بلوچ ادباء کو صباء دشتیاری جیسے استاد اور زانت کار کی کردار اور عمل سے رہنمائی لینی چاہیے
بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے بیان میں کہا ہے کہ شہید ء کندیل استاد صباء دشتیاری بلوچ جہدآذادی کے محازپر ایک نظریاتی استادکی طورپرایمانداراورثابت قدمی کے ساتھ جدوجہد کی آزادی کے لئے ان کی بیش بہا خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گے صباء جیسے لوگ جسے ریاست اور ریاست کے گماشتوں کی جانب سے مختلف حربوں کے زریعہ سے جہد آزادی کے صفوں سے نکلنے کے دھمکیاں اور تھریڈ دی گئی لیکن تمام تر ریاستی دباؤ اور جبرکے باوجود استاد صباء نے جدوجہد کے صفوں میں رہ کر جدوجہد کونئے خون اور تازہ دم ریکرومنٹ دی ترجمان نے کہاکہ شہید صباء دشتیاری سمیت جون کے مہینے میں شہادت کے رتبہ سے سرفراز ہونے والے بلوچ سپوت طارق بلوچ احمد مری ظہیر بلوچ اور امان اللہ مینگل کوغیر متزلزل کردار اور قربانیوں پر شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہو ئے کہاکہ شہداء نے آزادی اور انقلاب کو اپنا اوڑھنا بچھونا سمجھ کر بلوچ نوجوان زہنوں کا نظریاتی معیار بڑھانے اور انہیں آزادی کے صفوں میں شامل کرنے کو اپنا فرض عین سمجھتے ہوئے خلوص کے ساتھ اپنی علمی سیاسی و ادبی کاوشوں کو بروئے کار لاکر مسلسل آزادی کے ایجنڈاپرڈٹے رہے ان کی فکر و فلسفہ مشعل راہ ہے ترجمان نے کہا کہ شہید صبا دشتیاری کا کردار اور جدوجہد بلوچ سماج کے ان ادیبوں سے بلکل الگ اور منفرد ہے جو ادب اور زانت کے نام پر بلوچ اور ریاست کو لازم و ملزوم قرار دیکر علم اور زانت کی دھجیاں بکھیر رہے ہیں
بلوچ ادباء کو صباء دشتیاری جیسے استاد اور زانت کار کی کردار اور عمل سے رہنمائی لینی چاہیے انہیں ان کی زندگی جدوجہد اور قربانیوں سے سیکھنے کی ضرورت ہے جو ریاستی دھونس و دھمکیوں کے باوجود آزادی کا راستہ نہیں چھوڑا اور اسی راہ عمل میں اپنی جان قربان کی جو ان کی علم زانت اور ادب سے والہانہ محبت کا ثبوت ہے وہ زانت اور ادب کی حقیقی روح کے ساتھ وفاء کرتے ہوئے دنیا کے نامور ادیبوں کی فہرست میں اپنی نام تاریخ کے سنہرے الفاظ میں شامل کروایاان کے نام اورآخری یادگار ہزاروں سال تک لوگوں کے لئے عقیدت اور احترام کا باعث بنے گی ترجمان نے کہاکہ شہید صباء دشتیاری اپنی علمی صلاحیتوں کا بھر پور استعمال کرتے ہوئے بلوچ نوجوانو ں کو سائنسی بنیادوں پر تربیت و تعلیم دیکر آزادی کی جدوجہد کی طرف راغب کیا جس کی وجہ سے رد انقلابی اور مصلحت پسند روایتی پارٹیوں کے حوصلہ پست ہوگئے ان کے حلقوں میں شدید اضطراب اور بے چینی پھیل گئی نوجوان ان کے صفوں سے نکل کر آزادی کی عملی جدوجہد کی طرف گامزن ہوگئے جبکہ صباء دشتیاری ہر لمحہ اور ہر مقام پر جہد آزادی کے صفوں میں بلوچ عوام کے شانہ بشانہ رہیں ان کی مثالی کردار سے بلوچ تحریک آزادی کو نہ صرف نظریاتی سنگت اور باسک ہاتھ آئے بلکہ تحریک کو نئے خون شکتی اور توانائی مل گئی


