور جوش و جذبہ سے منارہی ہے بلوچ شہداء کے برسی کے حوالہ سے ایک مشترکہ دن کا انتخاب نہ صرف ایک تاریخی فیصلہ ہے بلکہ اس دن کی بلوچ قومی تاریخ میں اپنی ایک الگ اہمیت پہلے سے موجو د ہے جہان اس دن کے چناؤ کافیصلہ بلوچ شہدائے آزادی کے طویل فہرست کو مدنظر رکھ کیا گیا وہاںیہ بھی اہمیت کا حامل ہے کہ اسی دن1839کوغلامی کے اولین ابتدا ہوئی اور اسی دن بلوچ مملکت کے فرمانروا شہید محراب خان انگریزی قبضہ اور تسلط کے خلاف دوران مزاحمت شہید کئے گئے 13نومبر کی قربانیاں بلوچ جدوجہد کی بنیاد ہے اور یہ ہماری تاریخ کا ناقابل فراموش حصہ ہے جب خان بلوچ محراب خان شہید اور ان کے ساتھیوں نے بلوچ قوم کی آزادی اور خود مختاری پر سمجھوتہ نہ کرکے ایک بڑی طاقت برٹش توسیع پسندوں کے ساتھ جنگ کی ابتدا کی جن کے بارے میں مشہور تھا کہ ان کی سلطنت میں سورج کھبی غروب نہیں ہوتالیکن بلوچ قوم اپنی آزادی کو ان کے جھولی میں ڈالنے کے بجائے آزادی کی حفاظت کو ترجیح دی اس دن کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جدوجہد آزادی کی تاریخی عمل کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کی ایک طویل ترین فہرست موجودہے اس لئے بلوچ شہداء کے مشترکہ برسی کے مناسبت سے 13 نومبرکے انتخاب کا تناظر یہی بنتا ہے کہ ہزاروں شہداء کے الگ الگ برسی منانے کے لئے اگر سال کے کل 365دن کو بھی منتخب کیا جائے تو وہ کم پڑتے ہیں

اس لئے بلوچ آزادی خواہ قیادت نے سر جوڑ کر بلوچ شہداء کی برسی کے لئے 13نومبر کے دن پر اتفاق کرتے ہوئے تین سال پہلے باضابطہ طور اس کا اعلان کرکے اسے عملی جامہ پہنا یا جو کہ بلوچ قوم اب ہرسال اپنے شہداء کو اپنے اپنے انداز میں تجدید عہد اور قومی عزم کے ساتھ ان کے قربانیوں کے اعتراف میں بھر پور انداز میں خراج تحسین پیش نکرتے ہیں 1839 سے بلوچ اپنی آزادانہ اور جداگانہ شناخت اور مرکزیت کے لئے نوآبادیاتی طاقتوں کے خلاف جدوجہد کررہی ہیں بدقسمتی سے آج بھی اکیسویں صدی کے اس روشن عہد میں بلوچ اپنی پیدائشی اور قانونی حق آزادی سے محروم ہے اور غلامی کی زندگی بسر کررہے ہیں اور آزادی کی جدوجہد کی پاداش میں بلوچ قوم ایک طویل جنگ کا سامنا کررہاہے جو براہ راست بلوچ نسل کشی پر مبنی ہے بلوچ قوم کی تاریخ شناخت زبان اورکلچر کو مسخ کیا جارہاہے بلوچ دانشور طالب علم کیڈر استاد اور سرگرم سیاسی کارکن اور سکلڈ افراد کو شہید کیا جارہاہے جو بھی بلوچ اپنی آزادی کی بات کرتاہے جو ان کی جمہوری وسیاسی حق بنتا ہیاور یہ حق انہیں اقوام متحدہ اور دنیا کے تمام آزادی اور انسان دوست ادارے حتی کہ عالمی قوانین بھی ان کے جائز واصولی مطالبہ کو رد نہیں کرتے لیکن یہان معاملہ بلکل متضاد ہے آججو بھی بلوچ سیاسی کارکن اپنی آزادی کی بات کرتاہے اس کی گردن زنی کی جاتی ہے اسے شہید کیا جاتاہے حالانکہ ان کا مطالبہ بلکل جائز اور قانونی ہے دنیا کاکوئی بھی قانوں انہیں اپنی آزادی کی جدوجہد سے نہیں روکتاسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کب تک زمینی حقائق کو مکیا جاسکتا ہے آج بلوچ قوم کی آزادی کے اصولی موقف انٹر نیشنل کمیونٹی ا قوام عالم ااور مہذب دنیاکے سامنے اتنی واضح ہیں جسے مسخ کرنا ریاست کے لئے نہ صرف مشکل بلکہ نا ممکنات میں ہیں بلوچ تحریک کو کاؤنٹر کرنے کے لئے جہان پرتشددانہ کاروائیاں کی جارہی ہیں وہاں ریاستی کو تسلط کو جواز دینے کے لئے عوامی اور عالمی سطح پر پروپیگنڈہ کرکے بلوچ تحریک آزادی سے انکار کرکے ریاست آزاد بلوچ وطن کے مطالبہ کو کاؤنٹر کرنے اور دبانے کے لئے بلوچ مووومنٹ کو پراکسی قرار دینے کے بے بنیاد کوشش کررہے ہیں لیکن تاریخ کی ورق گردانی سے یہ بات روزروشن کی طرع عیان ہے کہ قوموں کی آزادی کی جدوجہد کو بے بنیاد اور غیر منطقی پروپیگنڈوں سے کمزور نہیں کیا جاسکتا نوآبادیاتی طاقتوں کا یہ شیوہ ہمیشہ سے رہاہے کہ وہ آزادی کی تحریکوں سے نفسیاتی سیاسی اور اخلاقی شکست مول لینے کے بعد من گھڑت اور بناوٹی پروپیگنڈون کا سہارا لیتے ہیں دنیا کے مختلف خطوں کے قبضہ گیر کے فطرت اور زہنیت میں یہی مماثلت اور قدر مشترک پایا جاتاہے یہ پرتگال کے خلاف انگولا کی آزادی کی تحریک ہوفلپائن کی اسپین کی خلاف جدوجہد ہویا گولڈ کوسٹ اور کوریائی عوام یا الجزائر کی آزادی کی تحریکیں ہو ان کے تحریکوں کے بارے میں نوآبادیاتی طاقتوں کا یہی رویہ رہا جو آج بلوچ قوم اور بلوچ تحریک کے بارے میں ریاستی پروپیگنڈہ مہم ہے۔انہوں نے کہاکہ 13 نومبر یوم شہدائے بلوچستان کے برسی کے مناسبت سے بلوچ و پشتون عوام تاجر برادری بلوچ جہد آزادی کے شہداء کے قومی دن کے احترام میں13 نومبر کو شٹر ڈاؤن ہڑتال کے سلسلے میں اپنی دکانیں کاروباری اور تمام تر تجارتی مراکز بند رکھ کر بلوچ سالویشن فرنٹ کے اپیل کو موثر اور کامیاب بنانے میں ہمارے ساتھ دیں انہوں نے کہاکہ بلوچ عوام وطن کی آزادی کی تاریخی مطالبہ کے دوران شہادت کا اعزاز حاصل کرنے والے تمام معلوم و نا معلوم بلوچ شہداء کو ان کی جذبہ آزادی استقامت اور بے لوث جدوجہد پریکسوئی اور حوصلہ کے ساتھ خراج عقیدت پیش کریں انہوں نے کہاکہ اس موقع پرہم عالمی برادری اقوام متحدہ یورپی یونین اور خطے میں امن قائم کرنے والے اداروں اور قوتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بلوچ قومی مسئلہ کو ان کی تاریخی پس منظر بلوچ شہداء کی لازوال جدوجہد اوربلوچ آزادی کی تحریک کو مدنظر رکھتے ہوئے بلوچ مرضی ومنشاء کے مطابق حل کر نے کے لئے سنجیدہ اقدامات کرکے بلوچ قومی ریاست کو13 نومبر1839 سے قبل والی پوزیشن پر بحال کرکے بلوچ قوم کے دیرینہ اصولی سیاسی اور سفارتی موقف کو تسلیم کرین اور یہی بلوچ مسئلہ کا واحد اور ناگزیر حل ہے ۔

Previous post

13نومبر یوم شہدائے بلوچستان کے مناسبت سے بلوچ سالویشن فرنٹ کی شٹر ڈاؤں ہڑتال کو کامیاب بنائی جائے.میر قادر بلوچ مرکزی سیکریٹری جنرل بلوچ سالویشن فرنٹ

Next post

بلوچ سالویشن فرنٹ کے اپیل پر شٹر ڈاؤن ہڑتال بلوچ سرفروش شہداء کو خراج تحسین پیش کیا گیا شہدائے بلوچستان کے موقع پربلوچ آزادی خواہ عوام نے یکسوئی اور یکجہتی کے اعلی مثال قائم کی۔بلوچ سالویشن فرنٹ